پاکستان میں کریم کا عروج و زوال: ایک سابق ڈرائیور کی آپ بیتی
کریم کے ساتھ میرا سفر آغاز سے اختتام تک
Why Did Careem Leave Pakistan? 7 Years as a Captain Inside Story
کریم سے ساتھ تعارف
میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والا آدمی تھا، ایک دن اذانِ صبح کے وقت اسلام آباد سے بارہ کہو جانا تھا، اس وقت کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہوتی تھی، کسی دوست نے مشورہ دیا کہ کریم بک کر لو، میں نے مشورے پر عمل کرکے رائیڈ بک کی، کار والا ڈرائیور صرف آبپارہ تک لے گیا اور آگے جانے سے شائستہ طریقے سے انکار کردیا اس کا رویہ بہترین تھا خیر اس کے بعد ہم نے ٹیکسی پکڑلی اور گھر پہنچ گئے۔
مارکیٹ میں اوبر اور کریم چھائے ہوئے تھے مگر عام آدمی پھر بھی عام ٹیکسی کو ترجیح دیتا مگر نئی نسل انہی کمپنیوں کے ذریعے سفر کرنا پسند کرتی تھی۔
2018 میں ہم نے ایک گاڑی لے لی، سارے احباب مشورہ دینے لگے کہ کار کو کریم پر لگالو کہ کافی پیسہ بنتا ہے مگر بعد میں پتہ لگا کہ ان کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا، میرا اس کام میں دل نہیں لگ رہا تھا خیر پھر گھر سے پریشر آیا اور میں کریم پر رجسٹر ہوگیا۔
کریم کے ساتھ رجسٹریشن، ٹریننگ، ٹیسٹ اور کام کا آغاز
کریم سے رابطہ ہوا تو مشورہ ملا کہ بلیو ایریا فرنچائز پر چلے جائیں، وہاں پر رجسٹریشن کروائی، عملے کا رویہ بھی مناسب تھا، رجسٹریشن کے بعد انہوں نے ٹریننگ کا اہتمام کیا اور ایپ کو چلانے کے بارے میں ٹریننگ دی، پھر انہوں نے آن لائن ٹیسٹ لیا، ٹیسٹ پاس ہونے کے بعد کہا گیا کہ پاک ویلز سے گاڑی کی انسپیکشن کروالیں، انسپیکٹر وہاں پر موجود تھا، گاڑی کی انسپیکشن بھی ہوگئی۔
کریم کی پالیسیز
کام کے دوران ہی مجھے کریم کی پالیسیوں کے بارے میں پتہ لگتا گیا، کریم چونکہ انٹرنیشنل کمپنی تھی تو ان کا رویہ بھی ڈرائیور حضرات کے ساتھ پروفیشنل تھا، ڈرائیورز کو کیپٹن کہہ کر پکارا جاتا تھا یہ بات ہمیں عام ٹیکسی ڈرائیورز سے ممتاز کرتی تھی۔
ویٹنگ اور رائیڈ کینسل کی پیمنٹ
رائیڈ کی لوکیشن پر پہنچ کر پانچ منٹ انتظار کرنا پڑتا تھا اگر رائیڈ نہ آئے تو آپ کو کمپنی کی طرف سے 120 روپے ملتے تھے مگر اگر رائیڈ آپ سے رابطہ کرکے انتظار کا کہہ دے تو پانچ منٹ کے بعد ویٹنگ کے پیسے ملتے تھے، مگر یہ دوسری بات ہے کہ ڈرائیورز نے رائیڈ کینسل کی سہولت سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اگر کسی ڈرائیور نے رائیڈ نہیں اٹھانی ہوتی تھی تو اصل لوکیشن سے تھوڑا آگے پیچھے کھڑا ہوجاتا تھا تاکہ پانچ منٹ پورے ہوجائیں تو ان کو رائیڈ کینسل کے پیسے مل جائیں، بعض اوقات کسٹمر ڈرائیور کو تلاش کررہا ہے اور ڈرائیور کال بھی اٹینڈ کررہا ہے، پھر لامحالہ رائیڈ کینسل ہوجاتی اور ڈرائیور کو پھر بھی 120 روپے مل جاتے، جب اس سروس کا غلط استعمال زیادہ ہوگیا تو کریم نے رائیڈ کینسل کے چارجز دینا بند کردیے۔
