ماحولیاتی تحفظ سے سبز ترقی تک

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

environment2

موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، جنگلات میں لگنے والی آگ، شدید سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عالمی یوم ماحولیات 2026 کا پیغام "اب موسمیاتی اقدام کا وقت ہے” بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے حالات میں چین نے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جو نہ صرف ملک کے اندر مثبت نتائج دے رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار ترقی کے لیے ایک قابلِ توجہ مثال بن رہی ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ نے ماحولیات کے تحفظ اور سبز ترقی کو ہمیشہ قومی ترقی کے اہم ستونوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی جانب سے پیش کیا گیا تصور کہ "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” آج چین کی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد بن چکا ہے۔ یہ نظریہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کو ماحول دوست پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ دریائے یانگسی، زرد دریا اور دریائے لان چھانگ کے منبع پر واقع سان جیانگ یوان کا علاقہ، جسے چین کا "واٹر ٹاور” بھی کہا جاتا ہے، اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2021 میں قومی پارک کے قیام کے بعد یہاں ماحولیات کے تحفظ اور مقامی آبادی کی معاشی ترقی کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے ایک منفرد نظام متعارف کرایا گیا۔ تقریباً بیس ہزار چرواہوں کو ماحولیاتی نگہبانوں کے طور پر ملازمت دی گئی، جو حکومتی معاونت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سبزہ زاروں، دلدلی علاقوں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

دریائے یانگسی، جو چین کی آبادی کے ایک بڑے حصے اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کی بحالی کے لیے بھی وسیع اقدامات کیے گئے ہیں۔ 2021 میں دریا کے اہم حصوں میں دس سالہ ماہی گیری پابندی نافذ کی گئی جبکہ آلودگی کے خاتمے اور آبی نظام کی بحالی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دریائے یانگسی کی مشہور "مسکراتا فرشتہ” کہلانے والی ڈولفن سمیت کئی آبی انواع کی تعداد میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

صحرا زدہ علاقوں کی بحالی کے حوالے سے بھی چین نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 1978 میں شروع ہونے والا "تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ” منصوبہ شمالی چین کے وسیع صحرائی علاقوں کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے دنیا کے بڑے ماحولیاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 کے اختتام تک تقریباً تین لاکھ چھتیس ہزار مربع کلومیٹر رقبے کو بحال کیا جا چکا تھا، جو تقریباً جرمنی کے کل رقبے کے برابر ہے۔ اس منصوبے کے تجربات سے افریقہ سمیت دیگر خطوں میں ماحولیاتی بحالی کے اقدامات کو بھی رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں قانونی اصلاحات بھی چین کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ رواں سال نافذ کیے گئے ماحولیات سے متعلق ضابطہ قانون نے ماحولیاتی تحفظ کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ یہ قانون موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے اہم شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

چین کی سبز ترقی کی حکمت عملی صرف ملکی سطح تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کا دائرہ بھی وسیع ہو رہا ہے۔ وسطی ایشیا، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر خطوں میں قابلِ تجدید توانائی کے متعدد منصوبوں میں چینی ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ازبکستان میں قائم ایک بڑے ونڈ پاور منصوبے سے لاکھوں گھروں کو صاف توانائی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی آ رہی ہے۔

اسی طرح چینی ساختہ شمسی پینل، ونڈ ٹربائنز اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں دنیا کے دو سو سے زائد ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان مصنوعات نے ماحول دوست ٹیکنالوجی کو زیادہ قابلِ رسائی اور کم لاگت بنایا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو اپنی سبز ترقی کی حکمت عملیوں پر عمل درآمد میں مدد مل رہی ہے۔

افریقہ اور بحرالکاہل کے بعض جزیرہ نما ممالک میں چین کی جانب سے صاف توانائی اور ماحول دوست منصوبوں کے ذریعے عوامی زندگی میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔ صاف ایندھن والے چولہوں، شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس اور دیگر مقامی نوعیت کے منصوبوں کے ذریعے روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

چین صرف منصوبوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ شراکت دار ممالک کی صلاحیت سازی پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ تربیتی پروگراموں، تکنیکی تعاون اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے مقامی افراد کو ماحول دوست ترقی کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ بعض ممالک میں چینی تعاون سے قائم توانائی منصوبوں میں مقامی ملازمین کی اکثریت کام کر رہی ہے، جو اس حکمت عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں کو بعض اوقات سیاسی اختلافات، تجارتی تنازعات اور مالی وعدوں میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں چین مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ سبز ترقی اور کم کاربن معیشت مستقبل کا ناگزیر راستہ ہیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے بھی متعدد مواقع پر زور دیا ہے کہ سبز اور کم کاربن ترقی عصر حاضر کا عمومی رجحان ہے اور عالمی برادری کو اس سمت میں اپنے عزم کو برقرار رکھنا چاہیے۔

چین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصول پر عمل ہونا چاہیے، تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔ یہی سوچ شمال اور جنوب کے درمیان ترقیاتی فرق کو کم کرنے اور عالمی سطح پر منصفانہ سبز منتقلی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر چین کا تجربہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ طویل المدتی منصوبہ بندی، مضبوط پالیسی تسلسل، تکنیکی جدت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں ترقی بھی ہو اور ماحولیات کا تحفظ بھی۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ سرسبز، محفوظ اور پائیدار دنیا کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین کالم نگار رابطہ