چین، غیر ملکی سیاحوں کی نئی پسند

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

foreign tourists

گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسی جگہوں کی تلاش میں نکلتے ہیں جہاں قدرتی حسن کے ساتھ خوشگوار موسم بھی میسر ہو۔ اب چین بھی ایسے ممالک میں شامل ہوتا جا رہا ہے جہاں غیر ملکی سیاح صرف مشہور تاریخی مقامات کی سیر کے لیے نہیں بلکہ ٹھنڈے موسم، مقامی ثقافت، جدید سہولتوں اور منفرد خریداری کے تجربات کے لیے بھی بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔ سیاحت کے بدلتے رجحانات نے چین میں نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے بلکہ مقامی معیشت اور صارفین کی منڈی کو بھی نئی توانائی فراہم کی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق شمالی نصف کرہ میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ چین آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف سفری پلیٹ فارمز کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے دوران یورپی ممالک چین آنے والے اہم سیاحتی ذرائع میں شامل رہے، جبکہ یورپ سے سیاحوں کی بکنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 275 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں مختلف سیاحتی مقامات کے ٹکٹوں کی بکنگ میں بھی 20 گنا سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

چین کے قدرتی حسن سے مالا مال اور نسبتاً ٹھنڈے موسم والے علاقے اس وقت غیر ملکی سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، شفاف چشمے اور خوشگوار آب و ہوا ایسے مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں جو شدید گرمی سے بچتے ہوئے قدرتی ماحول میں وقت گزارنا چاہتے ہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کا کہنا ہے کہ چین کے قدرتی مناظر نہ صرف دلکش ہیں بلکہ یہاں کا صاف ستھرا ماحول، مقامی لوگوں کا خوش اخلاق رویہ اور بہتر سیاحتی انتظامات سفر کو مزید خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ کئی سیاحوں کے مطابق چین میں قدرتی حسن اور جدید سہولتوں کا امتزاج ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔

چین کی ویزا پالیسیوں میں نرمی اور 240 گھنٹے کے ویزا فری ٹرانزٹ پروگرام نے بھی غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آسان سفری طریقہ کار اور تیز امیگریشن سہولتوں کے باعث بیرون ملک سے آنے والے مسافر کم وقت میں اپنی سیاحتی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔

قدرتی مقامات کے ساتھ ساتھ جدید ٹرانسپورٹ نظام بھی سیاحت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ تیز رفتار ریل رابطوں نے مختلف سیاحتی علاقوں تک سفر کو زیادہ آسان، آرام دہ اور کم وقت طلب بنا دیا ہے، جس کے باعث سیاح ایک ہی سفر میں متعدد مقامات کی سیر کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چین کی مقامی مصنوعات بھی غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں استعمال ہونے والی جدید اور کم قیمت اشیا، جیسے پورٹیبل پنکھے، ٹھنڈک فراہم کرنے والی مصنوعات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بیرون ملک سے آنے والے خریداروں میں مقبول ہو رہی ہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد سفر سے پہلے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مختلف چینی مصنوعات کے بارے میں معلومات حاصل کرتی ہے اور پھر چین پہنچ کر انہی مصنوعات کی خریداری کو اپنے سفر کا حصہ بناتی ہے۔ بعض خریدار اپنے موبائل فون میں تصاویر محفوظ کرکے آتے ہیں تاکہ وہ پسندیدہ مصنوعات آسانی سے تلاش کر سکیں۔

کاروباری مراکز اور دکانوں میں بھی غیر ملکی خریداروں کے لیے سہولتیں بہتر بنائی جا رہی ہیں۔ اگر کسی دکان میں مطلوبہ چیز دستیاب نہ ہو تو متعلقہ عملہ دوسرے گودام یا برانچ سے وہی مصنوعات فراہم کرنے کا انتظام بھی کر دیتا ہے، جس سے خریداری کا تجربہ مزید آسان اور خوشگوار بن رہا ہے۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے بہتر نظام، ٹیکس ریفنڈ کی وسیع سہولتوں اور ویزا پالیسیوں میں نرمی نے چین کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوٹلوں، ریستورانوں، خریداری مراکز اور دیگر کاروباری شعبوں کو بھی نمایاں فائدہ پہنچ رہا ہے۔

سیاحت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے غیر ملکی سیاح صرف رہائش اور مشہور مقامات کی سیر تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ مقامی ثقافت، روایتی کھانوں، خریداری، روزمرہ زندگی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ یہی رجحان چین کی سیاحت کو روایتی سیاحتی سفر سے آگے بڑھا کر ایک جامع ثقافتی تجربے میں تبدیل کر رہا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران چین میں غیر ملکی شہریوں کے 2 کروڑ 29 لاکھ 10 ہزار سے زائد سفری اندراجات ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے 1 کروڑ 78 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ویزا فری پالیسی کے تحت چین آئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 30.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

سیاحت کے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج کا مسافر صرف نئی جگہیں دیکھنا نہیں چاہتا بلکہ وہ وہاں کے معاشرے، ثقافت، طرزِ زندگی اور مقامی تجربات کو بھی محسوس کرنا چاہتا ہے۔ چین میں قدرتی حسن، جدید سہولتوں، آسان سفری پالیسیوں اور متنوع ثقافتی تجربات کا امتزاج غیر ملکی سیاحوں کو اسی نوعیت کا تجربہ فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث ملک عالمی سیاحتی نقشے پر پہلے سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button