چین، 77 برس کی ترقی اور آگے کا سفر

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

National Day

چین کے قومی دن کے موقع پر بیجنگ کا تھیان آن من اسکوائر صرف ایک قومی تقریب کا مرکز نہیں بنتا بلکہ یہاں جمع ہونے والے لاکھوں لوگوں کے لیے یہ تاریخ، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع بھی ہوتا ہے۔ رواں سال عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر علی الصبح ایک لاکھ سے زائد افراد نے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ قومی ترانے کی گونج میں پانچ ستارہ سرخ پرچم بلند ہوا تو اس تاریخی لمحے نے وہاں موجود لوگوں میں جذبات کی ایک نئی کیفیت پیدا کر دی۔

ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کے ساتھ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے بھی اس قومی جشن میں حصہ لیا۔ تھیان آن من اسکوائر کے وسط میں نصب پھولوں کی بڑی ٹوکری اور بیجنگ کی شاہراہوں پر سجی پھولوں کی تنصیبات نے جشن کا ماحول مزید نمایاں کیا۔ دارالحکومت سے باہر بھی رہائشی علاقوں اور سڑکوں کو قومی پرچموں، لالٹینوں اور روایتی چینی آرائشی اشیا سے سجایا گیا۔

77 برس پہلے اسی مقام پر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد گزرنے والی دہائیوں میں چین کی معیشت، معاشرہ، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ 2025 میں چین کی جی ڈی پی  140.2 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی، جبکہ فی کس قابلِ تصرف آمدنی 43,377 یوان ریکارڈ کی گئی۔

معاشی وسعت کے ساتھ عوامی زندگی کے کئی پہلو بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ 1949 کے مقابلے میں فی کس آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا، جبکہ اوسط متوقع عمر 79.25 برس تک پہنچ چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں شہری آبادی بھی کئی دہائیوں کے دوران تیزی سے بڑھی ہے اور 2025 کے اختتام تک تقریباً 954 ملین افراد شہری علاقوں میں مقیم تھے۔

اشتہار

صنعتی میدان میں بھی چین نے وسیع پیداواری صلاحیت قائم کی ہے۔ نیو انرجی گاڑیاں، صنعتی روبوٹس، انٹیگریٹڈ سرکٹس اور جدید آلات سمیت متعدد شعبوں میں پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ اے آئی، بایومیڈیسن اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تحقیق اور اختراع پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔

یہ تبدیلیاں صرف معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں چین نے شہری ترقی، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں بھی وسیع پیمانے پر نظام تشکیل دیے ہیں۔ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیکنالوجی اور صنعتی مصنوعات بھی عالمی منڈیوں میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں، جبکہ چینی معاشرے اور ثقافت سے براہ راست واقفیت رکھنے والے بیرونی افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

قومی دن کی تقریبات کے دوران مستقبل کی سمت بھی نمایاں کی گئی۔ 2026 سے 2030 تک جاری رہنے والا 15واں پانچ سالہ منصوبہ چین کی ترقی کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ تھیان آن من اسکوائر میں نصب پھولوں کی بڑی ٹوکری میں 15 اقسام کے پھولوں اور پانچ اقسام کے پھلوں کی علامتی نمائندگی بھی آئندہ پانچ برسوں میں خوشحالی اور ثمر آور نتائج کی امید کو ظاہر کرتی ہے۔

شاہراہِ چھانگ آن پر نصب مختلف سہ جہتی پھولوں کی تنصیبات میں نئی معیاری پیداواری قوتوں، انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی، شہری تجدید اور خوبصورت دیہی علاقوں جیسے موضوعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ موضوعات آنے والے برسوں میں چین کی ترقی کی چند اہم ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

15ویں پانچ سالہ منصوبے میں 2035 تک فی کس جی ڈی پی کو 2020 کی سطح سے دوگنا کرنے کے لیے بنیاد مضبوط بنانے، اہم شعبوں میں بنیادی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت تیز کرنے اور انسانی ترقی کے معیار کو مزید بلند کرنے کے اہداف شامل ہیں۔ منصوبے میں کام کرنے کی عمر کی آبادی کے اوسط تعلیمی سال 11.7 تک پہنچانے اور اوسط متوقع عمر کو 80 برس تک بڑھانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

اس مرحلے میں ہانگ کانگ اور مکاؤ  خصوصی انتظامی علاقوں کو بھی قومی ترقی کے وسیع عمل سے مزید مربوط کرنے کے لیے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ دونوں علاقے اپنے اپنے پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے قومی ترقیاتی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قومی دن کے موقع پر ملک گیر ہونے والی تقریبات میں ماضی کی کامیابیوں کا ذکر ضرور تھا، لیکن ان کی علامتوں میں مستقبل کی سمت بھی نمایاں تھی۔ پھولوں کی سجاوٹ، قومی پرچم اور شہریوں کی شرکت کے درمیان ایک وسیع تر پیغام بھی دکھائی دیتا ہے کہ ترقی کا سفر ایک مسلسل عمل ہے جس میں گزشتہ کامیابیوں کی بنیاد پر نئے اہداف طے کیے جاتے ہیں۔

چین کے لیے 15واں پانچ سالہ منصوبہ اسی تسلسل کا اگلا مرحلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں معیشت کے معیار، سائنسی اختراع، صنعتی ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے اہداف پر توجہ مرکوز رہے گی۔ یوں 77ویں سالگرہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل نہیں بلکہ چین کے آئندہ سفر کی سمت پر نظر ڈالنے کا موقع بھی بن گئی ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button