چین کی صدیوں پرانی صنعتوں کو عالمی برانڈ بنانے کی تیاری

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

heritage

چین کی صدیوں پرانی روایتی صنعتیں صرف ماضی کی ثقافتی یادگاریں نہیں بلکہ آج بھی ملکی معیشت اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ ریشم، چائے، چینی کے برتن، روایتی چینی طب، دستکاری اور دیگر روایتی شعبوں میں موجود وسیع تجربے کو جدید ٹیکنالوجی اور برانڈ سازی سے جوڑ کر عالمی منڈی میں نئی جگہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چین نے پہلی مرتبہ ریشم، چائے، چینی کے برتن اور دیگر صدیوں پرانی صنعتوں کی ترقی کے لیے قومی سطح کی پالیسی جاری کی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد روایتی صنعتوں کی ثقافتی اہمیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی پیداواری صلاحیت، معیار، برانڈ ویلیو اور عالمی مسابقت کو بڑھانا ہے۔

منصوبے کے تحت 2028 تک ایسی 50 کمپنیوں کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میں ہر ایک کی سالانہ آمدنی 10 ارب یوان سے زیادہ ہو۔ اسی مدت میں 100 چینی صارف برانڈز اور ایسے متعدد صنعتی کلسٹرز تیار کرنے کا بھی ہدف ہے جن کی سالانہ پیداوار 100 ارب یوان سے تجاوز کرے۔ 2030 تک ان شعبوں میں عالمی معیار کی کمپنیوں اور معروف برانڈز کی ایک نئی صف سامنے لانے اور انہیں عالمی ویلیو چین کے درمیانے سے بلند درجے تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

ان روایتی صنعتوں کا دائرہ صرف ریشم، چائے اور چینی کے برتنوں تک محدود نہیں۔ روایتی چینی طب، مشروب سازی، فنون و دستکاری اور تحریر کے چار روایتی خزانے یعنی قلم، سیاہی، کاغذ اور سیاہی دان بھی اس پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان شعبوں کی نمائندہ صنعتوں میں تقریباً 25 ہزار مقررہ حجم سے بالا کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں، جو تقریباً 35 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور سالانہ تقریباً 8 ٹریلین یوان کی آمدنی پیدا کرتے ہیں۔

اشتہار

چین کی ان مصنوعات کی عالمی سفر کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ قدیم تجارتی راستوں کے ذریعے چینی ریشم، چائے، چینی کے برتن اور دیگر مصنوعات وسطی ایشیا، بحیرہ روم اور افریقہ تک پہنچتی رہی ہیں۔ یوں یہ اشیا صرف تجارت کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ چینی ہنرمندی، ثقافت اور طرز زندگی کو بھی دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنیں۔

حالیہ برسوں میں بیرون ملک چینی ثقافت میں دلچسپی بھی بڑھی ہے۔ مختلف ممالک میں لوگ چینی کھانوں، لباس اور روزمرہ زندگی کے بعض انداز سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس بڑھتی دلچسپی نے روایتی چینی صنعتوں کے لیے عالمی مارکیٹ میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اب کوشش یہ ہے کہ ثقافتی کشش کو پائیدار تجارتی مسابقت میں تبدیل کیا جائے۔

اس سلسلے میں برانڈ سازی ایک اہم چیلنج ہے۔ مثال کے طور پر چین کی بیشتر ریشمی مصنوعات برآمد ہوتی ہیں، لیکن ان میں بڑا حصہ خام مال یا دوسری کمپنیوں کے لیے تیار کردہ مصنوعات پر مشتمل ہے۔ اس صورت میں اصل چینی برانڈز کو عالمی منڈی میں قیمت مقرر کرنے کی محدود طاقت حاصل ہوتی ہے۔ نئی پالیسی کا ایک مقصد یہی ہے کہ روایتی چینی مصنوعات صرف معیار اور دستکاری کے باعث قابل تعریف نہ رہیں بلکہ مضبوط برانڈز کے ذریعے عالمی منڈی کے اعلیٰ درجے میں بھی نمایاں مقام حاصل کریں۔

