انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی حکمتِ عملی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
آج کی دنیا میں اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل نے ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ ترقی کے نئے ماڈلز اختیار کریں۔ چین بھی اسی پس منظر میں ایسی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں معیشت کی ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔

اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا خاکہ سامنے آیا ہے جو آئندہ برسوں میں ملک کی ترقی کی سمت متعین کرے گا۔ اس منصوبے میں ماحول دوست ترقی، کاربن اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ 2035 تک جدید سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے ہدف کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے طے کیے گئے 20 اہم اشاریوں میں سے پانچ براہِ راست سبز اور کم کاربن ترقی سے متعلق ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماحول دوست ترقی کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں فی یونٹ جی ڈی پی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں مجموعی طور پر 17 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح مجموعی توانائی کے استعمال میں غیر فوسل توانائی کا حصہ 25 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے جو 2025 میں 21.7 فیصد تھا۔
چین کی سبز ترقی کی پالیسی کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی قومی حکمتِ عملی سمجھا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کی جڑیں چین کی روایتی فکری روایت میں بھی ملتی ہیں جس میں انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو اہمیت دی جاتی ہے۔قدیم چینی مفکرین بھی انسانیت اور فطرت کے باہمی تعلق پر زور دیتے تھے۔ اس سوچ کے مطابق انسان فطرت پر غلبہ حاصل کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارے۔ اسی نظریے کو جدید دور میں اس تصور کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے کہ صاف پانی اور سرسبز پہاڑ دراصل قیمتی معاشی وسائل ہیں۔
چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی اس حقیقت سے بھی متاثر ہے کہ ملک کی آبادی بہت بڑی ہے جبکہ فی کس قدرتی وسائل محدود ہیں۔ مثال کے طور پر چین میں فی کس قابلِ کاشت زمین دنیا کے اوسط کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے جبکہ فی کس میٹھے پانی کے وسائل عالمی اوسط کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہیں۔
اسی طرح فی کس جنگلاتی رقبہ بھی عالمی اوسط کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان حالات میں وہ روایتی ترقیاتی ماڈل جس میں پہلے صنعتی ترقی اور بعد میں ماحولیاتی صفائی کی جاتی تھی، چین کے لیے قابلِ عمل نہیں سمجھا جاتا۔اسی لیے نئے منصوبے میں سبز پیداوار اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے جامع اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ 2030 سے پہلے تخفیف کاربن اخراج کے عروج کے ہدف کو حاصل کیا جائے اور 2060 تک کاربن غیر جانبداری کی منزل کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں کاربن کے اہداف کو صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی تبدیلی کے محرک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت آلودگی میں کمی، سبز صنعتوں کی ترقی اور اقتصادی ترقی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔یہ پالیسی مالیات، تجارت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں نافذ کی جا رہی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو قومی ترقی کے ہر پہلو کا حصہ بنایا جا سکے۔
آئندہ پانچ برسوں میں سبز اور کم کاربن ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تقریباً 100 قومی سطح کے زیرو کاربن صنعتی پارکس قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ 10 ہزار کلومیٹر سے زیادہ زیرو کاربن ٹرانسپورٹ راہداریوں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔اس کے ساتھ کاربن اخراج کے کنٹرول کے لیے ایک جامع نظام بھی نافذ کیا جائے گا جس میں مختلف سطحوں پر نگرانی شامل ہوگی۔ اس نظام کے تحت مقامی حکومتوں، صنعتی شعبوں اور کاروباری اداروں کے لیے کاربن کے اہداف مقرر کیے جائیں گے اور مصنوعات کے کاربن اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
گزشتہ برسوں میں چین کی سبز پالیسیوں کے واضح نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران دنیا میں جتنے نئے سبز جنگلاتی علاقے شامل ہوئے ان میں تقریباً ایک چوتھائی چین میں قائم ہوئے۔اسی طرح فضائی آلودگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور بین الاقوامی مطالعات میں چین کو فضائی معیار میں تیزی سے بہتری لانے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔سبز ترقی نے چین کی صنعتی معیشت کو بھی نئی سمت دی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں چین اس وقت دنیا میں سرفہرست ہے اور عالمی سطح پر شمسی پینلز اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات کی بڑی مقدار چین ہی فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح چین دنیا کی سب سے بڑی نئی توانائی گاڑیوں کی منڈی بن چکا ہے۔ 2025 میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت نئی مسافر گاڑیوں کی مجموعی فروخت کے نصف سے زیادہ تک پہنچ گئی۔تحقیقی جائزوں کے مطابق 2025 میں چین کی اقتصادی ترقی میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجیوں سے آیا۔
چین کے نئے ترقیاتی منصوبے کے تحت کاروباری اداروں کے لیے بھی سبز سوچ کو اپنانا ضروری ہو گیا ہے۔ اب صنعتی ترقی میں ماحول دوست طریقوں کو اختیار کرنا نہ صرف حکومتی پالیسی کا حصہ ہے بلکہ کاروباری مسابقت کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔گزشتہ برسوں میں متعدد صنعتی اداروں نے توانائی کی بچت، ماحول دوست پیداوار اور سبز ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے۔ مسلسل اور واضح پالیسیوں کے باعث کمپنیوں کو طویل المدتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری میں اعتماد بھی حاصل ہوا ہے۔
چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اپنی ترقی کو صرف اقتصادی پیمانوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو بھی اس کا لازمی حصہ بنانا چاہتا ہے۔ سبز توانائی، کم کاربن صنعتوں اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دے کر چین ایک ایسا ترقیاتی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔ مستقبل میں یہی حکمتِ عملی نہ صرف چین بلکہ عالمی ماحولیاتی استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