کالم

نجس پیالہ

ادبِ معلّیٰ
نذر حافی
Bowlمیں اکثر میز تحریر پر اپنے سر کو ٹیکنے کے بعد دماغ کی کھڑکی سے اپنا دائیاں ہاتھ باہر نکال دیتا ہوں۔اس وقت مجھے بار بار بس کا وہ ڈرائیور یاد آتا ہے جو سواریوں کو کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالنے پر روکا اور ٹوکا کرتا تھا۔میں کافی دیر تک اپنا ہاتھ فضا میں گھما کر آنے والے کل کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔با لآخر میں دائیں ہاتھ کو اندر کھینچ کر دماغ سے بایاں ہاتھ باہر نکال کر ماضی کی تاریخ کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس مرتبہ بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
پھر میں اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر میز تحریر پر بیٹھ کر اس ڈرائیور کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں جو مجھے بچپن میں بس کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالنے دیتا تھا۔
بس کی کھڑکی اور دماغ کی کھڑکی دونوں ایک جیسی ہیں یا مختلف۔۔۔؟ ڈرائیور کہتا تھا کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالناتمہاری جان کو خطرہ ہے۔اب لوگ کہتے ہیں کہ دماغ کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالنا تمہارے ایمان کو خطرہ ہے۔
کچھ سال پہلے ایران کےمدرسہ فیضیہ میں ایک بچے نے پانی پیا تو لوگوں نے اس کے پیالے کو توڑ دیا۔۔۔
کہا پیالہ نجس ہو گیا ہے۔۔۔
بھئی اگر نجس ہو گیا ہے تو دھو لیجئیے،چلیئے سات مرتبہ دھو لیجئے،چلیئے،مٹی سے مانجھ لیجیئے۔۔۔
لیکن شائد ان کے نزدیک یہ نجاست پانی یا مٹی سے دور ہونے والی نہیں تھی۔
کیوں ؟
اس لیے کے اس بچے کا باپ فلسفہ پڑھاتاتھا۔
یعنی کیا؟
یعنی یہ کہ عقل کی کھڑکی سےباہر ہاتھ نکالتا تھا۔ہاں تو میرے دوستوں!
یہ فیصلہ ہے میرے معاشرے اور میرے ملک کا کہ عقل کی کھڑکی سے باہر ہاتھ نہیں نکالنا۔
یہ فیصلہ اپنی جگہ محفوظ ہے اور ہم بھی اجتماعی عدالت کےاحترام کے قائل ہیں۔
لیکن عقل۔۔۔
عقل کہتی ہے کہ اگر تم کھڑکی سے باہر ہاتھ نہیں نکالو گے تو دوسرے تمہیں کلائی سے پکڑ کر گھسیٹتے پھریں گے۔
عقل کہتی ہے ،ہاتھ پاوں مارو،حرکت کرو،اس لیے کہ حرکت زندگی ہے۔
معاشرہ کہتا ہے ،ہوں !ہاتھ پاوں نہ مارنا،حرکت نہ کرنا،حرکت کے بغیر بھی ایک زندگی ہے اور تم وہی زندگی گزارو۔۔۔ تم زندہ رہو حرکت کے بغیر۔۔۔اگر ہاتھ پاوں مارو گے تو ہاتھ اور پاوں کاٹ دئیے جائیں گے۔
بس ۔۔۔بس۔۔۔ عقل حیران ہے۔۔۔پریشان ہے کہ اگر ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں تو پھر ہاتھ پاؤں کا فائدہ کیا۔
ٹھہرئیے،ٹھہرئیے ابھی دروازے پر یا دماغ پر دستک ہو رہی ہے۔پتہ نہیں دماغ پر یا دروازے پر۔
میرے اُٹھنے سے پہلے دروازے سے اندر ایک لفافہ پھینک دیا گیاہے۔
لفافے میں ایک خط ہے،خط میں ایک سوال ہے کہ ہمارا ملک خراب ہے یا معاشرہ؟
مجھے جواب سے غرض نہیں سوال پڑھ کر خوشی ہوئی۔
