چینی سنیما کی نئی کشش

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

cinema

گرمیوں کی چھٹیوں میں سنیما گھروں کی رونق ہمیشہ خاص ہوتی ہے، لیکن اس سال چین میں فلمی موسم کی کہانی ایک مختلف انداز میں سامنے آئی۔ چند ماہ پہلے تک سست دکھائی دینے والی فلمی مارکیٹ نے موسم کے دوسرے نصف میں رفتار پکڑی، نئی فلموں نے ناظرین کو دوبارہ سنیما گھروں تک پہنچایا اور تین ماہ کے اختتام پر مجموعی آمدنی میں مسلسل دوسرے سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چین کا 2026 کا گرمیوں کا فلمی سیزن جون سے اگست تک جاری رہا اور پیر کو اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران فلموں نے تقریباً 12.5 ارب یوان، یعنی ایک ارب 84 کروڑ امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کے تقریباً 12 ارب یوان کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ سنیما گھروں میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 34 کروڑ ہو گئی، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 32 کروڑ 10 لاکھ اور 2024 میں 28 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

اگرچہ یہ اعداد و شمار 2023 کے ریکارڈ گرمیوں کے سیزن سے اب بھی خاصے کم ہیں، جب آمدنی 20.6 ارب یوان اور ناظرین کی تعداد 50 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس سال فلموں کے معیار، موضوعات اور انداز میں تنوع نے امید کی نئی فضا پیدا کی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب فلمی صنعت نئی ٹیکنالوجی، بدلتی ہوئی ناظرین کی پسند اور سست مارکیٹ کے اثرات سے گزر رہی ہے، مسلسل دوسرے سال ترقی کو صنعت کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھا گیا۔

اس سال کا فلمی موسم ابتدا میں نسبتاً سست رہا، لیکن جیسے جیسے نئی فلمیں ریلیز ہوتی گئیں، سنیما گھروں میں سرگرمی بڑھتی گئی۔ موسم کے دوسرے نصف میں آمدنی اور ناظرین دونوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس رجحان نے یہ اشارہ دیا کہ چینی فلمی مارکیٹ میں مشکلات کے باوجود ناظرین کی دلچسپی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ بہتر اور مختلف مواد ملنے پر وہ دوبارہ سنیما کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔

اشتہار

اس فلمی موسم میں کامیڈی، جنگ، اینیمیشن، ایکشن اور بین الاقوامی فلموں سمیت مختلف اصناف نے جگہ بنائی۔ ’’کنگ فو سوکر‘‘ نے 11 جولائی کو نمائش کے بعد سب سے زیادہ توجہ حاصل کی اور تقریباً 2.3 ارب یوان کما کر سیزن کی سب سے کامیاب فلم بن گئی۔ اس کے بعد جنگ کے پس منظر میں بنائی گئی ’’ونس اپون اے ٹائم اِن دی مڈل ایسٹ‘‘ نے تقریباً 1.9 ارب یوان کمائے، جبکہ اینیمیٹڈ فینٹسی فلم ’’آل وشز کَم ٹرو‘‘ نے تقریباً 1.8 ارب یوان حاصل کیے۔ ہالی ووڈ کی ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ بھی تقریباً 1.5 ارب یوان کے ساتھ ایک ارب یوان سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والی فلموں میں شامل رہی۔

کرسٹوفر نولن کی ’’دی اوڈیسی‘‘ نے تقریباً 60 کروڑ یوان کمائے، جبکہ جرائم پر مبنی فلم ’’وی‘‘، جنگی فلم ’’کراسنگ‘‘ اور ایکشن تھرلر ’’دی فیوریس‘‘ نے بالترتیب تقریباً 40 کروڑ، 29 کروڑ اور 20 کروڑ یوان کا کاروبار کیا۔

