سرسبز پہاڑ، صاف پانی اور ترقی کا نیا تصور

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

06

دنیا بھر میں ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن آج حکمرانی کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی ممالک صنعتی ترقی اور اقتصادی نمو کے حصول میں قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک ایسا ترقیاتی ماڈل اختیار کیا ہے جس میں اقتصادی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا گیا ہے۔ یہی سوچ آج چین کی سبز ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی بنیاد بن چکی ہے۔

اگست 2005 میں چین کے صوبہ زے جیانگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں یُو چھون میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جس نے بعد ازاں چین کی ماحولیاتی پالیسی کی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس وقت شی جن پھنگ صوبہ زے جیانگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی صوبائی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے ایک دورے کے دوران انہوں نے مقامی حکام سے ملاقات کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ گاؤں نے اپنی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جانے والی کان کنی اور سیمنٹ سازی کی صنعتیں بند کر دی ہیں کیونکہ ان سے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔

اُس وقت یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کان کنی اور سیمنٹ سازی مقامی معیشت کا اہم ستون تھیں اور ان کی بندش سے روزگار اور آمدنی متاثر ہوئی تھی۔ تاہم جب مقامی انتظامیہ نے شی جن پھنگ کو بتایا کہ برسوں کی کان کنی اور صنعتی سرگرمیوں نے گاؤں کو گردوغبار، دھوئیں اور آلودگی کے حصار میں جکڑ رکھا تھا، تو انہوں نے اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیا۔ اسی موقع پر شی جن پھنگ نے وہ تصور پیش کیا جو بعد میں چین کی ماحولیاتی حکمت عملی کا بنیادی نعرہ بن گیا: "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں”۔

یہ تصور دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ قدرتی ماحول خود ایک معاشی سرمایہ ہے اور اس کا تحفظ مستقبل کی پائیدار ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ شی جن پھنگ کا مؤقف تھا کہ وقتی معاشی فوائد کے حصول کے لیے ماحولیات کو قربان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ حقیقی ترقی وہی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو۔

اس دور میں صوبہ زے جیانگ تیزی سے صنعتی ترقی کر رہا تھا، لیکن اس کے ساتھ زمین کی قلت، ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر رہے تھے۔ بعض علاقوں میں صورتحال یہ تھی کہ بجلی کی فراہمی ہفتے میں صرف چند دن دستیاب ہوتی تھی جبکہ نصف سے زائد صنعتی ادارے بجلی کی بندش سے متاثر تھے۔ ان چیلنجز کو دیکھتے ہوئے شی جن پھنگ نے 2003 میں ایک جامع ترقیاتی منصوبہ متعارف کرایا جس میں ماحولیاتی تحفظ کو نمایاں مقام دیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت مقامی حکام کو یہ پیغام دیا گیا کہ حکمرانی کی کامیابی کا معیار صرف مجموعی قومی پیداوار یا معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری ہونی چاہیے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق شی جن پھنگ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ مختصر المدتی معاشی فوائد کے لیے ماحولیات کو نقصان پہنچانا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک بہتر ماحول دراصل پیداواری صلاحیت میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔

یُو چھون گاؤں اس سوچ کی عملی مثال بن گیا۔ بند کی گئی فیکٹریوں اور کانوں کی جگہ سرسبز میدانوں نے لے لی۔ ماحول بہتر ہوا تو مقامی افراد نے سیاحت، دیہی مہمان خانوں اور زرعی سرگرمیوں کی جانب توجہ دینا شروع کی۔ چند برسوں میں گاؤں کی معیشت دوبارہ مستحکم ہو گئی اور مقامی آبادی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بعد ازاں یہی تصور پورے چین میں وسعت اختیار کر گیا۔ 2012 میں شی جن پھنگ کے چین کی اعلیٰ قیادت سنبھالنے کے بعد ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کو قومی حکمت عملی کا حصہ بنا دیا گیا۔ ملک بھر میں ماحولیاتی قوانین کو مزید سخت کیا گیا، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا گیا اور مختلف علاقوں میں ماحولیاتی کارکردگی کو مقامی حکام کی کارکردگی جانچنے کے اہم پیمانوں میں شامل کر لیا گیا۔

ان اقدامات کے نتائج بھی نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ کئی برسوں تک فضائی آلودگی اور دھند کے مسائل کا سامنا کرنے والے چین میں آج نیلا آسمان معمول بنتا جا رہا ہے۔ 2025 میں ملک میں تقریباً 89 فیصد دن ایسے ریکارڈ کیے گئے جن میں فضائی معیار اچھا یا بہترین رہا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

اسی طرح جنگلات کے رقبے میں اضافہ، قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تیز رفتار ترقی اور توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال کے حوالے سے چین دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی تنصیبات میں چین عالمی سطح پر اہم مقام رکھتا ہے جبکہ ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔

رواں سال چین نے ماحولیاتی ضابطہ قانون بھی منظور کیا ہے، جسے ماحولیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے بہتر استعمال اور پائیدار ترقی کے اہداف کو مزید مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔

جب شی جن پھنگ نے 2020 میں دوبارہ یُو چھون گاؤں کا دورہ کیا تو وہاں کا منظر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ سرسبز پہاڑ، شفاف پانی، جدید رہائش گاہیں اور فروغ پاتی سیاحت اس بات کا ثبوت تھیں کہ سبز ترقی کا راستہ نہ صرف ماحولیات بلکہ معیشت کے لیے بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس تجربے کو درست سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک مرتبہ صحیح راستے کا انتخاب کر لیا جائے تو پھر ثابت قدمی کے ساتھ اسی پر گامزن رہنا چاہیے۔

آج یُو چھون صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ چین کی سبز ترقی کی سوچ کی علامت بن چکا ہے۔ یہ تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پائیدار ترقی صرف اقتصادی اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کا وہ سفر ہے جو خوشحالی، ماحولیات کے تحفظ اور بہتر معیارِ زندگی کو ایک ساتھ آگے بڑھاتا ہے۔ یہی تصور چین کی جدید ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکا ہے اور مستقبل میں بھی ملک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کی رہنمائی کرتا رہے گا۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button