کالم
-
قلم اور کالم

عالمی معیشت میں استحکام کی نئی راہیں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین نے حالیہ دنوں میں ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ (ایف ٹی پی) میں خصوصی کسٹم آپریشنز کا آغاز کیا ہے، جس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ چین عالمی معیشت میں اپنے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تحفظ پسندی اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے، اور چین کی طرف سے کھلے پن کے عمل کا عزم دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ نہ صرف چین کی اقتصادی حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی کوشش بھی ہے۔ یہ چین کے بلند سطح پر کھلے پن کی پختہ عزم کی علامت ہے اور اس وقت جب دنیا کے دوسرے حصوں میں تحفظ پسندی دوبارہ عروج پر ہے، چین کی عالمی معیشت میں اپنے مقام کو مزید مستحکم کرنے کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پیش رفت چین کی ترقی میں مسلسل کھلے پن کے عمل سے جڑی ہوئی ہے، جو کہ مارکیٹ تک رسائی کا باقاعدہ پھیلاؤ اور عالمی سپلائی چینز میں فعال شرکت پر مبنی ہے۔چین نے عالمی منڈیوں …
مزیدپڑھیں -

-

-

بلاگ
-
بلاگ

چین کا غیر یقینی دنیا میں تعاون اور امید کا پیغام
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی حالات، سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے عالمی نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں وہ پلیٹ فارمز خاص اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کریں۔ اسی تناظر میں چین کے خوبصورت جزیرے ہائی نان کے ساحلی قصبے بواؤ میں منعقد ہونے والا بواؤ ایشیائی فورم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما، ماہرین اور کاروباری شخصیات ایک بہتر اور متوازن مستقبل پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کا اجتماعی حل تلاش کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا میں تحفظ پسندی اور یکطرفہ پالیسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے میں اس فورم کو امید، اعتماد اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں ہونے والی گفتگو اس بات کا اظہار ہے کہ اختلافات کے باوجود تعاون کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ اگر اس فورم کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ …
چین: مضبوط اور موئثر گورننس کے ثمرات

چین کی قومی مقننہ اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے سالانہ "دو اجلاس" دنیا کو چینی جمہوریت کے جوہر اور عملی اقدامات سے آگاہی کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں
پاکستان اور روس کے تعلقات کا ایک جائزہ

پاکستان 14 اگست 1947 کو قائم ہوا تو اسے دنیا کی دونوں سپر پاور ممالک امریکہ اور اس وقت کے سوویت یونین (روس) نے اپنے طرف مدعو کیا.
آٹھواں بھائی: ایک نئے براعظم کی دریافت

جس دھرتی پر ہم رہائش پذیر ہیں اور جو ہم بڑے براعظموں کو سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں. صدیوں پہلے کسی وقت میں یہ سارے براعظم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے تھے.
روسی انقلاب اور اشتراکیت کی ابتدا

روس اس وقت رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے یہ ریاست سن 1991 میں ٹوٹنے کے بعد بھی سب سے بڑی رہی.
چین عالمی اقتصادی بحالی کا ضامن

چین کے قومی قانون ساز اور سیاسی مشیر اس وقت بیجنگ میں جمع ہیں جہاں "دو اجلاسوں" کے دوران ملک کی اقتصادی سماجی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے لائحہ عمل وضع کیا جا رہا ہے۔
چین کے 2022 کے ترقیاتی اہداف

چین کے سیاسی کلینڈر کی اہم ترین سرگرمی قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے "دو اجلاس" اس وقت بیجنگ میں جاری ہیں ۔










