تازہ ترین
-
چائنا وائیس

چینی ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی قدیم تاریخ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چینی قمری کیلنڈر کے مطابق رواں سال 19 جون کو چین کا روایتی لوک تہوار "ڈریگن بوٹ فیسٹیول” منایا جا رہاہے۔ چین بھر میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول ہر سال روایتی جوش جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ڈریگن بوٹ فیسٹیول کو ڈوآن او تہوار یا ڈوآن یانگ بھی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے بہت سے دوسرے نام بھی ہیں،مثلاً او ری تہوار ، ڈبل فائیو تہوار ،مئی تہوار ،یو لین تہوار ،لڑکیوں کا تہوار ،ٹیان جونگ تہوار ،ڈی لا، شعراء کادن، اور ڈریگن کا دن وغیرہ وغیرہ۔ڈریگن بوٹ فیسٹول کے آغاز کے بارے میں بے شمار مختلف نظریات ہیں ۔ ان میں سے سب سے مقبول نظریہ قدیم زمانے میں چینی شاعر چھو یوآن کو یاد کرنے کے لئے تہوار کا منانا ہے۔ گزشتہ ہزاروں برسوں کے دوران چینی شاعر چھو یوآن کے حب الوطنی کے جذبات اور ان کی شاعری نے وسیع پیمانے پر لوگوں کے دلوں میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔چین میں قدیم وقتوں سے ہی لوگوں کا یہ خیال رہا ہےکہ ” چھو یوآن کی موت ایک افسوس ناک واقعہ ہے ،ان کی شاعری نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے اور آنے والی نسلیں ان کی شاعری کو یاد رکھیں …
-
چائنا وائیس

عالمی گورننس میں اصلاحات کا چینی وژن
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ آج کی دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال جیسے پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی حکمرانی کے موجودہ نظام کی افادیت اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں چین نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، اعتماد اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی حکمرانی کے نظام کو مزید منصفانہ، موثر اور مساوی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔ چین کی جانب سے "زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔ آٹھ زبانوں میں شائع ہونے والی اس دستاویز کا مقصد عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کے نظریات، تجاویز اور عملی اقدامات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہو اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔ چینی حکام کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں عالمی حکمرانی کے مسائل پوری انسانیت کی فلاح و بہبود سے جڑے ہوئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے …
-
چائنا وائیس

جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا اس وقت تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید صنعتوں اور سائنسی اختراعات کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کر سکے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں میں تعلیم، سائنس اور صنعت کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت جامعات میں ایسے نئے شعبہ جات متعارف کرائے جا رہے ہیں جو نہ صرف قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ابھرتی ہوئی عالمی صنعتوں کی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ رواں سال قومی کالج داخلہ امتحان "گاؤکاؤ” کے موقع پر لاکھوں طلبہ کو پہلی مرتبہ متعدد نئے تعلیمی شعبہ جات میں داخلے کے مواقع میسر آئے ہیں، جو چین کے تعلیمی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ چین کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تعلیمی فہرست کے مطابق ملک کی مختلف جامعات میں متعدد نئے انڈرگریجویٹ پروگراموں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں مجسم مصنوعی ذہانت، کم بلندی کی فضائی معیشت اور انتظام، سمندری ذہانت اور بغیر پائلٹ ٹیکنالوجیز …
-
تبصرہ کتب

قادر سولنگی کا ببرلو دھرنے کے پس منظر میں لکھا گیا ناول "بارہ دن”
ناول "بارہ دن" سندھی ادب کے نامور اور عوامی رنگ میں رنگے ہوئے ناول نگار قادر سولنگی کا ایک شاہکار سیاسی اور سماجی ناول ہے۔ یہ ناول سندھ کی تاریخ کے ایک انتہائی انمٹ اور حوصلہ افزا باب "ببرلو دھرنے" کا ایک جیتا جاگتا تاریخی اور ادبی دستاویز ہے
-
چائنا وائیس

چین میں اعلیٰ تعلیم کا نیا رخ
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، اختراع اور مستقبل کی مسابقت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت اور نئی سائنسی ٹیکنالوجیز دنیا کی معیشت کا رخ متعین کر رہی ہیں، وہاں جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے نصاب اور تخصصات کو بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔ چین نے گزشتہ برسوں میں اسی سوچ کے تحت اپنی اعلیٰ تعلیم کے نظام میں نمایاں اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو مستقبل کی صنعتوں اور قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ رواں سال قومی کالج داخلہ امتحان "گاؤکاؤ” میں شریک تقریباً ایک کروڑ انتیس لاکھ طلبہ کے لیے متعدد نئے جامعاتی شعبہ جات متعارف کرائے گئے ہیں جو چین کی تعلیمی اور صنعتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔ چین کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ تازہ ترین تعلیمی فہرست کے مطابق مختلف جامعات میں کئی نئے انڈرگریجویٹ پروگراموں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں مجسم مصنوعی ذہانت، کم بلندی کی فضائی معیشت و انتظام، سمندری ذہانت اور بغیر پائلٹ ٹیکنالوجیز …
-
چائنا وائیس

