چین کے دیہی علاقوں میں بزرگوں کی دیکھ بھال

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

ELDER

چین میں آبادی کی عمر بڑھنے کے ساتھ بزرگوں کی دیکھ بھال ایک اہم سماجی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں آبادی بکھری ہوئی ہونے کے باعث گھریلو نگہداشت کی خدمات فراہم کرنا مہنگا پڑتا ہے اور تربیت یافتہ نگہداشت کرنے والے افراد کی دستیابی بھی محدود ہے۔

2025 کے اختتام تک چین میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد 320 ملین تک پہنچ گئی، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد ہے۔ اس بڑھتی ضرورت کے پیش نظر گزشتہ برسوں میں دیہی علاقوں میں بزرگوں کی دیکھ بھال کا نیٹ ورک وسیع کیا گیا ہے۔ جون 2024 تک تقریباً 16 ہزار دیہی بزرگ نگہداشت مراکز قائم ہو چکے تھے، جن میں 1.68 ملین بستروں کی گنجائش تھی، جبکہ باہمی امداد پر مبنی تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار سہولتیں بھی موجود تھیں۔

تاہم عمارتیں اور بستر فراہم کرنا ہی کافی نہیں۔ اصل چیلنج ان مراکز کو مسلسل فعال رکھنا، مناسب عملہ فراہم کرنا اور انہیں مالی طور پر پائیدار بنانا ہے۔ بعض علاقوں میں سرکاری سرمایہ کاری سے ضلع، قصبے اور گاؤں کی سطح پر نگہداشت کا مربوط نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت انتہائی ضرورت مند اور معذور بزرگوں کے لیے رہائشی سہولت، پیشہ ورانہ نگہداشت، گھریلو دورے، دن کے اوقات میں دیکھ بھال اور ضروری معلومات فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے نیٹ ورک اب ہزاروں بزرگوں تک خدمات پہنچا رہے ہیں۔

دوسری جانب بعض علاقوں میں سرکاری مراکز کا انتظام نجی اداروں کے سپرد کرنے کے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔ متعدد مراکز کو ایک ہی انتظامی نظام کے تحت چلانے سے خریداری، عملے اور روزمرہ انتظامات کے اخراجات کم کرنے میں مدد ملی۔ فیس ادا کرنے والے بزرگوں کے ساتھ سرکاری امدادی پروگراموں کے تحت آنے والے افراد کو بھی خدمات فراہم کی گئیں، جبکہ گھریلو غسل، بحالی اور دیگر سہولتیں شامل کی گئیں۔ اس ماڈل کے تحت مراکز اب تقریباً اپنے اخراجات پورے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

اشتہار

بزرگوں کی نگہداشت کے بڑھتے اخراجات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ رسائی میں آسانی پیدا کرنے، آگ سے تحفظ، خوراک کے معیار اور طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے، جس سے اداروں کے روزمرہ اخراجات بڑھتے ہیں۔ اس کے ساتھ سب سے مستقل مسئلہ مناسب نگہداشت کارکنوں کی تلاش اور انہیں ملازمت میں برقرار رکھنا ہے۔ یہ کام جسمانی طور پر محنت طلب ہے، جبکہ اجرت بھی کئی مقامات پر زیادہ پرکشش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی مراکز میں 50 اور 60 سال کی عمر کے کارکنوں کی تعداد نمایاں ہے۔

نگہداشت کی ضرورت بھی اب صرف بنیادی کاموں تک محدود نہیں رہی۔ صفائی، کھانا پہنچانے اور روزمرہ سرگرمیوں میں مدد کے علاوہ ایسے بزرگوں کے لیے خصوصی نگہداشت درکار ہوتی ہے جو مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں یا یادداشت کی کمزوری کا شکار ہوں۔ نفسیاتی مدد اور مخصوص طبی نگہداشت کے لیے بھی زیادہ تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہے۔

اسی لیے بعض علاقوں میں کارکنوں کی تربیت، اجرت اور پیشہ ورانہ ترقی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں بعض علاقوں میں مقامی کارکنوں کو کم از کم ہر دو سال میں تربیت دی جا رہی ہے، جس میں کلاس روم تعلیم کے ساتھ عملی مشق بھی شامل ہوتی ہے۔ ماہانہ اجرت عموماً 3,000 سے 6,000 یوان تک ہے، جبکہ طبی نگہداشت کی مہارت یا اعلیٰ پیشہ ورانہ اہلیت رکھنے والوں کی آمدنی اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ سرکاری سبسڈی اور خریدی گئی خدمات کے ذریعے اداروں کو کارکنوں کی اجرت بہتر بنانے میں بھی مدد دی جا رہی ہے۔

صرف مراکز قائم کرنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ بعض دیہی علاقوں میں بزرگوں کی سہولتوں کو گاؤں کے دیگر عوامی خدمات کے مراکز کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نئی عمارتوں کی تعمیر کا خرچ کم ہو۔ تاہم کئی مقامات پر انتظامی سرگرمیاں ترجیح بن جاتی ہیں اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے مستقل عملہ موجود نہیں ہوتا، جس کے باعث دستیاب جگہ کے باوجود خدمات محدود رہتی ہیں۔

گھریلو نگہداشت کے شعبے میں بھی دیہی علاقوں کو الگ مشکلات کا سامنا ہے۔ بزرگ آبادی دور دور تک پھیلی ہونے اور آمدورفت کے محدود ذرائع کے باعث گھر گھر خدمات فراہم کرنے میں زیادہ وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے یکم جنوری سے چین بھر میں ایسے بزرگوں کے لیے ماہانہ الیکٹرانک واؤچرز کا پروگرام شروع کیا گیا ہے جو درمیانے، شدید یا مکمل درجے کی خود انحصاری سے محروم ہوں۔ انہیں نگہداشت کی خدمات کے لیے ماہانہ 800 یوان تک کی مدد فراہم کی جا سکتی ہے، جسے گھریلو، کمیونٹی یا ادارہ جاتی نگہداشت، کھانے، غسل، گھریلو کام، نقل و حرکت، بحالی اور دن کے اوقات کی دیکھ بھال جیسی خدمات پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم دیہی علاقوں میں ان سہولتوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مقامی حالات کے مطابق مزید بہتری کی ضرورت ہے، کیونکہ گھریلو خدمات کی لاگت زیادہ اور بعض خاندانوں کے لیے اپنی جیب سے اضافی رقم ادا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

چین میں دیہی بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے بنیادی ڈھانچہ اب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ آئندہ مرحلہ صرف مزید مراکز قائم کرنا نہیں بلکہ موجودہ نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ مناسب عملہ، بہتر تربیت، پائیدار مالی انتظام اور بکھری ہوئی دیہی آبادی تک بروقت خدمات کی فراہمی ہی اس نیٹ ورک کو حقیقی معنوں میں فعال بنا سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے ساتھ یہی اقدامات بزرگوں کے لیے محفوظ، باوقار اور قابل اعتماد نگہداشت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button