چین میں روبوٹس کے لیے نئی ملازمتوں کی دنیا
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

ایک وقت تھا جب روبوٹس کو دیکھ کر لوگوں کے ذہن میں نمائشوں، فلموں یا مستقبل کی دنیا کا تصور آتا تھا، لیکن اب یہ مشینیں بتدریج روزمرہ زندگی اور حقیقی کام کے ماحول کا حصہ بن رہی ہیں۔ گھر کے کاموں سے لے کر صنعتی سرگرمیوں، خدمات اور بزرگوں کی دیکھ بھال تک، روبوٹس مختلف شعبوں میں اپنی عملی صلاحیت دکھا رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ایک نئی ضرورت بھی سامنے آئی ہے، اور وہ ہے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے کام سکھانے کے لیے تربیت کی فراہمی۔
چین میں روبوٹس کی بڑھتی ہوئی عملی تعیناتی اسی وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ تجارتی خدمات کی ایک بڑی نمائش میں ایسے روبوٹس پیش کیے گئے جو دکانیں چلا رہے تھے، ڈاک کے کام انجام دے رہے تھے، کھانے پینے کی اشیا تیار کر رہے تھے اور صارفین کو مختلف خدمات فراہم کر رہے تھے۔ اس طرح روبوٹ محض لوگوں کی توجہ حاصل کرنے والی نمائش سے نکل کر حقیقی کام کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔
نمائش میں ایک انسان نما روبوٹ بغیر کسی انسانی عملے کے ایک سہولت مرکز میں خدمات انجام دیتا دکھائی دیا۔ اس نوعیت کے مراکز پہلے ہی بعض سیاحتی مقامات پر کام کر رہے ہیں اور روزانہ بڑی تعداد میں آنے والے افراد کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روبوٹ پوسٹ کارڈ پر مہر لگانے، اسے ڈاک کے ڈبے میں ڈالنے اور صارفین کے لیے مختلف اشیا لانے جیسے کام انجام دیتا رہا۔ قریب ہی ایک روبوٹ آرڈر کے مطابق پین کیک تیار کر رہا تھا جبکہ دوسرا کافی بنا کر اس پر خوبصورت نقش و نگار بھی بنا رہا تھا۔
یہ مناظر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روبوٹس کی ترقی اب صرف ان کی ظاہری شکل یا حرکت تک محدود نہیں رہی۔ اصل توجہ اس بات پر ہے کہ انہیں ایسے پیچیدہ کام کیسے سکھائے جائیں جو عام طور پر انسان اپنی مشاہداتی صلاحیت، تجربے اور ہاتھوں کی حرکات کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
تاہم روبوٹس کو نمائش میں کام کرتے دکھانا اور انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں مسلسل اور قابلِ اعتماد انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا دو مختلف مرحلے ہیں۔ چین میں انسان نما روبوٹس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن ان میں سے بہت کم روبوٹس حقیقی پیداواری لائنوں پر مستقل طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ تربیت کے لیے درکار معیاری اور حقیقی دنیا سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی کمی ہے۔
حقیقی کام کی جگہ کسی نمائش کے اسٹیج سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ فیکٹریوں میں اشیا کی شکل، وزن، جگہ اور ماحول مسلسل بدل سکتا ہے، جبکہ روبوٹ کو مختلف حالات میں درست فیصلہ کرتے ہوئے کام انجام دینا پڑتا ہے۔ اسی لیے صرف پہلے سے پروگرام کیے گئے احکامات کافی نہیں ہوتے۔ روبوٹس کو انسانوں کے حقیقی کام کرنے کے انداز سے سیکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔
چین میں اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روبوٹس کی ایک طرح کی پیشہ ورانہ تربیت گاہیں قائم کی جا رہی ہیں، جہاں مشینوں کو مختلف عملی کاموں کی مشق کرائی جاتی ہے۔ ایسے مراکز میں سینکڑوں روبوٹس گھریلو کاموں، دیکھ بھال اور صنعتی سرگرمیوں کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں سامان اٹھانے، رکھنے، کپڑے استری کرنے اور پیداواری لائن پر مختلف اشیا کو درست مقام پر رکھنے جیسے کام سکھائے جاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران ہر حرکت سے متعلق قیمتی اعداد و شمار بھی جمع ہوتے ہیں، جو مستقبل میں روبوٹس کی تربیت اور کارکردگی بہتر بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔
اس شعبے کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ روبوٹس کی تربیت بھی ایک باقاعدہ پیشہ بن رہی ہے۔ چین نے انسان نما روبوٹس کے لیے تربیت اور عملی استعمال سے متعلق نئی پیشہ ورانہ درجہ بندی متعارف کرائی ہے، جس میں روبوٹس کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے اور انہیں تربیت دینے والے کارکنوں کے لیے مخصوص شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روبوٹک صنعت کے پھیلاؤ کے ساتھ صرف مشینیں ہی نہیں بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی نئی انسانی مہارتیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔
روبوٹس کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی بھی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ پہلے انسانی حرکات کو ریکارڈ کرنے کے لیے محدود اور مخصوص لیبارٹری آلات استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اب ایسے قابلِ نقل نظام تیار کیے جا رہے ہیں جنہیں حقیقی ماحول میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سر پر نصب آلات اور دیگر حسّی ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کے ہاتھوں کی حرکات، جسمانی عمل اور مختلف کام انجام دینے کے طریقے ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔ یہی معلومات بعد میں روبوٹس کو اسی نوعیت کے کام انجام دینے کی تربیت دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
اس عمل میں صرف حرکت کو ریکارڈ کرنا کافی نہیں۔ روبوٹ کو یہ بھی سمجھنا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کتنی طاقت سے پکڑنا ہے، اس کی سطح کیسی ہے اور اسے منتقل کرتے وقت کس طرح توازن برقرار رکھنا ہے۔ اسی مقصد کے لیے لمس اور دباؤ محسوس کرنے والے حسّی آلات اور زیادہ باریک حرکات انجام دینے والے روبوٹک ہاتھ تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح روبوٹس کو انسانی ہاتھوں کی پیچیدہ حرکات کے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پورے عمل کا دائرہ چین تک محدود نہیں۔ چینی روبوٹک کمپنیوں کی تیار کردہ مشینیں بیرون ملک صنعتی اداروں میں بھی پہنچ رہی ہیں، جہاں انہیں بیٹری سازی سمیت مختلف پیداواری کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں صرف روبوٹس کی برآمد ہی اہم نہیں ہوگی بلکہ ان کی تربیت، ڈیٹا، سافٹ ویئر، تکنیکی معاونت اور بیرون ملک خدمات بھی ایک بڑی تجارتی صنعت بن سکتی ہیں۔
یوں روبوٹک انقلاب صرف نئی مشینیں بنانے تک محدود نہیں رہا۔ اس کے ساتھ تربیت، ڈیٹا، حسّی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت، صنعتی خدمات اور عالمی تعاون کا ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں روبوٹس کی اصل کامیابی اس بات سے طے نہیں ہو گی کہ وہ نمائشوں میں کتنے متاثر کن نظر آتے ہیں، بلکہ یہ کہ حقیقی زندگی میں کتنے قابلِ اعتماد، مفید اور مسلسل کام انجام دے سکتے ہیں۔ چین میں اس سمت میں جاری پیش رفت ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں روبوٹ صرف دکھائی دینے والی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت اور روزمرہ زندگی کا عملی حصہ ہوں گے۔