عالمی گورننس میں اصلاحات کا چینی وژن
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

آج کی دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال جیسے پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی حکمرانی کے موجودہ نظام کی افادیت اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں چین نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، اعتماد اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی حکمرانی کے نظام کو مزید منصفانہ، موثر اور مساوی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔
چین کی جانب سے "زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔ آٹھ زبانوں میں شائع ہونے والی اس دستاویز کا مقصد عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کے نظریات، تجاویز اور عملی اقدامات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہو اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
چینی حکام کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں عالمی حکمرانی کے مسائل پوری انسانیت کی فلاح و بہبود سے جڑے ہوئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا بین الاقوامی نظام اس وقت مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
وائٹ پیپر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ 2025 میں پیش کیے جانے والے گلوبل گورننس انیشی ایٹو نے عالمی برادری کی ان توقعات کا جواب دیا ہے جو ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کے قیام سے وابستہ ہیں۔ اس اقدام کی بنیاد وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد کے اصولوں پر رکھی گئی ہے، جو بین الاقوامی تعلقات میں مساوات اور باہمی احترام کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔
چینی موقف کے مطابق عالمی حکمرانی کا نیا تصور "جنگل کے قانون” کو مسترد کرتا ہے، جہاں طاقت کو حق کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور مساوی شراکت داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس انیشی ایٹو کو اب تک تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی قبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔
وائٹ پیپر میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصول عالمی حکمرانی کے بنیادی ستون ہیں اور تمام ممالک کو اقوام متحدہ کو محور بنا کر قائم بین الاقوامی نظام، بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظم اور اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے مطابق بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔
چین کا مؤقف ہے کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے نئے متوازی نظام تشکیل دینے کے بجائے موجودہ بین الاقوامی اداروں کو مزید موثر اور مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں چین نے اقوام متحدہ کے کردار کو مستحکم کرنے اور کثیرالجہتی نظام کو مزید فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ویسے بھی موجودہ دور میں کثیرالجہتی تعاون کو نئی توانائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے علاقائی تنازعات میں کشیدگی کم کرنے، آزاد اور کھلی اقتصادی ترقی کے فروغ، گلوبل ساؤتھ کے کردار کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلی، بیرونی خلاء، اور سائبر اسپیس جیسے نئے شعبوں میں حکمرانی کے خلا کو پُر کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
چین نے اس سلسلے میں بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ رواں سال خزاں میں شیونگ آن عالمی حکمرانی فورم کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات اور مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی بھی ان نئے موضوعات میں شامل ہے جن پر عالمی سطح پر تیزی سے توجہ دی جا رہی ہے۔ چینی حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اس کے ضابطہ کار، اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے مشترکہ فریم ورک کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ چین نے اس شعبے میں کثیرالجہتی تعاون، کھلے پن اور شمولیت کے اصولوں کی حمایت کرتے ہوئے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اسی سلسلے میں شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا مقصد مختلف ممالک، اداروں اور تحقیقی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے متعلق مشترکہ چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ کوئی بھی ملک تنہا مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی سے لے کر مصنوعی ذہانت اور عالمی اقتصادی استحکام تک، ہر شعبے میں مشترکہ ذمہ داری اور تعاون کی ضرورت ہے۔ چین کی جانب سے پیش کردہ عالمی حکمرانی کا تصور اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تمام ممالک کو مساوی شراکت دار تصور کیا جاتا ہے اور مشترکہ ترقی کو بنیادی مقصد قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں ایک زیادہ منصفانہ، مساوی اور مؤثر عالمی حکمرانی کا نظام نہ صرف بین الاقوامی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ پائیدار ترقی، امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تعاون، کثیرالجہتی نظام اور باہمی احترام پر مبنی حکمرانی کے تصورات کو مستقبل کے عالمی نظام کی تشکیل میں اہم ستون تصور کیا جا رہا ہے۔