چین میں صحت عامہ کا نیا دور

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

20

کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کا دارومدار ایک مضبوط اور مؤثر صحت عامہ کے نظام پر ہوتا ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں طبی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے، جدید ٹیکنالوجی کو علاج معالجے کا حصہ بنانے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان طبی سہولیات کے فرق کو کم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ اب بنیادی طبی مراکز، ڈیجیٹل صحت کے نظام اور طبی انشورنس میں اصلاحات کے ذریعے ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا مقصد ہر شہری کو معیاری، آسان اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں ہونے والے مجموعی طبی معائنوں اور علاج معالجے میں سے 52.6 فیصد بنیادی سطح کے طبی اداروں میں انجام دیے گئے، جو مسلسل پانچویں سال اضافہ ریکارڈ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پیش رفت کے لیے حکومت نے دیہی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں خدمات انجام دینے کے لیے ہزاروں ڈاکٹروں کی تربیت کا انتظام کیا، جنہیں مفت تعلیم اور رہائشی اخراجات کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ انہیں معاہدے کے تحت ان علاقوں میں خدمات انجام دینے کا پابند بھی بنایا گیا۔

بنیادی طبی مراکز میں صرف عام علاج تک محدود رہنے کے بجائے اب خصوصی طبی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ جون 2026 میں قومی صحت کمیشن نے ایک منصوبہ جاری کیا جس کے تحت 2030 تک تمام شہری ذیلی علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ سروس مراکز کی مکمل کوریج یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے میں بچوں کے امراض، دندان سازی، ذہنی صحت، گردوں کے مریضوں کے لیے ہیمو ڈائیلاسز سمیت متعدد خصوصی طبی خدمات کو وسعت دینے اور مصنوعی ذہانت کو تشخیص کے عمل میں معاون بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کے اثرات اب مقامی سطح پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ حال ہی میں صوبہ شان شی کے شہر شی آن میں اعلیٰ طبی اداروں کے 30 سے زائد ماہرین نے مقامی نوجوانوں کے لیے دانتوں اور بینائی کے مفت طبی معائنے کیے۔ اس کے ساتھ سینئر ماہرین کو مستقل بنیادوں پر مقامی مراکز میں خدمات انجام دینے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ڈیجیٹل تشخیص کی سہولت عوام کو ان کے اپنے محلوں میں دستیاب ہو سکے۔

طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ بچوں کی نگہداشت اور خاندانوں کی معاونت بھی حکومتی پالیسی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ حکومت یکم جنوری 2022 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے اہل خاندانوں کو مجموعی طور پر 10 ہزار 800 یوان کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، جو بچے کی تین سال عمر تک ہر سال 3 ہزار 600 یوان کی قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی نرسریوں اور کم عمر بچوں کی نگہداشت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اب تک تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ خاندان اس مالی معاونت سے مستفید ہو چکے ہیں جبکہ عوامی نرسریوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں مختلف صوبوں میں علاج کے لیے مریضوں کو اپنے ایکسرے اور دیگر طبی رپورٹس ساتھ لے جانا پڑتی تھیں، جس کی وجہ سے اکثر دوبارہ وہی طبی معائنے کرانے پڑتے تھے۔اس مسئلے کے حل کے لیے چین نے کلاؤڈ بیسڈ طبی معلوماتی نظام کی تیزی سے تعمیر شروع کی ہے، جس کے تحت شہریوں کے طبی ریکارڈ اور میڈیکل انشورنس کی معلومات ایک قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر محفوظ کی جا رہی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے ہر طبی تصویر اور رپورٹ کو ایک منفرد الیکٹرانک شناخت فراہم کی جاتی ہے، جس سے مختلف صوبوں کے ڈاکٹر مریض کی مکمل اور معیاری طبی معلومات محفوظ انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔

قومی طبی انشورنس انتظامیہ کے مطابق 12 مارچ 2026 تک 31 صوبائی سطح کے علاقوں اور سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور نے اس قومی نظام میں ڈیٹا اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں 34 کروڑ 90 لاکھ سے زائد طبی تصویری ریکارڈ محفوظ کیے جا چکے ہیں۔

چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے مطابق معاون تشخیص اور صحت کے انتظام میں ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ 2027 کے اختتام تک اس نظام کو ملک بھر میں مکمل طور پر مربوط کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

قومی طبی انشورنس فنڈ 2019 سے اب تک تقریباً 17.78 ٹریلین یوان خرچ کر چکا ہے، جبکہ اس کے اخراجات میں اوسط سالانہ 6.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس دوران حکومت نے عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جون 2026 میں ایک نیا ضابطہ متعارف کرایا، جس کے تحت مختلف صوبوں میں رہنے والے قریبی رشتہ دار بھی ایک دوسرے کے ذاتی طبی انشورنس اکاؤنٹس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے قومی طبی انشورنس پلیٹ فارم پر "میڈیکل والیٹ” متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے ملازمین اپنے ذاتی انشورنس اکاؤنٹ میں موجود اضافی رقم اپنے شریک حیات، والدین، بچوں، بہن بھائیوں اور دادا دادی یا نانا نانی کے علاج معالجے پر خرچ کر سکتے ہیں، خواہ وہ کسی دوسرے صوبے میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔

اس اقدام سے خاص طور پر ایسے خاندانوں کو بڑی سہولت ملے گی جن کے افراد روزگار کے سلسلے میں مختلف صوبوں میں مقیم ہیں۔ نئے نظام میں رشتہ داری کی تصدیق بھی آن لائن اور نہایت آسان طریقے سے کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ضروری دفتری کارروائی ختم ہو گئی ہے۔

یہ ذاتی طبی انشورنس اکاؤنٹس ہر فرد کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں، اس لیے ان میں موجود رقم کے استعمال کا اختیار بھی متعلقہ شہری کے پاس ہی رہتا ہے۔ اگرچہ مختلف صوبوں کے درمیان ان فنڈز کی منتقلی ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد خاندانوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا اور عوام کو زیادہ مؤثر طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔

چین میں صحت عامہ کے نظام میں جاری اصلاحات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدید طبی سہولیات، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جامع طبی انشورنس کو یکجا کر کے عوام کو زیادہ معیاری، آسان اور مساوی طبی خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بنیادی طبی مراکز کی مضبوطی، کلاؤڈ پر مبنی صحت کے نظام اور خاندانی طبی انشورنس جیسے اقدامات نہ صرف علاج معالجے کو زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں بلکہ ایک ایسے جدید صحت عامہ کے نظام کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں جس میں ہر شہری کو بروقت، محفوظ اور معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button