کالم

انٹرنيٹ کے نقطہ نظر سے ريڈيو کى اہميت

تحریر: محمد عرفان نيازى ميانوالى پنجاب
ريڈيو کا لفظ سنتے ہى ہمارے ذہنوں ميں کھلے کھيت کھليان ,چارپائى پر ليٹے آدمى کے سينے پر رکھا ہوا ريڈيو اور شام کا تھکےہوئے تمام لوگوں کا ريڈيوکے اردگرد منظم انداز ميں ريڈيو سے لطف اندوز ہونا خود بخود ہمارے ذہنوں ميں ايک فلم کى شکل ميں چلنے لگتا ہے ريڈيو کى اہميت پہلے کئى سال کى طرح قائم و دائم ہے اور اس ميں حيرت انگيز طور پر اضافہ ہوا ہے ايک طرف تو انٹرنيٹ کى آمد نے دنيا ميں ايک تہلکہ مچا ديا اور اب ايسا لگنے لگا تھا کہ انٹرنيٹ ريڈيو کو اپنے اندر جذب کر لے گا اور اس کى جگہ لے لے گا لیکن ريڈيو نے روائتی طور پر اپنى اہميت کا لوہا منوايا اورانٹرنيٹ کے ترقى يافتہ دور ميں ريڈيو ترقى کى بلنديوں کو چھو رہا ہے

مثال کے طو پر 1965 کى جنگ ميں اور 1971 کى جنگ ميں کھيتوں ميں تھکے ہارے کسانوں نے حالات حاضرہ کے لئے کمپيوٹر يا ٹيلى ويژن کا سہارا نہيں ليا اور لوگوں نے اپنے فوجى جوانوں کى خيريت ريڈيو کے ذريعے ہى معلوم کى کيونکہ پاکستان کے بيشتر علاقوں ميں بجلى نام کى کوئى چيز نہيں تھى وہ شام کو ريڈيو ميز پر رکھ کر تازہ ترين صورتحال معلوم کرتے تھے

خير زيادہ دور جانے کى کوئى ضروت نہيں ہم انٹرنيٹ کى موجودگى ميں ريڈيو کى اہميت کا تقابلى جائزہ ليتے ہيں
پاکستان ميں سيلاب کے دنوں ميں شديد سيلاب نے پاکستان کے علاقوں ميں تباہى مچا کر اس کى اينٹ سے اينٹ بجا دى اور بيشتر علاقے اس کى زد ميں تھے تو اس موقع پر ريڈيو پاکستان نے ايک مثالى کردار ادا کيا اور اس موقع پر معمول کى نشريات کو منقطع کرکے ہنگامى نشريات کا آغاز کيا اور اس کو خاص کر ريڈيو پر ہى مرکوز کيا گيا تھاوہ علاقے جن کو وارننگ جارى کى گئى تھي انہوں کے اپنا مختصر سا سامان لپيٹا اور ريڈيو کو بغل ميں ڈالال کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ انٹڑنيٹ اور ٹيلى ويژن ان کے کسى کام کے نہيں ہيں اور ريڈيو ہى ان کے لئے آسانى پيدا کر سکتا ہے لوگ پورى پورى رات ريڈيو سے نشر ہونے والے اعلانات کو سنتے تاکہ لوگوں کو اس سے باخبر رکھا جاسکے اس موقع پر انٹرنيٹ اور ريڈيو کى نشريات کے باوجود اس کى اہميت نہ ہونے کے برابر تھى کيونکہ لوگوں کے پاس ٹائم بہت کم تھا کيونکہ وہ علاقے جہاں پانى ان کى دہليز کى بنيادوں کو اکھيڑنے کے درپے تھا انہيں انٹر
Pakistan floodingنيٹ اور ٹيلى ويژن کا خيال تو بہت دور کى بات ہے اگر پاکستان کے اس مشکل دور ميں ريڈيو کى اہميت کو چانچيں اور انٹرنيٹ اور ٹيلى ويژن کو اور خدا نخواستہ آئيندہ کے لئے ايسى صورحال ميں ريڈيو کے مقابلہ ميں انٹرنيٹ اور ٹيلى ويژن کا تقابلى جائزہ ليں تو ميرے خيال ميں ريڈيو کے حوالہ سے انٹرنيٹ پھر بھى کو ئى خاص اہميت حاصل نہيں کر سکا
اس موقع پر وہ نشرياتى ادارے جو اپنى نشريات کے زيادہ حصہ انٹرنيٹ پر پيش کرنے ميں تن من دھن کا زور لگارہے ہيں تو ميرے خيال ميں وہ شہر کى پکيوں گليوں ,مکانوں اور شہر کے دوسرے لوگوں کو معلومات کا ايک خزآنہ فراہم کر سکتے ہيں ليکن انٹرنيٹ کى نشريات ان لوگوں کو ايک فيصد بھى فائدہ نہيں پہنچا سکتى جہاں رات ڈھلتے ہى اندھيرے کى سياہى پورے علاقے کو اپنے گھيرے ميں لے ليتى ہے جہاں بجلى کا نام و نشان بھى نہيں ہے جہاں لوگ کمپيوٹر کے استعمال سے بلکل ناواقف ہيں وہاں انٹڑنيٹ تو بھينس کے آگے بين بجانے کے مترادف ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا کافى مشکل ہے ليکن ميرے خيال ميں وہاں آج بھى يہ روایتى ريڈيو بج رہا ہے اور لوگ اسى لگن اور خوشى سے اس کو استعمال کر رہے ہيں ان علاقوں ميں جہاں آج بھى لالٹينيں استمال کى جاتى ہيں جہاں مکان آج بھى کچے ہيں وہاں آج بھى ريڈيو حقہ کے ساتھ سنا جاتا ہے وہاں آج بھى لوگ چارپائيوں پر ليٹے ليٹے ريڈيو سينے پر رکھ کر سنتے ہيں وہاں آج بھى لوگ کھيتوں ميں چلتے ہوئے ريڈيو کو اپنى بغلوں ميں لئے پھرتے ہيں اور محظوظ ہوتے ہيں اور آج بھى ان کے پيارے ان کے لئے ريڈيو کا تحفہ ہى بھيجتے ہيں وہاں کے لوگ آج بھى ريڈيو پر بھنگڑا ڈالتے ہيں
اس کے مقابلہ ميں انٹرنيٹ کے ذريعے بھنگڑا ڈالنے کا تصور بہت کم ہے لوگ انٹرنيٹ کو اتنى آسانى سينے پر رکھ کر نہيں سن سکتے , لوگ انٹرنيٹ کو بغلوں ميں ليکر نہيں گھوم سکتے آج جيسے ريڈيو کہہ رہا ہو ميں کل بھى تھا ,ميں آج بھى زند ہ ہوں ,ميں کل بھى زندہ رہوں گا
اور
گائے گى دنيا گيت ميرے

Email Address: niazi124@gmail.com
Mobile No: 03132082681

تبصرے

  1. بہت اچھی تحریر ہے اور امید ہے کہ اس سائٹ پر مزید اچھے موضوعات پر قارئین کی طبع آزمائی پڑھنے کو ملے گی بلکہ اس سائیٹ کے منتظم اگر کسي موضوع کا انتخاب کرکے لوگوں کی رائے معلوم کريں گے تو اس سے ہميں بھی حوصلہ ملے گا کہ یہ سائیٹ سب کیلئے ہے اور کوئی بھی کسی موضوع کے بارے میں‌اپنی سوچ کی عکاسی کرسکتا ہے

Leave a Reply

Back to top button