چین کا زرعی و دیہی جدیدیت کا نیا منصوبہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ default چین نے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدیدیت کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو مزید مستحکم کرنا، دیہی علاقوں کی ترقی کو فروغ دینا اور چینی طرز جدیدیت کے اہداف کے حصول میں زراعت کو ایک مضبوط ستون کے طور پر استوار کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، زرعی وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار ترقی جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں چین کا یہ اقدام نہ صرف ملکی سطح پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ عالمی زرعی ترقی کے لیے بھی قابلِ توجہ مثال بن سکتا ہے۔ چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ منصوبے میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران زرعی اور دیہی شعبے کی ترقی کے لیے اہم اہداف، پالیسی اقدامات اور عملی لائحہ عمل متعین کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک ملک کی غذائی تحفظ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، زرعی شعبے کی معیار، کارکردگی اور مسابقت میں نمایاں بہتری لائی جائے گی جبکہ غربت کے خاتمے سے …
-
چائنا وائیس

ماحولیاتی تحفظ سے سبز ترقی تک
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، جنگلات میں لگنے والی آگ، شدید سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عالمی یوم ماحولیات 2026 کا پیغام "اب موسمیاتی اقدام کا وقت ہے” بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے حالات میں چین نے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جو نہ صرف ملک کے اندر مثبت نتائج دے رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار ترقی کے لیے ایک قابلِ توجہ مثال بن رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے ماحولیات کے تحفظ اور سبز ترقی کو ہمیشہ قومی ترقی کے اہم ستونوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی جانب سے پیش کیا گیا تصور کہ "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” آج چین کی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد بن چکا ہے۔ یہ نظریہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وجہ …
-
چائنا وائیس

صحت مند اور باصلاحیت بچے ہی مضبوط قوم کی ضمانت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ جدید دور میں جہاں تعلیمی معیار کو ترقی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، وہیں جسمانی صحت، اخلاقی تربیت اور ذہنی نشوونما کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہے۔ چین میں گزشتہ برسوں کے دوران نئی نسل کی فلاح و بہبود کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے مختلف سطحوں پر جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یکم جون کو منائے جانے والے بین الاقوامی یومِ اطفال کے موقع پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کا مستقبل صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ بچوں کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ قومی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ بچوں کی بینائی، جسمانی صحت، تعلیمی ترقی اور مجموعی نشوونما کے حوالے سے وہ متعدد مواقع پر اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایک مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے صحت مند اور قابل نوجوان نسل ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کو …
آٹزم کیا ہے؟
آٹزم کے بارے میں معلومات
-
چین

خلا میں 210 روزہ تاریخی قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی کامیاب واپسی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ انسانی خلائی تحقیق کی دنیا میں چین مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حالیہ پیش رفت نے نہ صرف چین کی سائنسی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا ہے بلکہ مستقبل کی گہری خلائی مہمات کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔ اسی سلسلے میں چین کے شین زو-21 مشن کے تینوں خلانورد 210 روز تک خلا میں قیام کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ مشن چین کے خلائی اسٹیشن کی تاریخ میں کسی ایک عملے کی جانب سے خلا میں طویل ترین مسلسل موجودگی کا نیا ریکارڈ بھی بن گیا ہے۔ چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی کے مطابق شین زو-21 مشن کے خلانوردوں کی واپسی کا عمل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مکمل کیا گیا، جس کے دوران خلائی جہاز کے مختلف حصوں کی علیحدگی اور واپسی کے تمام مراحل کامیابی سے انجام پائے۔ مشن کے دوران خلانوردوں نے نہ صرف روزمرہ آپریشنل ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال، سائنسی تجربات اور بیرونی خلائی سرگرمیوں سمیت متعدد اہم فرائض بھی سرانجام دیے۔ اس دوران تین خلائی چہل قدمیاں کی گئیں جبکہ خلائی اسٹیشن کو ممکنہ خلائی ملبے سے …
-
چین