اس لیے کہ ابھی سوال کرنے والے موجود ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک اور معاشرہ دو الگ چیزیں ہیں۔دونوں کا جغرافیہ اور سرحدیں مختلف ہیں۔ممکن ہے ایک شخص ملک کا مجرم ہو لیکن معاشرے کا محسن۔
دوبارہ میز تحریر پر بیٹھنے ہی والا تھا کہ پھر دستک شروع ہو گئی۔
میں دروازے کی جانب مڑا اورپھر ایک لفافہ اندر آگیا۔
یہ لفافہ تھا یا پتھر۔۔۔
لفافہ ہی تھا لیکن لفافے میں ایک پتھر بھی تھا۔اس میں لکھا تھا کہ میرے سوال کا جواب نہ دینا،اس لیے کہ کسی کے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں ۔
اس نے کہا تھا کہ جواب نہ دینا لیکن میں جواب دینے پر مجبور ہو گیا۔
میں فوراً میز تحریر پر جھکا۔میں نے لکھا برادرِ محترم !یہ ٹھیک ہے کہ لوگوں کی اکثریت کے پاس پڑھنے اور مطالعہ کرنے کا وقت نہیں لیکن وہی اقلیت جو پڑھتی اور مطالعہ کرتی ہے،ہمیشہ اکثریت پر حکومت کرتی ہے۔۔۔
میں نے نامہ لکھا اور لفافے میں لپیٹ کر باہر پھینک دیا۔۔۔
لیکن دروازے کی دوسری طرف حلوائی کا کتا بیٹھا دھوپ تاپ رہا تھا،کتے نے لفافہ سونگھا اور اُٹھا کر بھاگ گیا۔۔۔
کتے سے حلوائی نے لفافہ وصول کیا اور اسے اپنی دانست کے مطابق خیرو برکت کا تعویز سمجھا،اس نے یہ تعویز اپنی دکان پر آویزاں کردیا۔
یوں جو نامہ خفیہ طور پر لفافے میں ڈال کر ارسال کیا گیا تھا،دھوبی کی دکا ن پر سرِعام آویزاں کر دیا گیا۔۔۔
مدتوں بعد میں نے اپنی کتابوں کی الماری میں دیمک زدہ ایک ڈائری کے ایک صفحے پر لکھاہوادیکھا کہ جولوگ اپنےکندھوں پر کتابوں کی بوری لئے پھرتےرہتے ہیں ،ان کا سارا ہم و غم کتابیں پڑھنا پڑھاناہی رہ جاتاہے۔جب ایک کتاب ختم ہوتی ہے تو ان کا علم بھی ختم ہوجاتاہے۔جب ان کا علم ختم ہوجاتاہے تو انہیں ایک اور کتاب کی ضرورت پڑھ جاتی ہے۔یہ اسی کو علم کہتے ہیں اور اپنے آپ کو عالم۔میں ابھی کشفِ لاشعور کے چکر میں "فراتر از کتاب” اور ماوراءِ علم کے بارے میں سوچ ہی رہاتھا کہ آسمان سے ٹوٹتے ستارے کی مانند میری سوچ کی کہکشاں سےکوئی یاد ٹوٹی اور کہیں کھوگئی۔اپنی ” ایک بھولی بسری یاد "کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب میں حلوائی کی دکان پر پہنچا تو اس کی دیوار پر وہی نامہ لٹک رہا تھا۔
میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس نامےپر کسی نے اس عبارت کا اضافہ کردیا تھاکہ وہ پڑھی لکھی اقلیت کہاں ہے!؟ ہمارے ہاں تو کثرت سےہر طرف” ان پڑھ گدھے” لیڈر بنے پھر رہے ہیں۔
میں نے بھی اس کے نیچےمزید ایک سطر کا اضافہ کر دیا کہ جہاں پر پڑھنے لکھنے والے اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور لوگوں کا شعور بلند نہ کریں وہاں پر گدھے ہی لیڈر ی کیا کرتے ہیں۔۔۔
اگر ایران کے پڑھے لکھے لوگ اپنی ملّی تہذیب, قومی زبان اور سیاسی افکار کی حفاظت نہ کرتے، ہاتھوں پر ہاتھ دھرے اپنی قسمت کا شکوہ کرتے رہتے،اپنی عوام کا شعور بلند نہ کرتے اورہاتھ پاؤں نہ مارتے تومدرسہ فیضیہ میں آج بھی پیالے ٹوٹ رہے ہوتےاور ایران میں گدھے ہی لیڈری کرتے رہتے۔۔۔