کریڈٹ رائیڈ
کریم نے مسافروں کو بھی ایک سہولت دی ہوئی تھی کہ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو پھر بھی سفر کرسکتے ہیں اور پیمنٹ اگلی رائیڈ میں دے دیں اور کئی لوگ اس سہولت کا فائدہ اٹھانے لگے، ہوتا یہ تھا کہ کریڈٹ کے پیسے ڈرائیورز کو اس وقت تک نہیں ملتے تھے جب تک کسٹمر اگلی رائیڈ میں خود ادا نہ کردے، یہ کریم کی پالیسی غلط تھی، ڈرائیور نے رائیڈ لی اور سفر کو مکمل کیا اگر رائیڈ کریڈٹ کی ہے تو ڈرائیورز کو اس وقت ادائیگی ہونی چاہیے تھی اور کریم بعد میں بھی کسٹمر سے چارج کرسکتا تھا مگر سارا ملبہ ڈرائیورز پر گرتا تھا، یہاں پر چند کسٹمرز نے کمپنی اور ڈرائیورز کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا، کسٹمرز ایک لمبی رائیڈ لیتے رائیڈ ختم ہونے کے بعد ڈرائیور کو کہتے کہ زیرو ڈال دیں، کمپنی کی پالیسی تھی، اکثر کسٹمرز تو اگلی رائیڈ میں پیسہ دے دیتے تھے مگر ایسے بھی تھے جو اپنی پرانی آئی ڈی ڈیلیٹ کرکے نئی بناتے تھے اس کا ان کو ڈسکاؤنٹ ملتا تھا پھر زیرو ڈلواتے تھے اور پھر آئی ڈیلیٹ کردیتے تھے، جب اس کا غلط استعمال بڑھنے لگا تو کمپنی نے کسٹمرز سے یہ سہولت واپس لے لی۔
یہاں پر یہ بات دلچسپ ہے کہ ڈرائیور اور کسٹمرز نے کمپنی کی شہرت کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا اور پھر دونوں سے سہولت لے لی گئی، دونوں اگر ایمانداری کا مظاہرہ کرتے تو یہ کسٹمرز اور ڈرائیورز کے لیے بہترین سروس تھی۔
بونس
کمپنی نے 24 گھنٹے میں ایک ٹارگٹ دیا ہوتا تھا کہ اگر آپ پورا کریں تو اگلے ہفتے آپ کو بونس ملتا تھا، بونس کی بھی دلچسپ کہانی ہے، کمپنی سروس کے نام پر ان دنوں 15 فیصد کاٹتی تھی اور بونس کے نام پر 10 فیصد لوٹا دیتی تھی اور پھر بھی 5 فیصد اپنے پاس رکھ لیتی تھی۔ یہاں پر اکثر ڈرائیورز نے فیک رائیڈ سے کام لینا شروع کردیا، کبھی دوست یا رشتہ دار کو کہہ دیتے کہ فیک رائیڈ ڈال دیں اگر رائیڈ ان کو مل جاتی تھی تو تھوڑا سفر کرکے رائیڈ کی تکمیل کردیشدے تھے اور یوں بونس لے لیتے تھے پھر کریم نے بونس کا سلسلہ بھی کافی عرصے تک بند کردیا۔
ڈرائیورز کی کسٹمرز کے ساتھ زیادتی