چین عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، عالمی تجارتی تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان مختلف ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے چین کے مسلسل دورے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مئی کے آغاز سے اب تک وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت متعدد اہم عالمی شخصیات نے چین کا رخ کیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ عالمی سفارت کاری کے منظرنامے میں چین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں ، وسطی ایشیا، یورپ، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سطح وفود نے چین کے دورے کیے ہیں۔ ان دوروں میں نہ صرف سیاسی روابط بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، علاقائی تعاون اور عالمی استحکام جیسے معاملات بھی مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایک ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار کی تلاش میں ہیں جو غیر یقینی عالمی ماحول میں استحکام، ترقی اور تعاون کے مواقع …
-
چین

بلند پہاڑوں سے ابھرتی معاشی و سماجی ترقی کی نئی داستان
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع پر واقع چین کا شیزانگ خوداختیار علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نمایاں معاشی، سماجی اور بنیادی ترقی کے سفر سے گزرا ہے۔ قدرتی جغرافیائی مشکلات، سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود اس خطے میں جدید انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، سیاحت اور صنعتی ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آج شیزانگ نہ صرف اپنی منفرد ثقافت، خوبصورت قدرتی مناظر اور روایتی ورثے کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے بلکہ جدید ترقی، سبز معیشت اور علاقائی رابطہ سازی کے ایک ابھرتے ہوئے ماڈل کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔ 23 مئی کو شیزانگ کی پُرامن آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی ہے۔ 23 مئی 1951 کو بیجنگ میں مرکزی حکومت اور شیزانگ کی مقامی انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد خطے میں ترقی اور جدیدیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق 1951 میں شیزانگ کی مجموعی اقتصادی پیداوار صرف 129 ملین یوان تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 303.19 ارب یوان تک پہنچ گئی۔ عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شیزانگ …
-
چائنا وائیس

چین پاکستان سفارتی تعلقات کے 75 برس
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ بین الاقوامی سیاست میں بعض تعلقات وقتی مفادات، بدلتے ہوئے حالات یا علاقائی ضروریات کے تابع ہوتے ہیں، تاہم دنیا میں دوستانہ تعلقات کی چند مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر اعتماد، خلوص اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار رہتی ہیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی بھی انہی منفرد تعلقات میں شمار ہوتی ہے جسے نہ صرف دونوں ممالک کی قیادت بلکہ عوام بھی بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان تعلقات کو اکثر “ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے” تعلقات قرار دیا جاتا ہے۔ اکیس مئی 2026ء کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے پچھتر برس مکمل ہو رہے ہیں، جو اس لازوال دوستی کے سفر کا ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔ چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کی ثابت قدمی سے حمایت کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران عالمی سیاست میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں، کئی علاقائی اور بین الاقوامی بحران سامنے آئے، مگر …
-
چین

چین روس تعلقات اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ جغرافیائی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ، تجارتی تنازعات اور بین الاقوامی نظام میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی استحکام کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین اور روس کے تعلقات کو موجودہ عالمی حالات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اسی تناظر میں ،روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ دورۂ چین کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر استحکام اور مثبت سفارتی ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ رواں برس چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کو تیس برس مکمل ہو رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان “معاہدۂ ہمسائیگی و دوستانہ تعاون” کے پچیس برس بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ ان …
-
چین

قدیم تہذیب، ثقافت اور جدید ترقی کا حسین امتزاج
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ چین کا صوبہ زی جیانگ اپنی تاریخی اہمیت، قدرتی حسن اور جدید ترقی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، مگر اسی صوبے میں واقع دے چنگ کاؤنٹی ایک ایسا خطہ ہے جہاں قدیم تہذیب، ثقافتی ورثہ، ماحول دوست طرزِ زندگی اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ہُو چو شہر کا یہ علاقہ نہ صرف چین میں ضلعی سطح پر اعلیٰ معیار کی ترقی کی کامیاب مثال سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے جیانگ نان تہذیب کی ایک اہم جنم گاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دے چنگ نام اپنے اندر ایک خوبصورت فلسفہ رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے “اعلیٰ کردار کے حامل لوگ اور سچائی کی مانند شفاف پانی”۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثے اور متوازن ترقی کی علامت بن چکا ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ اکسٹھ ہزار آبادی پر مشتمل یہ کاؤنٹی دریائے یانگسی ڈیلٹا کے مرکزی علاقے میں واقع ہے اور اسے “ہانگ چو کا شمالی دروازہ” بھی کہا جاتا ہے۔ تیز رفتار ریل کے ذریعے صرف سولہ منٹ میں ہانگ چو شہر تک رسائی ممکن ہے، جبکہ شنگھائی، نانجنگ اور ننگ بو جیسے بڑے شہر بھی چند …