مصنوعات کی جدید شکل اور نئے استعمال بھی اس تبدیلی کا حصہ ہیں۔ روایتی دستکاری کو موجودہ صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر گھریلو اشیا، ثقافتی مصنوعات، آرائشی سامان اور دیگر جدید مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ اس عمل سے صدیوں پرانی مہارتیں نئی نسل اور نئے صارفین تک پہنچ رہی ہیں اور روایتی صنعتوں کے لیے نئی مارکیٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

مصنوعی ذہانت بھی ان صنعتوں کی جدید کاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ نئی پالیسی میں روایتی دستکاری کے علم کو ڈیجیٹل شکل دینے، روایتی پیداواری طریقوں کو سمجھنے اور انہیں جدید صنعتی عمل سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعات کے معیار اور پیداواری کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ریشم کی بنائی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے چند منٹوں میں ہزاروں نئے ڈیزائن تیار کرنے کی صلاحیت بھی اس تبدیلی کی ایک مثال ہے۔

ان صنعتوں کی بنیاد چین کے وسیع غیر مادی ثقافتی ورثے میں موجود علم اور ہنرمندی پر ہے۔ ملک کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی عالمی فہرستوں میں 45 عناصر شامل ہیں، جن میں ریشم سازی، طب کے بعض روایتی طریقے اور چائے کی تیاری کی تکنیکیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی، صوبائی، شہری اور ضلعی سطح پر ایک لاکھ سے زیادہ عناصر کو غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

روایتی ہنرمندی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 200 سے زیادہ جامعات نے غیر مادی ثقافتی ورثے سے وابستہ ہنرمندوں کی تربیت کے پروگراموں میں حصہ لیا، جن سے دو لاکھ سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔ اس طرح روایتی مہارت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے جدید معیشت سے جوڑنے کی بنیاد بھی مضبوط ہو رہی ہے۔

روایتی دستکاری کے جدید کاروباری استعمال سے اس شعبے کی معاشی صلاحیت بھی سامنے آ رہی ہے۔ بعض روایتی فنون جو ماضی میں محدود نوعیت کی مصنوعات تک مختص تھے، اب جدید ثقافتی اور تخلیقی اشیا سمیت مختلف مصنوعات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایسے شعبوں میں سینکڑوں پیٹنٹس اور ہزاروں ڈیزائن سامنے آئے ہیں اور مصنوعات متعدد ممالک اور خطوں تک پہنچ رہی ہیں۔

روایتی ثقافت کو عالمی کھیلوں اور دیگر بین الاقوامی سرگرمیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ بعض مصنوعات کو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے باضابطہ طور پر منظور شدہ مصنوعات میں شامل کیا گیا، جس سے روایتی چینی ہنرمندی کو عالمی صارفین تک پہنچانے کا ایک نیا راستہ پیدا ہوا۔2025 کے اختتام تک چین میں غیر مادی ثقافتی ورثے سے وابستہ 14,900 ورکشاپس قائم ہو چکی تھیں، جن کے ذریعے 13 لاکھ سے زیادہ افراد کے روزگار اور آمدنی میں مدد ملی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ ثقافتی ورثہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ روزگار، کاروبار اور مقامی معیشت کے لیے بھی قابل قدر ذریعہ بن سکتا ہے۔

چین کی نئی پالیسی دراصل صدیوں پرانی مہارت کو جدید صنعت، مصنوعی ذہانت، برانڈ سازی اور عالمی تجارت سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر روایتی علم کو محفوظ رکھتے ہوئے معیار، ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ صنعتیں ماضی کی میراث کے ساتھ ساتھ مستقبل کی عالمی معیشت میں بھی زیادہ مضبوط کردار ادا کر سکتی ہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button