چین کا زرعی و دیہی جدیدیت کا نیا منصوبہ

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

agri rural
default

چین نے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدیدیت کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو مزید مستحکم کرنا، دیہی علاقوں کی ترقی کو فروغ دینا اور چینی طرز جدیدیت کے اہداف کے حصول میں زراعت کو ایک مضبوط ستون کے طور پر استوار کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، زرعی وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار ترقی جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں چین کا یہ اقدام نہ صرف ملکی سطح پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ عالمی زرعی ترقی کے لیے بھی قابلِ توجہ مثال بن سکتا ہے۔

چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ منصوبے میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران زرعی اور دیہی شعبے کی ترقی کے لیے اہم اہداف، پالیسی اقدامات اور عملی لائحہ عمل متعین کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک ملک کی غذائی تحفظ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، زرعی شعبے کی معیار، کارکردگی اور مسابقت میں نمایاں بہتری لائی جائے گی جبکہ غربت کے خاتمے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید مستحکم اور وسعت دی جائے گی۔

منصوبے میں دو لازمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک چین کی مجموعی اناج پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 725 ملین ٹن تک پہنچائی جائے، جبکہ دوسرا ہدف زرعی مصنوعات کے معیار اور تحفظ کو بہتر بناتے ہوئے معمول کی جانچ پڑتال میں کامیابی کی شرح کو کم از کم 98 فیصد تک بڑھانا ہے۔

اس کے علاوہ منصوبے میں تیرہ دیگر متوقع اہداف بھی شامل کیے گئے ہیں جن کا تعلق گوشت کی پیداوار، زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال، سبز زرعی ترقی، دیہی علاقوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور زرعی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے سے ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق آئندہ مرحلے میں صرف اناج اور دیگر اہم زرعی مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ نہیں دی جائے گی بلکہ زرعی شعبے کے معیار اور افادیت کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنایا جائے گا تاکہ عوام کی غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

چین گزشتہ چند برسوں کے دوران زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے اور نئی پالیسی اسی سفر کا تسلسل ہے۔ 2025 میں چین کی اناج کی پیداوار تقریباً 714.9 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو مسلسل دوسرے سال سات سو ملین ٹن سے متجاوز رہی ہے۔ اسی عرصے میں زرعی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی مجموعی شراکت 64 فیصد سے بڑھ گئی جبکہ فصلوں کی کاشت اور برداشت میں مشینری کے استعمال کی جامع شرح 76.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

نئے منصوبے میں زرعی ترقی میں سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار کو مزید وسعت دینے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک زرعی ترقی میں سائنسی و تکنیکی پیش رفت کی شراکت کو 67 فیصد تک بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے زرعی تحقیق، جدید بیجوں کی تیاری، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل زراعت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔

منصوبے کے مطابق زراعت میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کو تیز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ذہین ڈیزائن پر مبنی افزائش نسل، نئی توانائی سے چلنے والی زرعی مشینری، کم بلندی والی زرعی معیشت، زرعی حیاتیاتی مینوفیکچرنگ اور نئی غذائی مصنوعات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو فروغ دیا جائے گا۔چینی حکام کا اس حوالے سے یہ بھی  کہنا ہے کہ ان شعبوں کی ترقی سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت کو بھی نئی رفتار ملے گی۔

زرعی جدیدیت کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی مجموعی ترقی بھی اس منصوبے کا ایک اہم جزو ہے۔ منصوبے میں رہائش اور کام کرنے کے لیے خوبصورت، ہم آہنگ اور جدید دیہی علاقوں کی تعمیر پر زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے اور شہری و دیہی ترقی کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

منصوبے کے تحت زرعی ترقی کے بڑے منصوبوں پر بھی کام کیا جائے گا، جن میں اعلیٰ معیار کی زرعی زمینوں کی تعمیر، زرعی سائنسی و تکنیکی اختراعات کی صلاحیت میں اضافہ اور خوراک کے ذخیرے اور تحفظ کے لیے جدید کولڈ چین لاجسٹکس نظام کی تعمیر شامل ہے۔ اسی طرح زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

چین کی دیہی ترقی کی حکمت عملی میں سبز اور پائیدار ترقی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ منصوبے کے مطابق زرعی شعبے میں سبز تبدیلی کے عمل کو تیز کیا جائے گا، ماحول دوست زرعی طریقوں کو فروغ دیا جائے گا اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری کو بھی ترقیاتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔

یہ منصوبہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین زرعی اور دیہی ترقی کو محض خوراک کی پیداوار تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے اقتصادی ترقی، سماجی استحکام، ماحولیاتی تحفظ اور قومی جدیدیت کے وسیع تر اہداف سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنسی تحقیق اور سبز ترقی کے امتزاج کے ذریعے چین ایک ایسے زرعی نظام کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جو زیادہ پیداواری، زیادہ پائیدار اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔

مجموعی طور پر پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت زرعی اور دیہی جدیدیت کا یہ جامع پروگرام چین کی غذائی تحفظ، دیہی خوشحالی اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے عزم کا مظہر ہے۔ اگر یہ اہداف کامیابی سے حاصل ہو جاتے ہیں تو نہ صرف چین کی زرعی پیداوار اور دیہی معیشت مزید مستحکم ہوگی بلکہ جدید، سبز اور سائنسی زراعت کے میدان میں بھی ایک نئی مثال قائم ہوگی، جو مستقبل میں عالمی زرعی ترقی کے لیے اہم رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین کالم نگار رابطہ