چین میں ڈیلیوری کارکنوں کے لیے بدلتا نظام

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

delivery riders

شہر کی مصروف سڑکوں پر موٹر سائیکلوں پر تیزی سے گزرتے ڈیلیوری کارکن اب روزمرہ زندگی کا عام منظر ہیں۔ ایک طرف صارفین تک کھانا اور اشیا بروقت پہنچانے کی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسری جانب ٹریفک، موسم اور سڑکوں کی صورتحال جیسی رکاوٹیں بھی موجود رہتی ہیں۔ ایسے میں چند منٹ کی تاخیر بھی اگلے آرڈر کو متاثر کر سکتی ہے۔ چین میں اب ٹیکنالوجی کے ذریعے اس نظام میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد رفتار کے ساتھ کارکنوں کی حفاظت اور بنیادی حقوق کو بھی اہمیت دینا ہے۔

اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ٹریفک سگنل پر انتظار کا وقت ہے۔ نئے نظام میں سرخ بتی پر رکنے کے دوران گزرنے والا وقت خودکار طور پر ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اسے ڈیلیوری کے لیے دی گئی مدت میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کارکن کو آرڈر وقت پر پہنچانے کے لیے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ بعض پلیٹ فارمز نے شدید موسم، غیر معمولی سڑکوں کی صورتحال اور دیگر ایسے حالات میں بھی تاخیر پر جرمانے سے استثنیٰ دینا شروع کیا ہے جو کارکن کے اختیار سے باہر ہوں۔

ڈیلیوری کے آخری مرحلے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی کم کیا جا رہا ہے۔ بعض رہائشی علاقوں میں پہلے موٹر سائیکلوں کے داخلے پر پابندی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے کارکنوں کو گاڑی باہر چھوڑ کر پیدل جانا پڑتا تھا۔ اب شناخت کی تصدیق پر مبنی ڈیجیٹل داخلہ نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے ڈیلیوری کارکن اپنی موٹر سائیکل کے ساتھ اندر جا سکتے ہیں۔ اس سے غیر ضروری وقت بچنے کے ساتھ ایک آرڈر کی تاخیر کا اثر اگلے آرڈرز پر پڑنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

ڈیلیوری کے متوقع وقت کے تعین میں بھی لچک پیدا کی جا رہی ہے۔ بعض پلیٹ فارمز نے دیر سے پہنچنے پر جرمانے کم یا ختم کیے ہیں اور صارفین کو ایک مخصوص لمحے کے بجائے متوقع وقت کی مدت بتانا شروع کی ہے۔ اس طریقے سے اچانک پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کی گنجائش بڑھتی ہے اور کارکنوں پر ہر حال میں مقررہ منٹ کے اندر پہنچنے کا دباؤ کم ہوتا ہے۔

اس نظام کے پیچھے کام کرنے والے الگورتھم کو زیادہ شفاف بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ آرڈر کس کارکن کو دیا جائے، قیمت کس طرح مقرر ہو، انعام یا جرمانہ کن بنیادوں پر ہو اور ڈیلیوری کا وقت کیسے طے کیا جائے، یہ سب فیصلے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اب بعض پلیٹ فارم کارکنوں کو ان اصولوں کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے کام اور آمدنی پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ قواعد میں تبدیلی کے وقت کارکنوں کے نمائندوں اور متعلقہ تنظیموں کی رائے لینے کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

یہ اصلاحات نئی طرز کے روزگار سے وابستہ کارکنوں کے لیے وسیع تر سماجی تحفظ کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ ڈیلیوری کارکنوں کے علاوہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور، مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور، آن لائن تشہیر اور براہِ راست آن لائن نشریات سے وابستہ افراد اور گھریلو خدمات فراہم کرنے والے کارکن بھی اس بدلتے روزگار کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد روایتی مستقل ملازمت کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کرتے ہیں، اس لیے روایتی سماجی بیمہ نظام کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ آسان نہیں رہا۔

اسی ضرورت کے تحت پیشہ ورانہ حادثات سے تحفظ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں تحفظ کو روایتی ملازمت کے معاہدے کے بجائے اس بات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حادثہ پلیٹ فارم کے آرڈر پر کام کے دوران پیش آیا یا نہیں۔ کارکنوں کو اس تحفظ کی براہِ راست لاگت ادا نہیں کرنا پڑتی۔ 2022 میں آزمائشی بنیاد پر شروع ہونے والی یہ سہولت رواں سال جولائی سے ملک بھر میں وسیع کر دی گئی اور جولائی کے اختتام تک اس میں شامل افراد کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی۔

سماجی تحفظ کا دائرہ پیشہ ورانہ حادثات سے آگے بھی بڑھ رہا ہے۔ بعض پلیٹ فارم مستقل ڈیلیوری کارکنوں کے لیے پنشن، طبی، بے روزگاری، پیشہ ورانہ حادثات اور زچگی کے سماجی بیمہ پروگراموں کے ساتھ رہائشی بچت فنڈ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ بعض دیگر اہل کارکنوں کے لیے پنشن اور طبی بیمہ میں مالی معاونت دے رہے ہیں۔ قومی سطح پر نئی طرز کے روزگار سے وابستہ مزید افراد کو بنیادی پنشن بیمہ نظام میں شامل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

ان اقدامات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ڈیلیوری کارکن جدید شہری زندگی کے اہم سہولت کار بن چکے ہیں۔ گھروں تک کھانا، روزمرہ اشیا اور مختلف خدمات پہنچانے والا یہ نظام شہروں کے معمولات کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے اس شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ان افراد کے لیے محفوظ اور مناسب کام کا ماحول فراہم کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

چین میں جاری تبدیلیاں اس تصور کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی صرف کام کی رفتار بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ کارکنوں کے تحفظ اور سہولت کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ سرخ بتی پر رکنے کے وقت کو ڈیلیوری کے دورانیے میں شامل کرنا بظاہر ایک چھوٹی اصلاح ہے، لیکن یہ اس وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے جس میں شہری خدمات کے نظام میں کارکردگی کے ساتھ انسانی ضرورتوں کو بھی جگہ دی جا رہی ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button