چین کا جدید ٹرانسپورٹ نظام
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، علاقائی رابطوں اور عوامی فلاح میں جدید ٹرانسپورٹ نظام بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ چین نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سڑکوں، ریلوے، فضائی اور آبی نقل و حمل کے شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کرتے ہوئے ایک ایسا جامع اور جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم کیا ہے جو نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت دے رہا ہے بلکہ عوام کے سفر اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی زیادہ آسان اور مؤثر بنا رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی ٹرانسپورٹ صنعت ملک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران ٹرانسپورٹ کے شعبے میں فکسڈ اثاثہ جاتی سرمایہ کاری 3.67 کھرب یوان سے تجاوز کر گئی، جو تقریباً 550 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کی عکاس ہے کہ چین جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور نقل و حمل کے نظام کی بہتری کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ "ٹرانسپورٹ صنعت کی ترقی سے متعلق شماریاتی رپورٹ 2025” کے مطابق ملک بھر میں شاہراہوں کی مجموعی لمبائی پہلی مرتبہ 55 لاکھ کلومیٹر سے تجاوز کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی تیز رفتار نقل و حمل کے نیٹ ورک کی تعمیر میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف بڑے شہری علاقوں کے درمیان سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
بعض اہم شہری کلسٹرز میں اب دو گھنٹے کے اندر اندر سفر ممکن ہو گیا ہے، جس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے بلکہ عوامی آمدورفت بھی زیادہ سہل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک علاقائی اقتصادی انضمام اور متوازن ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں بھی سڑکوں کے نیٹ ورک میں مسلسل توسیع دیکھی گئی۔ 2025 کے اختتام تک دیہی سڑکوں کی مجموعی لمبائی 47 لاکھ 10 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 67 ہزار 500 کلومیٹر زیادہ ہے۔ اس پیش رفت نے دیہی علاقوں اور شہری مراکز کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور زرعی مصنوعات کی ترسیل کو بھی آسان بنایا ہے۔
ادھر چین کے "آٹھ عمودی اور آٹھ افقی” تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر بھی مزید مستحکم ہوئی ہے۔ تیز رفتار ریلوے لائنوں کی مجموعی آپریٹنگ لمبائی پہلی مرتبہ 50 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر گئی، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نیٹ ورک تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایکسپریس ویز کی مجموعی لمبائی 1 لاکھ 99 ہزار 400 کلومیٹر تک پہنچ گئی، جو 2 لاکھ کلومیٹر کے سنگِ میل کے قریب ہے۔
2025 کے دوران بین العلاقائی مسافروں کی تعداد 66.857 ارب سفری ٹرپس تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے اور ایک نیا ریکارڈ بھی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ اوسطاً ایک کروڑ افراد تیز رفتار ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے رہے، جبکہ 16 کروڑ سے زائد افراد نے سڑکوں کے ذریعے نقل و حرکت کی۔ اسی طرح سول ایوی ایشن کے ذریعے روزانہ 20 لاکھ سے زیادہ مسافر سفر کرتے رہے۔
سامان کی نقل و حمل کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ 2025 میں تجارتی مال برداری کا حجم 58.7 ارب ٹن تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً 16 کروڑ ٹن سے زائد سامان ملک بھر میں منتقل کیا گیا۔
ای کامرس اور آن لائن خریداری کے فروغ کے ساتھ ایکسپریس ڈیلیوری کے شعبے میں بھی تیزی سے ترقی جاری رہی۔ گزشتہ سال ایکسپریس پارسلز کی تعداد 198.9 ارب سے تجاوز کر گئی، جو سالانہ بنیاد پر 13.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یوں روزانہ اوسطاً تقریباً 55 کروڑ پارسلز جمع اور ترسیل کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں اور اشیاء کی مؤثر نقل و حرکت نے قومی معیشت میں گردش کے عمل کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ جدید ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام نے سماجی سطح پر لاجسٹک لاگت میں کمی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور ملکی تجارت کو فائدہ پہنچا ہے۔
چین کی ٹرانسپورٹ صنعت کی یہ مسلسل ترقی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری صرف سفری سہولیات تک محدود نہیں بلکہ یہ اقتصادی نمو، علاقائی ترقی، صنعتی تعاون اور عوامی خوشحالی کے لیے بھی ایک اہم محرک بن چکی ہے۔انہی مضبوط بنیادوں پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی جدید شاہراہوں، تیز رفتار ریلوے، ہوائی رابطوں اور سمارٹ لاجسٹکس نظام کی توسیع چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو مزید تقویت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