چھٹیوں کا نیا انداز

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

VACATIONS
default

چھٹیوں کا مطلب کبھی کسی پرسکون مقام پر چند دن گزارنا، خوبصورت مناظر دیکھنا اور یادگار تصاویر بنانا ہوا کرتا تھا، لیکن سفر کا یہ تصور اب تیزی سے بدل رہا ہے۔ چین میں نوجوانوں کی ایک نئی نسل تعطیلات کو محض آرام کے بجائے مہم جوئی، کھیل اور جسمانی سرگرمی کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ کوئی دشوار پہاڑی راستوں پر گاڑی دوڑاتا ہے، کوئی نئے شہر کی گلیوں میں میراتھن دوڑتا ہے اور کوئی ساحل پر سرفنگ سیکھنے پہنچ جاتا ہے۔ اس نئے رجحان کو ’’اسپورٹ کیشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس طرز کی تعطیلات میں منزل سے زیادہ سفر کے تجربے کو اہمیت حاصل ہے۔ نوجوان کسی مقام پر پہنچ کر صرف اسے دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ اس کی فضا، قدرتی ماحول اور مقامی زندگی کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے پہاڑ، ساحل، صحرا اور شہری راستے سب کھیلوں سے جڑی سیاحت کے نئے مراکز بن رہے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں آف روڈ ڈرائیونگ اس رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ دشوار گزار راستوں اور ناہموار پہاڑی زمین پر گاڑی چلانے کے لیے مہارت، صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شائقین بعض اوقات اپنے سفر کی خاص تیاری کئی ہفتے پہلے شروع کرتے ہیں اور طویل فاصلہ طے کرکے ایسے مقامات تک پہنچتے ہیں۔ دن کا بیشتر حصہ پہاڑوں میں گزرتا ہے، جہاں راستے کی مشکل کے ساتھ گاڑی کی خرابی یا اچانک پیدا ہونے والی صورتحال بھی سفر کا حصہ بن جاتی ہے۔

ایسی سرگرمیوں کی کشش صرف مہم جوئی میں نہیں بلکہ اس احساس میں بھی ہے کہ روزمرہ زندگی کے معمول سے کچھ دیر کے لیے مکمل طور پر باہر نکلا جائے۔ شہری کام اور مسلسل مصروفیات کے بعد قدرتی ماحول میں ایک مشکل سرگرمی کا انتخاب بہت سے نوجوانوں کے لیے ذہنی تازگی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ تھکن کے باوجود منزل تک پہنچنے کا اطمینان اس تجربے کو مزید یادگار بنا دیتا ہے۔

اشتہار

کھیل اور سفر کے امتزاج کی ایک اور مقبول صورت شہری میراتھن اور ہاف میراتھن ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے لیے نوجوان اپنی تعطیلات کا رخ ان مقامات کی طرف کر رہے ہیں۔ اس طرح کسی شہر کی سیر ایک مختلف انداز اختیار کر لیتی ہے۔ تاریخی راستوں، ساحلی پگڈنڈیوں یا شہری گلیوں سے دوڑتے ہوئے گزرنا عام سیاحتی دورے کے مقابلے میں شہر کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوڑ کے دوران سامنے آنے والے مقامی مناظر اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربات بھی سفر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کسی مشہور مقام پر چند منٹ گزارنے کے بجائے پورے راستے میں شہر کو دیکھنا ایک زیادہ متحرک تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے نوجوان میراتھن کو کھیل کے مقابلے کے ساتھ ساتھ شہر دریافت کرنے کا ذریعہ بھی سمجھنے لگے ہیں۔

اس رجحان نے کھیلوں سے متعلق مصنوعات اور خدمات کی طلب بھی بڑھا دی ہے۔ دوڑنے والے جوتوں، کھیلوں کے لباس، دھوپ کے چشموں اور ٹوپیوں سے لے کر گھٹنوں کی حفاظتی پٹیوں اور پیدل سفر کے سامان تک مختلف اشیا کی خریداری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کھیلوں پر مبنی سفر سیاحت کے ساتھ ایک وسیع صارف منڈی کو بھی متحرک کر رہا ہے۔