کہیں پر بھی لوگوں کا شعور بلند کئے بغیر گدھوں کی لیڈری ختم نہیں ہوسکتی۔

ایک تبصرہ

  1. ۱۴ اگست کا طلوع ہوتا سورج
    تحریر نذر حافی nazarhaffi@yahoo.com
    بات سیدھی سی ہے کہ مجھے ظالم لوگ درندوں کی طرح نوچ رہے تھے، میرے گھر میں آگ لگی ہوئی تھی، میری دینی روایات پامال ہورہی تھیں، میری عزت سرعام نیلام ہورہی تھی، میرے گلے میں جرائم کا طوق اور کاندھوں پر الزامات کا بوجھ تھا، میں دربدر مارا مارا پھر رہا تھا، میرا کوئی وطن اور کوئی ٹھکانا نہ تھا، میرے خون سے زیادہ گائے کا خون محترم تھا، میری جان سے زیادہ مال مویشی قیمتی تھے۔ میرا جرم میرا قصور یہ تھا کہ میں اِسلام کا نام لیتا تھا اور مسلمان کہلواتا تھا، لوگ میرے دین کا مذاق اڑاتے تھے، میری عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتے تھے ایسے میں نظیر اکبر آبادی اقبال، حالی اور محمد علی جناح جیسے لوگ میری مدد کو اُٹھے اُنہوں نے میرے زخم سہلائے، مجھے میری منزل کا پتا بتایا، میرے حوصلوں کو بلند کیا، اُنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میں ہی فرزند ِ اسلام ہوں ، میں ہی معمارِ بشریت ہوں اور میں ہی اللہ کے آخری دین کا حقیقی وارث ہوں۔
    چنانچہ میں اُٹھ کھڑا ہوا، میں نے ظالموں اور غاصبوں کے خلاف اعلان بغاوت کردیا، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہوگیا، میں نے اسلام کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ کردیا، میں ایک ایسے ملک کے خواب دیکھنے لگا جہاں اسلام ہی اسلام ہوگا، جہاں مواخاتِ مدینہ جیسی مواخات ہوگی، جہاں بزمِ رسالت جیسی مساوات ہوگی، جہاں مسندِ اقتدار پر دیندار لوگ جلوہ افروز ہوں گے، جہاں عدل و انصاف کا پرچم لہرائے گا، جہاں کالے اور گورے کی تمیز نہیں ہوگی، جہاں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا، جہاں مذہب کی مذہب سے دشمنی نہیں ہوگی، جہاں انسان کا انسان سے بیر نہیں ہوگا، جہاں جیلوں میں کوئی بے گناہ نہیں ہوگا، جہاں دیہاتوں میں کوئی جاہل نہیں ہوگا، جہاں شہروں میں کوئی فتنہ نہیں ہوگا، جہاں اداروں میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی، جہاں پولیس رشوت نہیں لے گی، جہاں فوج عوام کو گولیاں نہیں مارے گی، جہاں عزّت و شرف کا معیار تقویٰ ہوگا، جہاں مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوگی اور جہاں دودھ میں پانی نہیں ملایا جائے گا
    میرا یہ خواب ہر غاصب کو ناگوار گزرا، میرا آزادی کا نعرہ ہر ظالم کو برا لگا، چنانچہ مجھے سامراجی شکنجوں میں کسا گیا، مجھے ٹارچر سیلوں میں زد و کوب کیا گیا، مجھے گلیوں اور بازاروں میں رسواءکیا گیا، مجھے مقدس عبادت گاہوں کے اندر خون میں نہلایا گیا، مجھے عزّت کی ضربیں لگائی گئیں، مجھے غیرت کے زخم لگائے گئے لیکن میں مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی رہا، میری زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، ”لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان“ اور میرے دل میں صرف ایک ہی عشق موجزن تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“۔
