بدین: ظہیر حسین حیدری کی نئی کتاب لھو مان لاٽ ٻرندي آ کی تقریبِ رونمائی


ظہیر حسین حیدری کی کتاب لہو مان لاٽ ٻرندي آ کی تقریبِ رونمائی بدین

سندھ کے معروف سیاسی، سماجی، علمی و ادبی شخصیت، مصنف اور مزاحمتی قلم کار ظہیر حسین حیدری کی سندھی زبان میں تحریر کردہ نئی کتاب "لہو مان لاٽ ٻرندي آ” کی تقریبِ رونمائی نذیر حسین حیدری اکیڈمی کے زیرِ اہتمام خواجہ جماعت ہال بدین میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سندھ بھر سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سیاسی، سماجی، مذہبی اور ادبی شخصیات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

قلم ہمیشہ حق، سچ اور انسانیت کی آواز رہا ہے: پروفیسر اخلاق احمد

تقریب کے مہمانِ خصوصی سندھ کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت پروفیسر اخلاق احمد اخلاق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا:

"قلم ہمیشہ حق، سچ، انصاف اور انسانیت کی آواز رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھا کر اس کی عظمت کو واضح کیا ہے۔ ظہیر حسین حیدری کا قلم ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے اور ان کی تحریروں میں واقعۂ کربلا، ائمہ اہلِ بیتؑ کی قربانیاں اور حضرت علیؓ کی انسان دوستی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ظہیر حسین حیدری کی کتاب دراصل حسینیت، مزاحمت اور حق کی جدوجہد کا استعارہ ہے، جبکہ کتاب ظلم اور مظلوم کے درمیان جاری تاریخی کشمکش کو موثر انداز میں بیان کرتی ہے۔

کربلا ظلم کے خلاف جدوجہد کا ابدی پیغام ہے: ظہیر حسین حیدری

کتاب کے مصنف ظہیر حسین حیدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ:

  • حق و عدل کی علامت: حضرت علیؓ اور حضرت امام حسینؓ پوری انسانیت کے لیے حق، عدل، حریت اور استقامت کی علامت ہیں۔
  • ابدی پیغام: کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے مظلوموں کے لیے ظلم کے خلاف جدوجہد کا ابدی پیغام ہے۔
  • عالمی اثرات: دنیا کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی امام حسینؓ کی قربانی سے ثابت قدمی اور آزادی کی جدوجہد کا درس حاصل کیا۔

علمی و ادبی شخصیات کا اظہارِ خیال

تقریب میں دیگر ممتاز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور کتاب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی:

  • خادم تالپر (رہنما عوامی جمہوری پارٹی و ماہر تعلیم): کتاب میں انسان دوستی، مزاحمت اور حق پر ڈٹے رہنے کا واضح پیغام موجود ہے۔ ظہیر حسین حیدری نے اپنے والد کامریڈ نذیر حسین کے فکری ورثے کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے، تاہم نئی نسل کے تقاضوں کے مطابق جدید، سائنسی اور فکری موضوعات پر بھی مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔
  • ڈاکٹر شفقت حسین جعفری (معروف طبی ماہر): مصنف نے اپنی تحریروں کے ذریعے حق و سچ کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔
  • مختیار حسین خواجہ (صدر خواجہ جماعت بدین): ظہیر حسین حیدری کی تمام تصانیف واقعۂ کربلا اور حسینیت کی فکری روایت کو زندہ رکھتی ہیں، تاہم "لہو مان لاٽ ٻرندي آ” ایک تاریخی اور فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب میں عشقِ علیؓ، حبِ امام حسینؓ، قربانی، ایثار اور سچائی کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

مظلوم طبقے کی آواز اور حق و باطل کی کشمکش

تقریب سے علمی و ادبی شخصیات قائم الدین ڈاہری، ناصر بلوچ، مولانا عابد حسین عابدی، مولانا حیدر علی، حسنین خواجہ، اللہ بچایو بھرگڑی، سنئیر صحافی تنویر احمد آرائیں، غلام مصطفی جمالی، ظفر حسین حیدری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے قلم کو مظلوم طبقے کی آواز بنایا اور ہمیشہ ظالم قوتوں کو بے نقاب کیا۔

مقررین نے کتاب کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے درج ذیل نکات پر زور دیا:

  1. ظلم کے خلاف جرات: انسانی تاریخ میں ظلم کے سامنے "نہ” کہنا سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی پیغام اس کتاب کا بنیادی فکری محور بھی ہے۔
  2. حق کی جدوجہد: تاریخ ہمیشہ حق اور باطل کی جنگ سے عبارت رہی ہے اور ظہیر حسین حیدری نے اپنے قلم کے ذریعے حق کا پرچم بلند رکھا ہے۔
  3. فکری سرمایہ: ظفر حسین حیدری نے کہا کہ یہ کتاب سندھ کے مزاحمتی ادب میں ایک اہم اضافہ اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری سرمایہ ہے۔ کتاب عشقِ علیؓ اور حبِ امام حسینؓ کے فلسفے کو نہایت مدلل انداز میں پیش کرتی ہے اور واقعۂ کربلا کو انسانیت کی بقا، آزادی اور کردار سازی کا سرچشمہ قرار دیتی ہے۔

خراجِ تحسین اور اختتامی نشست

تقریب کے اختتام پر مصنف ظہیر حسین حیدری کو شرکاء کی جانب سے ان کی ادبی خدمات پر شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ حاضرین نے کتاب کو انقلابی اور مزاحمتی ادب میں ایک اہم اور قابلِ قدر اضافہ قرار دیا۔

اس موقع پر معروف شاعر اشرف حسرت جعفری نے انقلابی کلام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

تنویر احمد آرائیں

تنویر احمد ارائیں، سینئر صحافی، صدر بدین پریس کلب اور سینئر نائب صدر حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس۔ آپ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button