ایک مضبوط اور خاندان دوست سماجی نظام
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا کے کئی ممالک کی طرح چین کو بھی آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے چیلنج کا سامنا ہے، جہاں شرح پیدائش میں کمی اور عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے باعث مستقبل کی ترقی اور سماجی توازن کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بچوں کی پیدائش اور پرورش کے لیے سازگار ماحول بنانے کی کوششوں کے تحت چین نے خاندانوں کی معاونت کے لیے مختلف پالیسی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق رواں سال ملک بھر میں 2 کروڑ 51 لاکھ 60 ہزار بچوں کو بچوں کی نگہداشت سے متعلق مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ یہ اقدام خاندانوں پر بچوں کی پرورش کے اخراجات کم کرنے اور زیادہ سازگار سماجی ماحول تشکیل دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
چین میں بچوں کی نگہداشت کے لیے قومی سبسڈی پروگرام 2025 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت تین سال سے کم عمر ہر بچے کے لیے ماہانہ تقریباً 44 امریکی ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں۔رواں سال مرکزی حکومت نے بچوں کی نگہداشت کی سبسڈی کے لیے 99.9 ارب یوآن مختص کیے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کی شمولیت کے بعد 2026 میں اس پروگرام پر مجموعی اخراجات تقریباً 110 ارب یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چین میں حالیہ برسوں کے دوران آبادی سے متعلق صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ 2022 کے بعد ملک کی مجموعی آبادی میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جبکہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کم ہوتی شرح پیدائش اور بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کو مستقبل کے لیے اہم سماجی اور اقتصادی چیلنجز قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں بچوں کی پیدائش کے لیے سازگار ماحول کی تعمیر چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ منصوبے میں بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی، زچگی، بچوں کی نگہداشت اور تعلیم سے متعلق اخراجات کم کرنے سمیت متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔متعلقہ پالیسیوں کا مقصد نومولود بچوں کی تعداد کو مستحکم کرنا اور طویل المدتی بنیادوں پر آبادی کی متوازن ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بچوں کی نگہداشت کے لیے مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کے مطابق یہ اقدام روزمرہ اخراجات میں عملی مدد فراہم کر رہا ہے۔اس معاونت سے بچوں کی پرورش کے اخراجات میں کمی آئی ہے اور حکومت کی جانب سے خاندانوں کی مدد کا احساس بھی مضبوط ہوا ہے۔
رواں سال متعارف کرائی گئی آن لائن "ایک کلک تجدید” سہولت نے بھی درخواست دینے کے عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اب خاندان آن لائن طریقہ کار کے ذریعے زیادہ تیزی اور سہولت کے ساتھ اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بچوں کی نگہداشت کی سبسڈی کے علاوہ چین نے حالیہ برسوں میں خاندانوں کی معاونت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں رہائشی سہولیات میں مدد، بچوں کی نگہداشت کے مراکز میں اضافہ اور کام کے زیادہ لچکدار طریقہ کار شامل ہیں۔اسی سلسلے میں ملک کے 28 صوبائی سطح کے علاقوں نے ہسپتال میں زچگی کے دوران خاندانوں کی اپنی جیب سے ہونے والی ادائیگیوں کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں، تاکہ خواتین اور خاندانوں پر مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
ان اقدامات کے اثرات آبادی کے رجحانات میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ 2024 میں چین میں پیدائش کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2017 کے بعد پہلی مرتبہ سالانہ اضافے کی صورت تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آبادی کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ بدلتے ہوئے آبادیاتی حالات کے پیش نظر بچوں کی پیدائش، پرورش اور خاندانوں کی معاونت کے لیے جامع پالیسیوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق بچوں کی نگہداشت کی سبسڈی ایک اہم قدم ہے، تاہم اسے مزید بہتر بنانے اور دیگر معاون پالیسیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خاندانوں کو طویل مدت تک مؤثر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
چین کی جانب سے بچوں کی نگہداشت، تعلیم، صحت اور روزگار سے متعلق معاون اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آبادی کے مسئلے کو صرف تعداد کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ عوامی فلاح، معیار زندگی اور مستقبل کی پائیدار ترقی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک مضبوط اور خاندان دوست سماجی نظام آنے والے برسوں میں معاشی اور سماجی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