    میرے شہر جلے، میری عزّت و ناموس داغدار ہوئی، میری جائیدادیں تباہ ہوئیں، مجھے ہجرتیں کرنی پڑیں، میں نے آگ اور خون کا دریا پار کیا اور تب جاکر مجھے میر پیارا وطن پاکستان نصیب ہوا، تب جاکر 14اگست1947ءکا وہ حسین سورج طلوع ہوا کہ جس نے میری سسکیوں کو مسرتوں میں بدل دیا، جس نے میری آہوں کو خوشیوں میں تبدیل کردیا، جس نے میرے اشکوں کو نغموں میں ڈھال دیا، جس نے میرے خوابوں کو حقیقت میں اتار دیا، جس نے میرے جذبوں کو سچ کر دکھایا، جس نے میرے دعووں کو عملی کر دکھایا اب میں بہت خوش تھا اب میں اپنے زخموں کو بھول چکا تھا، اب میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری تھا، اب میں ایک باوقار قوم کا عزت مند فرت تھا، اب میں فخر اور اعتماد کے ساتھ سر اُٹھا کر چلتا تھا، لیکن لیکن مجھے یہ کیا معلوم تھا کہ اتنے دکھ سہنے کے بعد ملنے والی یہ خوشی بھی عارضی ہوگی مجھے کیا معلوم تھا کہ سامراجی پٹّھو اِس آزاد ملک پر بھی حکومت کریں گے، مجھے کہاں خبر تھی کہ اب مجھے غیر نہیں اپنے لوٹیں گے، اب مجھے دشمن نہیں دوست زخم لگائیں گے، اب مجھ پر برطانیہ کی نہیں اپنی فوج حکومت کرے گی، اب مجھے ہندو جرنیل نہیں مسلمان آفیسر گولیاں ماریں گے، اب میری عبادت گاہوں کے تقدّس کو سکھ نہیں ”نام نہاد مجاہدین“ پامال کریں گے، اب میرے قتل کے حکم نامے پر انگریز سرکار نہیں، پاکستان حکومت دستخط کیا کرے گی، اب میں غلام ہندوستان کے ٹارچر سیلوں میں نہیں آزاد پاکستان کے اذیّت کدوں میں کچلا جاوں گا، اب مجھے ہندو سینا نہیں بلکہ مسلمان ایجنسیاں اغواءکریں گی۔
    آئیے! اس سال یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر بیٹھیں اور مل کر سوچیں کہ وہ ”دو قومی نظریہ“ کہاں گیا جو ہماری اساس اور بنیاد تھا؟! وہ مائیں کہاں مر گئیں جو اقبال اور محمد علی جناح جیسے بیٹوں کو جنم دیتی تھیں؟! وہ سیاست دان کہاں کھو گئے جو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگاتے تھے؟! وہ ادیب کہاں چلے گئے جو اکبر الہ آبادی کی طرح قوم کا درد رکھتے تھے؟! اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے وہ طالب علم اور استاد کہاں چلے گئے جنہوں نے پاکستان کی آزادی، خود مختاری اورنظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی تھی؟!
    اس سال ۱۴ اگست کے طلوع ہوتے سورج کی آغوش میں بیٹھ کر میں بھی سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچئے! ہم سب مل کر اسلام کے نام پر دہشت گردی، ہدیے کے نام پر رشوت، تفریح کے نام پر فحاشی، امن کے نام پر قتل و غارت، تعلیم کے نام پر جہالت اور جمہوریت کے نام پر آمریت کو کیسے روک سکتے ہیں، آئیے مل کر دودھ میں پانی ملانے والوں کو روکیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔

Leave a Reply

Back to top button