چین کی ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کی کوشش

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

AI digital

دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں یہ ٹیکنالوجی صنعت، تعلیم، صحت، تحقیق اور روزمرہ زندگی کے کئی شعبوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک یکساں انداز میں نہیں پہنچ رہے۔ کچھ ممالک جدید کمپیوٹنگ وسائل، ڈیٹا اور تکنیکی صلاحیتوں کے باعث تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں زیادہ وسیع عالمی شمولیت کے لیے چین نے ایک نئے تعاون پر مبنی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر مکمل اور مربوط تعاون کا ایک نیا نظام قائم کرنا ہے۔

جاری کردہ مصنوعی ذہانت کے تعاون اور ترقی سے متعلق عملی منصوبے میں تیزی سے ترقی کرتی اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک جامع تعاون کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس میں ڈیٹا، کمپیوٹنگ طاقت، ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام، صنعتی ترقی، ہنرمند افراد کی تیاری، قوانین و معیارات، حکمرانی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوؤں سمیت آٹھ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود عدم توازن کو کم کرنا، معیاری ڈیٹا تک رسائی کو بہتر بنانا، زیادہ ممالک کو جدید کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کرنا اور اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے وسیع تر تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی کے موجودہ دور میں صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنا کافی نہیں بلکہ اس تک وسیع پیمانے پر رسائی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور محفوظ استعمال کے لیے عالمی تعاون بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔یہ منصوبہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی وسائل، تکنیکی ماحول، صنعتی استعمال اور سلامتی سے متعلق حکمرانی کو ایک مربوط نظام میں جوڑتا ہے تاکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ترقی زیادہ متوازن اور پائیدار انداز میں آگے بڑھ سکے۔

اس منصوبے کے تحت اعلیٰ معیار کے ڈیٹا تک رسائی میں اضافہ، ذہین کمپیوٹنگ خدمات کو زیادہ جامع بنانا اور اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے اشتراک کو فروغ دینا شامل ہے۔اس مکمل تعاون کے فریم ورک کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد کو زیادہ ممالک تک پہنچانے میں مدد ملے گی اور ٹیکنالوجی کے نئے انقلاب سے پیدا ہونے والے مواقع میں زیادہ سے زیادہ ممالک شریک ہو سکیں گے۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے پاس یکساں تکنیکی وسائل موجود نہیں۔ جدید کمپیوٹنگ مراکز، بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور ماہر افرادی قوت کی کمی کے باعث کئی ترقی پذیر ممالک اس میدان میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔نئے منصوبے کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو چند ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عالمی تعاون کے ذریعے زیادہ وسیع بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اگر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کی جائے تو ترقی پذیر ممالک کے لیے صحت، زراعت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔چین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف تکنیکی برتری حاصل کرنے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ یہ انسانی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بننی چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ کچھ نئے خطرات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ڈیٹا کا غلط استعمال، جعلی ڈیجیٹل مواد، الگورتھمز میں ممکنہ تعصب اور سلامتی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔نئے منصوبے میں ان عالمی نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، اس لیے کوئی ایک ملک اکیلے ان مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتا۔ تمام ممالک کے درمیان تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر ہی محفوظ اور منصفانہ مصنوعی ذہانت کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے یہ منصوبہ چین کی جانب سے عالمی تعاون کے لیے کیے جانے والے متعدد اقدامات کا تسلسل ہے۔ اسی سلسلے میں عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی سے متعلق شنگھائی اعلامیہ اور دیگر اقدامات بھی سامنے آ چکے ہیں، جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی کو زیادہ محفوظ، ذمہ دارانہ اور سب کے لیے فائدہ مند بنانا ہے۔

موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت صرف ایک تکنیکی میدان نہیں بلکہ عالمی ترقی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی چند ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا کے تمام خطوں کو اس کے فوائد حاصل کرنے کے مواقع ملیں۔

چین کی جانب سے پیش کردہ یہ منصوبہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل مقابلے سے زیادہ تعاون سے وابستہ ہے۔ اگر عالمی برادری مشترکہ اصولوں، کھلے تبادلے اور ذمہ دارانہ استعمال کے راستے پر آگے بڑھے تو مصنوعی ذہانت نہ صرف ڈیجیٹل فرق کو کم کر سکتی ہے بلکہ دنیا بھر میں پائیدار ترقی اور انسانی فلاح کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button