چینی طرز جدیدیت، ایشیا پیسیفک کے لیے نئے مواقع
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

عالمی معیشت میں تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور ایشیا پیسیفک خطہ اس تبدیلی کے مرکز میں ہے۔ مختلف معاشی ڈھانچوں، ترقی کی مختلف سطحوں اور الگ الگ صنعتی صلاحیتوں کے باوجود اس خطے کی معیشتیں ایک دوسرے سے پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ کسی ایک معیشت کی ترقی کے اثرات اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ اسی تناظر میں چین کی ترقی اور اس کے جدیدیت کے سفر کو پورے خطے کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔
چین اس سال ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے اور اس کے ایجنڈے میں تین تصورات نمایاں ہیں: کھلا پن، جدت اور تعاون۔ یہی تین پہلو چینی طرز جدیدیت کے اس سفر کو بھی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں جس کے اثرات چین سے آگے پورے ایشیا پیسیفک خطے تک پہنچ سکتے ہیں۔
چینی طرز جدیدیت کا پہلا اہم پہلو کھلا پن ہے۔ چین کی معیشت آج ایشیا پیسیفک کی معیشتوں کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کی مجموعی جی ڈی پی میں چین کا حصہ ایک چوتھائی سے زیادہ ہے، جبکہ خطے کی مختلف معیشتوں کے ساتھ اس کے تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔
چین اور آسیان کے درمیان بڑھتے معاشی تعلقات اس کی واضح مثال ہیں۔ 2025 میں چین اور آسیان کے درمیان تجارت 7.55 ٹریلین یوآن، یعنی ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ آسیان مسلسل چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف دو طرفہ تجارت کا حجم نہیں دکھاتے بلکہ اس وسیع معاشی سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے پورے خطے کے کاروبار جڑے ہوئے ہیں۔
چینی صارفین کی جانب سے زیادہ متنوع مصنوعات اور خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب اور چینی صنعتوں کی مسلسل ترقی خطے کے دیگر کاروباروں کے لیے بھی جگہ پیدا کر رہی ہے۔ چین کی بڑی اور بڑھتی ہوئی منڈی میں ایشیا پیسیفک کی دوسری معیشتوں کے لیے اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے مواقع موجود ہیں۔ اس طرح کھلا پن صرف تجارت کو جاری رکھنے کا نام نہیں بلکہ ترقی کے ثمرات کو سرحدوں سے باہر پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو جدت ہے۔ چینی طرز جدیدیت کے پیچھے ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت، ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست ترقی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ 2025 میں چین کے تحقیق و ترقی کے اخراجات 3.93 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئے، جو تقریباً 551 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ اور مجموعی ملکی پیداوار کے 2.8 فیصد کے برابر ہے۔
تحقیق اور جدت میں اس سرمایہ کاری کی اہمیت صرف نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے تک محدود نہیں۔ چین کی وسیع منڈی اور مضبوط صنعتی صلاحیت نئی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر مصنوعات اور عملی استعمال میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جب ماحول دوست اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے تو اس سے نئی طلب، نئی صنعتیں اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ان مواقع سے چین کے ساتھ ساتھ خطے کی دوسری معیشتیں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
یہ رجحان ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اپنے جدت کے ایجنڈے سے بھی ہم آہنگ ہے۔ خطے کی معیشتیں کھلی جدت، سرحد پار علم کے تبادلے اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر توجہ دے رہی ہیں۔ اس طرح ٹیکنالوجی مسابقت کا ذریعہ ہونے کے ساتھ باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم پہلو تعاون ہے۔ آج کے پیچیدہ معاشی اور ترقیاتی مسائل کسی ایک ملک کے لیے اکیلے حل کرنا آسان نہیں۔ ایشیا پیسیفک میں ترقی کی مختلف سطحیں، صنعتی ڈھانچے اور معاشی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن یہی فرق باہمی تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
چین کی ترقی میں مربوط پیش رفت اور مشترکہ خوشحالی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عملی طور پر چین کی وسیع صنعتی صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی اور بڑی صارف منڈی خطے کی دوسری معیشتوں کے وسائل، صنعتوں اور منڈیوں کے ساتھ مل کر تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
ایشیا پیسیفک کی 21 معیشتوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ بعض معیشتیں صنعتی اور تکنیکی اعتبار سے بہت آگے ہیں جبکہ بعض اب بھی ترقی کے مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔ یہ تنوع بظاہر ایک چیلنج ضرور ہے، لیکن اسے کمزوری سمجھنے کے بجائے طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایک معیشت کی ٹیکنالوجی، دوسری کی قدرتی یا صنعتی صلاحیت اور تیسری کی منڈی مل کر ایسی معاشی شراکت داری تشکیل دے سکتی ہے جس سے سب کو فائدہ پہنچے۔
آنے والے برسوں میں ایشیا پیسیفک کی ترقی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ خطے کی معیشتیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کھلا پن نئی منڈیوں تک رسائی بڑھا سکتا ہے، جدت ترقی کے نئے راستے کھول سکتی ہے اور تعاون مختلف صلاحیتوں کو مشترکہ طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔
چینی طرز جدیدیت اسی وسیع تناظر میں ایشیا پیسیفک کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب صرف چین کی اپنی معاشی اور تکنیکی ترقی نہیں بلکہ ایسی وسیع گنجائش پیدا کرنا بھی ہے جہاں خطے کی دوسری معیشتیں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے ذریعے نئے مواقع حاصل کر سکیں۔ اگر کھلا پن، جدت اور تعاون کو ترقی کی مشترکہ بنیاد بنایا جائے تو ایشیا پیسیفک کی مختلف معیشتوں کے درمیان موجود تنوع تقسیم کا سبب بننے کے بجائے مشترکہ طاقت بن سکتا ہے۔ یہی راستہ خطے میں زیادہ متوازن، جامع اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