میرا یہ ماننا ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ زیادہ ہیں اور برے کم مگر برے لوگوں کا ملبہ ہمیشہ اچھے لوگوں پر ہی گرتا ہے، یہاں پر بھی برے ڈرائیورز نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا، اکثر نہیں مگر چند ڈرائیورز دورانِ رائیڈ گوگل میپ کو کسی دوسری ایپ سے بند کردیتے اور کوئی دوسرا فیک میپ لگادیتے جو سفر کے فاصلے کو بڑھادیتا مثال کے طور پر اگر آپ کے سفر کا فاصلہ 20 کلومیٹر بنتا ہے تو اس کو 30 کلومیٹر کردیتا تھا جب رائیڈ ختم ہوتی تو کسٹمرز کو زیادہ پیسے دینا پڑتے یا بعض اوقات کسٹمر کو جلدی ہوتی تو یہ ان کو فیک اسکرین شاٹ دکھا کر چارج کردیتے مثال کے طور پر اگر کرایہ 1000 بنتا ہے تو یہ ان کو 1500 کی اسکرین شاٹ دکھاتے کسٹمر کہتا کہ میرے پاس تو 1000 نظر آرہے ہیں تو ڈرائیور کہتا کہ ان کے سسٹم میں گڑبڑ ہے آپ یہ پیسہ ادا کردیں بعد میں کمپنی آپ کے اکاؤنٹ میں واپس بھیج دے گی۔ نئے کسٹمرز تو کمپنی سے رابطہ بھی نہیں کرتے تھے مگر جب پرانے رابطہ کرتے تو ان کو پتہ لگتا کہ ڈرائیور نے ان کے ساتھ زیادتی کردی، اکثر کمپنی ان کے پیسے لوٹا دیتی تھی۔
سروس چارجز میں اچانک اضافہ اور کمپنی کی زیادتی
یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ جہاں ڈرائیورز اور کسٹمرز نے ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کی وہاں کمپنی بھی پیچھے نہیں رہی ایک مرحلہ پر کمپنی اپنے سروس چارجز 32 فیصد تک لے گئی جو کہ بہت ہی زیادہ تھی، کریم کا کرایہ کم ہوگیا تھا اور سروس چارجز زیادہ تو ڈرائیورز کا دل ٹوٹ گیا پھر انہوں نے کسٹمرز کے ساتھ مل کر کمپنی سے حساب لینا شروع کردیا، رائیڈ شروع کرنے سے پہلے کسٹمرز سے کرایہ پوچھتے کہ کرایہ کتنا تھا کسٹمرز کرایہ بتاتے تو یہ ان کو گزارش کرتے کہ کمپنی نے بلاوجہ سروس چارجز بڑھادیے ہیں براہ کرم رائیڈ کینسل کردیں میں آپ کو اسی کرایہ میں لے جاتا ہوں اکثر کسٹمرز مان جاتے۔ میرے خیال میں یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں پر ڈرائیور کمپنی سے ناراض ہوگیا اور دعائیں کرنے لگا کہ کوئی تیسری کمپنی مارکیٹ میں داخل ہوجائے، کمپنی نے کیا داخل ہونا تھا مگر اوبر نے کریم کو خرید لیا اور اپنے نام سے پاکستان سے آپریشن بند کردیے۔
کارپوریٹ رائیڈ، انٹرنیشنل کسٹمرز اور ڈرائیورز کا انکار
کریم نے کارپوریٹ سیکٹر کو ایک بہترین سروس دی ہوئی تھی وہ تھی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رائیڈ، یہ سروس کریم کو بعد میں آنے والی آن لائن ٹیکسی سروس سے ممتاز کرتی تھی مگر اکثر ڈرائیورز کریڈٹ کارڈ کی رائیڈ نہیں اٹھاتے تھے اور ہمیشہ کیش رائیڈ کو ترجیح دیتے تھے اس کی وجہ تو یہ تھی کہ کریم کے دو طرح کے اکاؤنٹ تھے ایک وینڈر اور دوسرا ڈرائیور تو یہ پیمنٹ وینڈر کے اکاؤنٹ میں چلی جاتی تھی اس وجہ سے ڈرائیور انکار کردیتا تھا مگر اس سروس کے کسٹمرز کافی تھے۔ کریم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈرائیورز بھی تھے اور کم پڑھے لکھے بھی، اکثر نیم خواندہ ڈرائیور کریڈٹ کارڈ کی رائیڈ کی تکمیل پر کسٹمرز کے ساتھ لڑائی کرتے کہ ہمیں کیش دیں جبکہ کسٹمرز کے اکاؤنٹ سے پیمنٹ ہوچکی ہوتی تھی۔
