چین کا عوامی فلاح، سماجی انصاف اور مشترکہ ترقی کا نیا روڈ میپ

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

18

دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک اپنی قومی حکمت عملیوں کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں۔ جدید دور میں انسانی حقوق کا تصور صرف سیاسی اور شہری آزادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں تعلیم، صحت، روزگار، سماجی تحفظ، ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایک نیا قومی انسانی حقوق ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس کا مقصد عوام کو ترقی کے ثمرات سے مزید مؤثر اور منصفانہ انداز میں مستفید کرنا اور انسانی حقوق کے تحفظ کو قومی ترقی کے عمل کا بنیادی جزو بنانا ہے۔

بیجنگ میں منعقدہ 2026 عالمی انسانی حقوق گورننس فورم کے موقع پر جاری کیے گئے اس قومی ایکشن پلان میں عوام کو ریاستی پالیسیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق عوامی مفادات کے تحفظ، انسانی وقار کے احترام اور سماجی انصاف کے فروغ کو آئندہ پانچ برسوں کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے فروغ کو قانون کی حکمرانی، مساوات، عملی اقدامات، ہم آہنگی اور مشترکہ کاوشوں کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا تاکہ فرد اور معاشرے دونوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں عوام کے بنیادی مفادات کے تحفظ، سماجی انصاف کے فروغ اور ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ چین اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جدیدیت کے عمل سے حاصل ہونے والے فوائد تمام شہریوں تک زیادہ مؤثر اور مساوی انداز میں پہنچ سکیں۔

اس ایکشن پلان کی پہلی اور اہم ترجیح اعلیٰ معیار کی ترقی کے ذریعے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ، کارکنوں کے حقوق و مفادات کا تحفظ اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کو بنیادی اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق روزگار کو ترجیحی پالیسی کے طور پر جاری رکھا جائے گا تاکہ مختلف شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور محنت کش طبقے کے قانونی حقوق کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

صحت کے شعبے میں بھی کئی اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت اوسط متوقع عمر کو 80 سال تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی جبکہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کو کم کرکے فی ہزار تین تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صحت عامہ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، طبی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانے اور عوامی صحت کے معیار کو بلند کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

تعلیم کے میدان میں لازمی تعلیم کے متوازن اور مربوط فروغ کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق تعلیم پر سرکاری اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے زیادہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ معیاری تعلیم تک عوام کی رسائی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق کو کم کرنا اور تمام بچوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔

ایکشن پلان کی دوسری بڑی ترجیح شہری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس حوالے سے حقِ زندگی، ذاتی معلومات کے تحفظ اور مذہبی عقائد کی آزادی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ دستاویز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

ماحولیاتی حقوق کے تحفظ کو بھی اس منصوبے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ چین رواں سال منظور کیے گئے ماحولیاتی ضابطہ قانون پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنائے گا اور "خوبصورت چین” کے تصور کے مطابق انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل طرز حکمرانی کے نظام کو وسعت دے گا۔ اس ضمن میں 2030 سے قبل کاربن کے اخراج کی بلند ترین سطح تک پہنچنے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور مفادات کا یکساں تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں قومیتی اقلیتوں، خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ہر فرد کو مساوی مواقع اور ترقی کے ثمرات تک رسائی حاصل ہو سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے شعبوں میں انسانی حقوق سے متعلق نئے تقاضوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے تناظر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نئے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے تعلیم، تحقیق، تربیت اور تشہیری سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے شعبے میں تعاون کو بھی اس منصوبے میں اہمیت دی گئی ہے۔ چین نے عالمی انسانی حقوق گورننس میں فعال کردار جاری رکھنے، مختلف ممالک کے ساتھ تعمیری مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق امور میں بھرپور شرکت اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ منصوبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے نظام کو زیادہ منصفانہ، متوازن اور مؤثر بنانے کے لیے تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

یہ نیا قومی انسانی حقوق ایکشن پلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین انسانی حقوق کو صرف ایک قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، عوامی خوشحالی اور سماجی استحکام کے جامع تصور کے طور پر دیکھتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، ماحولیات اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں طے کیے گئے اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے تحفظ کو آئندہ پانچ برسوں کی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف عوامی فلاح و بہبود میں مزید بہتری آئے گی بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے فروغ کے حوالے سے بھی نئے امکانات پیدا ہوں گے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button