چین میں مصنوعی ذہانت کا صنعتی شعبوں میں عملی اطلاق
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

مصنوعی ذہانت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں ٹیکنالوجی، معیشت اور صنعت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ تاہم ایک بڑا سوال یہ رہا ہے کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز اور بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ صلاحیت کو حقیقی صنعتی اور کاروباری ضروریات سے کس طرح جوڑا جائے۔ اسی تناظر میں چین کے محققین نے ایک ایسا نیا اوپن سورس فریم ورک اور حقیقی کاروباری منظرناموں پر مبنی مقابلہ جاتی پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے جو مصنوعی ذہانت کو تجرباتی مرحلے سے نکال کر عملی صنعتی استعمال کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کو چین کی ڈیجیٹل معیشت، صنعتی جدیدیت اور مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
چین میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق سے وابستہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ اس نئے نظام کا مقصد اے آئی کی صلاحیتوں اور صنعتی میدان میں اس کے عملی استعمال کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہے۔ محققین کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی صنعت اس وقت ایک بنیادی تضاد کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک جانب لارج لینگویج ماڈلز اور مختلف اے آئی ٹولز کی صلاحیتوں میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب صنعتوں میں ان کے عملی استعمال کی رفتار نسبتاً سست ہے۔ اسی وجہ سے اب مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مرکزی سوال ماڈلز کی ذہانت میں اضافہ نہیں بلکہ انہیں مؤثر انداز میں عملی میدان میں نافذ کرنا بن چکا ہے۔
اسی مقصد کے لیے یانگسی ڈیلٹا ریجن انسٹی ٹیوٹ آف سنگھوا یونیورسٹی کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس انوویشن سینٹر نے "ریئل ورلڈ اے آئی” یا آر ڈبلیو اے آئی کے نام سے ایک نیا اوپن سورس فریم ورک تیار کیا ہے۔ یہ فریم ورک محض کوڈ اور سافٹ ویئر ٹولز تک محدود نہیں بلکہ کرداروں کی وضاحت، ورک فلو ڈیزائن، انسان اور مشین کے درمیان تعامل اور انسانی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو بھی ایک جامع نظام میں شامل کرتا ہے۔
محققین کے مطابق اس فریم ورک کی بنیاد تین اہم عناصر پر رکھی گئی ہے۔ ان میں حقیقی دنیا کے کاموں کی درست نمائندگی، انسانوں سے حاصل ہونے والی حقیقی فیڈ بیک اور انسان و مشین کے درمیان تعامل کے معیاری اصول شامل ہیں۔ ان عناصر کی مدد سے مصنوعی ذہانت کو حقیقی کاروباری اور صنعتی ماحول میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ آر ڈبلیو اے آئی روایتی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ماڈلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اس کی مدد سے منصوبوں کے ابتدائی جائزے اور تصدیق کے لیے درکار وقت، جو پہلے دو سے تین ماہ تک ہوتا تھا، کم ہو کر دو ہفتوں سے بھی کم رہ گیا ہے۔ اس سے صنعتی اداروں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا زیادہ آسان اور کم لاگت والا بن گیا ہے۔
اس فریم ورک کے ساتھ ایک منفرد "اے آئی ایرینا” پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ روایتی اے آئی درجہ بندیوں کے برعکس یہ پلیٹ فارم صرف ماڈلز کی کارکردگی کو نہیں جانچتا بلکہ حقیقی کاروباری ماحول میں مکمل حل کی افادیت کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں تنظیمی اخراجات، وقت کی بچت، کمپیوٹنگ لاگت اور ضابطہ جاتی تقاضوں جیسے عوامل کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
پلیٹ فارم میں "چیلنجر اور چیمپئن” نظام اپنایا گیا ہے جہاں مقابلہ صرف ایک ماڈل کے درمیان نہیں بلکہ مکمل حل کے درمیان ہوتا ہے۔ ان حلوں میں ورک فلو، مختلف اے آئی ایجنٹس، ٹیم کی ساخت اور عملی حکمت عملی شامل ہوتی ہے۔ کامیاب قرار پانے والے طریقہ کار کو بعد ازاں عوامی سطح پر دستیاب کیا جاتا ہے تاکہ دیگر ادارے بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس پلیٹ فارم کے صنعتی فوائد بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ چین کے بجلی کے شعبے سے وابستہ ایک بڑے ادارے نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حفاظتی نگرانی کے لیے اس فریم ورک کو استعمال کیا۔ روایتی نگرانی کے نظام میں پیچیدہ قواعد و ضوابط اور دستی معائنوں کی وجہ سے کارکردگی محدود ہو گئی تھی۔ نئے نظام کی مدد سے پوشیدہ خطرات کی نشاندہی کی شرح تقریباً 40 فیصد بڑھ گئی جبکہ خطرات سے متعلق پیشگی انتباہ کی درستگی 92 فیصد تک پہنچ گئی۔
اسی طرح پیٹروکیمیکل صنعت سے وابستہ ایک بڑے ادارے نے گزشتہ تین دہائیوں کے پیداواری تجربات اور صنعتی ڈیٹا کو اس پلیٹ فارم کے ساتھ یکجا کر کے ایک ایسا صنعتی اے آئی ماڈل تیار کیا جو کاروباری ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام کی مدد سے پیداواری لائنوں میں غیر متوقع تعطل میں نمایاں کمی آئی جبکہ پیداوار کے شیڈول کو زیادہ مؤثر طریقے سے ترتیب دینا ممکن ہوا، جس سے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوا۔
آج یہ پلیٹ فارم صنعتی پیش گوئی، دستاویزات کے جائزے، خطرات کے انتظام اور تحقیقی رپورٹس کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے مختلف منصوبے پہلے ہی کئی عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں میں نافذ کیے جا چکے ہیں، جس سے اس کی عملی افادیت مزید واضح ہو رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں صرف جدید ماڈلز تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کے عملی اور صنعتی استعمال کو بھی اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، صنعتی پیداوار، توانائی، مینوفیکچرنگ اور کاروباری نظم و نسق کے درمیان بڑھتا ہوا یہ انضمام مستقبل کی معیشت کا ایک اہم رجحان بن کر ابھر رہا ہے۔
مجموعی طور پر آر ڈبلیو اے آئی فریم ورک اور اے آئی ایرینا پلیٹ فارم کا اجرا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اگلا مرحلہ محض ذہین ماڈلز کی تیاری نہیں بلکہ انہیں حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ چین کی یہ کاوش نہ صرف صنعتی شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کے لیے ایک نئے معیار کے طور پر بھی سامنے آ سکتی ہے۔ مستقبل میں جب صنعتیں زیادہ ذہین، خودکار اور ڈیٹا پر مبنی ہوں گی تو ایسے نظام ہی ٹیکنالوجی اور معیشت کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کریں گے۔