لیکن اس موسم کی خاص بات صرف بڑی آمدنی حاصل کرنے والی فلمیں نہیں تھیں۔ بعض نسبتاً کم آمدنی والی فلموں نے بھی کہانی، انداز اور موضوع کے باعث خاص توجہ حاصل کی۔ اینیمیشن اسٹوڈیو کی ’’تھری کنگڈمز: دی بِگننگ‘‘ نے تقریباً 9 کروڑ یوان کمائے، لیکن اسے ناقدین کی جانب سے پذیرائی ملی۔ یہ ایک مجوزہ تین حصوں پر مشتمل سلسلے کی پہلی فلم تھی اور اس کی محدود ابتدائی آمدنی کے باوجود مثبت ردعمل نے مستقبل میں اس کے لیے مضبوط ناظرین کی بنیاد بننے کی امید پیدا کی۔

اس سیزن کی سب سے نمایاں فلموں میں ’’ونس اپون اے ٹائم اِن دی مڈل ایسٹ‘‘ بھی شامل رہی، جس نے جنگ کو روایتی انداز سے مختلف زاویے سے پیش کیا۔ کہانی میں فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں کو مرکزی کردار بنانے کے بجائے ایک چینی باورچی، ریستوران کے کارکنوں اور بچوں کی زندگیوں کو مرکز بنایا گیا، جو جنگ کے دوران معمول کی زندگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس فلم کا بنیادی خیال بھی سادہ مگر مؤثر تھا۔ جنگ تباہی اور خوف کی علامت ہے، جبکہ کھانا زندگی، خوشی اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی علامت بن سکتا ہے۔ اسی تضاد کے ذریعے فلم نے جنگ کے ایک ایسے انسانی پہلو کو سامنے لانے کی کوشش کی جو عام طور پر بڑی جنگی کہانیوں میں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس انداز کو چینی سنیما کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی کہانی سنانے کی صلاحیت مضبوط کرنے کی ایک مثال بھی قرار دیا گیا۔

ایک اور نمایاں کامیابی اینیمیٹڈ فلم ’’آل وشز کَم ٹرو‘‘ کی رہی، جس نے چینی لوک داستانوں کے آٹھ تاؤ متی لافانی کرداروں کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔ انہیں شروع ہی سے کامل اور مقدس کردار دکھانے کے بجائے عام انسانوں کی طرح دکھایا گیا، جن میں کمزوریاں، اختلافات اور ذاتی مفادات موجود تھے۔ وقت کے ساتھ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دینا سیکھتے ہیں اور اسی عمل کے ذریعے ان کی شخصیت مکمل ہوتی ہے۔

یہ انداز نوجوان ناظرین کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوا کیونکہ روایتی داستان کو جدید بصری انداز اور کھیلوں جیسی کہانی کی ساخت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یوں قدیم لوک روایت کو نئی نسل کے ذوق سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جیسا کہ اس سے پہلے بعض کامیاب اینیمیٹڈ فلموں میں بھی دیکھا گیا تھا۔

چینی فلمی صنعت اس وقت ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز نے فلم سازی، مواد کی تیاری اور ناظرین کے رویوں پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف بڑی تعداد میں فلمیں بنانا کافی نہیں بلکہ ناظرین کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلق پیدا کرنے والی کہانیوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اسی لیے اس سال کے فلمی موسم کا اصل پیغام صرف 12.5 ارب یوان کی آمدنی نہیں۔ اس نے یہ بھی دکھایا کہ جب مختلف موضوعات، نئی کہانیوں اور متنوع انداز کو جگہ ملتی ہے تو سنیما دوبارہ لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ فلمی صنعت کے لیے آنے والے قومی دن اور نئے سال کی تعطیلات اب اگلا بڑا امتحان ہوں گی، لیکن گرمیوں کے اس سیزن نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ چینی سنیما کی اسکرین پر کہانیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں؛ ناظرین اب بھی اچھی کہانی کے لیے سنیما کا رخ کرتے ہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button