اس تبدیلی کے پیچھے صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی ایک اہم وجہ ہے۔ بہت سے نوجوان چاہتے ہیں کہ تعطیلات کے دوران بھی ان کا معمول مکمل طور پر غیر فعال نہ ہو۔ ورزش، دوڑ یا بیرونی سرگرمی کو سفر کے ساتھ شامل کرنے سے انہیں تفریح اور جسمانی سرگرمی دونوں کا موقع ملتا ہے۔ یوں چھٹیوں کے دوران آرام اور ورزش کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنے کے بجائے دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

چین کے مختلف علاقوں نے بھی اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کو نئے سیاحتی مواقع میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں سرفنگ، پیڈل بورڈنگ اور چٹان پر چڑھنے جیسی سرگرمیاں پیش کی جا رہی ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں آف روڈ ڈرائیونگ، سائیکلنگ اور پیدل سفر کے راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔ صحرائی خطوں میں دوڑ اور رات کے وقت کھلے آسمان تلے کھیلوں کی سرگرمیوں نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

کچھ ساحلی علاقوں میں نوجوانوں نے کھیلوں سے بھرپور تعطیلات کو غیر رسمی طور پر ’’اسپورٹس اسکول‘‘ سے تشبیہ دینا شروع کر دیا ہے۔ صبح ورزش یا دوڑ سے دن کا آغاز ہوتا ہے اور پھر سرفنگ یا دیگر سرگرمیوں میں وقت گزرتا ہے۔ اس طرز کی تعطیلات میں روایتی آرام کم اور مصروفیت زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہی مصروفیت نوجوانوں کے لیے تفریح بن جاتی ہے۔

قدرتی مناظر بھی اس نئے سیاحتی تجربے کو منفرد بناتے ہیں۔ صحرائی ریت پر دوڑتے ہوئے دور تک پھیلا قدرتی منظر، ساتھ بہتا دریا اور رات کے آسمان پر ستاروں کا نظارہ کھیل کو محض جسمانی سرگرمی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک مکمل سفری تجربے میں بدل دیتا ہے۔ یہاں مقابلے میں کامیابی سے زیادہ ماحول سے لطف اندوز ہونا اہم ہو جاتا ہے۔

اس رجحان نے سیاحت کی صنعت کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ چین اپنے سیاحتی شعبے میں نئی کشش پیدا کرنے اور معیاری سفری تجربات کو وسعت دینے پر توجہ دے رہا ہے۔ کھیلوں سے وابستہ سرگرمیاں ایسے علاقوں کو بھی سیاحتی نقشے پر نمایاں کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جو روایتی تاریخی یا ثقافتی مقامات کے طور پر معروف نہیں۔ اس طرح قدرتی وسائل کو نئے انداز میں استعمال کرکے مقامی معیشت کے لیے آمدنی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اسپورٹ کیشن کی مقبولیت دراصل تفریح کے بارے میں بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاس ہے۔ آج بہت سے نوجوان ایسی چھٹی چاہتے ہیں جس میں کچھ نیا سیکھنے، جسمانی صلاحیت آزمانے اور ماحول کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع ملے۔ اس میں سفر محض ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہیں رہتا بلکہ خود ایک سرگرمی بن جاتا ہے۔

چین میں کھیلوں اور سیاحت کا یہ امتزاج مستقبل میں مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ پہاڑی راستوں سے ساحلی لہروں اور صحرائی میدانوں تک، مختلف جغرافیائی خطے اپنی قدرتی خصوصیات کو فعال سیاحت کے مواقع میں بدل رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی نسل کے لیے چھٹیوں کی اصل کشش شاید صرف یہ نہیں کہ سفر کے دوران کیا دیکھا گیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس سفر میں خود کیا کیا گیا اور کون سا نیا تجربہ حاصل ہوا۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button