پاکستان سے باہر سے آنے والے مسافروں کے لیے کریڈٹ کارڈ کی رائیڈ کسی نعمت سے کم نہیں تھی، باہر سے آنے والے مسافروں کے پاس مقامی کرنسی کا مسئلہ ہوتا تھا تو ان کا ویزا کارڈ لگ جاتا تھا۔
اوپر چند منفی باتوں کے باوجود کریم کا سٹاف، کریم کے ڈرائیورز اور کسٹمرز بہت اچھے لوگ تھے خواتین خاص طور پر کریم میں خود کو محفوظ محسوس کرتی تھیں۔
کریم کی کسٹمر سپورٹ
کریم کی کسٹمر سپورٹ سروس اعلیٰ کلاس کی تھی اگر دورانِ رائیڈ کسٹمر یا ڈرائیور کو کوئی مسئلہ ہوتا تو ان کی ہیلپ لائن 24 گھنٹے دستیاب تھی اور مسائل اسی وقت حل کرلئے جاتے تھے۔
پاکستان میں نئی کمپنیز کی آمد اور کریم کی رخصتی
پھر اچانک 2021 میں ایک نئی کمپنی مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے، اس کا ماڈل کسٹمرز کو مناسب لگتا ہے، ڈرائیورز کو بھی وہ کمپنی بہترین لگتی ہے، کمپنی ڈرائیورز کو کہتی ہے کہ ہمارے ساتھ صفر کمیشن پر کام شروع کرو، پھر دھڑا دھڑ رجسٹریشن شروع ہوجاتی ہے، یہ کمپنی نئے کسٹمرز کو اپنے پاس کھینچتی ہے پھر آہستہ آہستہ کریم کا کام کم ہونے لگتا ہے، ڈرائیور پہلے ہی ناراض ہوچکا تھا پھر ڈرائیور نے کریم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کردیا بلکہ کسٹمرز کو یہ تک تاثر دیتے تھے کہ کریم تو ختم ہوگئی ہے اب کریم کے پاس یا تو انٹرنیشنل کسٹمرز رہ جاتے ہیں یا پھر کارپوریٹ کسٹمرز۔
اچانک کریم کا پیغام ملتا ہے کہ وہ اپنے آپریشن بند کرکے پاکستان سے جارہی ہے، جاتے وقت کمپنی نے اپنے سرگرم کیپٹن حضرات کو گڈ ول (Goodwill) کے طور پر ایک معقول رقم دی، ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ جانے والی کمپنی اپنے پارٹنرز کو رقم بھی دے دے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کریم قوانین پر عمل کرتی تھی۔
سوچنے کی بات ہے کہ اتنی بہترین کمپنی پاکستان سے کیوں چلی گئی؟ حکومت نے کیوں نہیں روکا تاکہ ملک میں صحت مند مقابلے کی فضا قائم رہے، کارپوریٹ سیکٹر اور انٹرنیشنل کسٹمرز کو بھی سروس ملتی رہتی۔ میں نے بطور ڈرائیور اپنے تجربے کی روشنی میں حقائق بیان کیے ہیں، اب بھی وقت ہے کہ حکومت ایسا سازگار ماحول پیدا کرے کہ اس طرح کی کمپنیاں واپس آئیں، حیرت اس بات کی ہے کہ کریم باقی ممالک میں کام جاری رکھے ہوئے ہے مگر پاکستان میں کیوں آپریشن بند کرنا پڑا؟
کریم کے جانے کے بعد میں نے بھی اس کام کو خدا حافظ کہہ دیا، یاد رہے کہ میں نے کریم کے ساتھ 7 سال کام کیا اور پانچ ہزار رائیڈز اٹھائی تھیں۔