گاؤں کی دہلیز تک جدید علاج

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

health2

ایک وقت تھا جب بڑے اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے دیہی علاقوں کے لوگوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ کئی مریضوں کے لیے اسپتال تک پہنچنے کا سفر ہی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا تھا، جبکہ جدید طبی سہولتیں اور تجربہ کار ڈاکٹر زیادہ تر بڑے شہری مراکز تک محدود تھے۔ چین میں اب یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور جدید طبی سہولتوں کو دیہی علاقوں تک پہنچانے کے لیے ٹیکنالوجی، طبی ماہرین اور بنیادی صحت کے مراکز کو ایک مربوط نظام میں جوڑا جا رہا ہے۔

چین اپنے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان صحت کی سہولتوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے بنیادی سطح کے طبی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ ملک کے وسیع رقبے اور مختلف علاقوں میں ترقی کی غیر یکساں رفتار کے باعث ماضی میں معیاری طبی وسائل بڑے شہروں میں زیادہ مرتکز رہے، جس کے نتیجے میں دیہی آبادی کو پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چین نے دنیا کا سب سے بڑا اور جامع بنیادی سطح کا طبی نظام قائم کیا ہے۔ اب 80 فیصد سے زیادہ اضلاع میں طبی وسائل کے اشتراک کے مراکز قائم ہوچکے ہیں، جہاں تشخیصی عکس بندی، دل کے برقی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ جیسی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یہ مراکز 33 کروڑ سے زیادہ افراد کو خدمات فراہم کر رہے ہیں اور مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کیے بغیر مقامی سطح پر ضلع کے ماہرین سے تشخیص حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

جن علاقوں میں طبی سہولتوں کا بنیادی ڈھانچہ نسبتاً کمزور ہے، وہاں ٹیلی میڈیسن نے ایک نئی راہ کھولی ہے۔ دور دراز دیہی مراکز صحت کو ضلع سطح کے اسپتالوں سے براہ راست جوڑا جا رہا ہے تاکہ گاؤں میں موجود مریض کا طبی معائنہ اور تشخیص ماہرین تک فوری پہنچ سکے۔

اشتہار

بعض علاقوں میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے ذریعے گاؤں کے مراکز صحت سے دل کے برقی معائنے کا ڈیٹا براہ راست ضلع کے طبی ماہرین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ایسے مریض بھی جدید طبی مشاورت حاصل کر سکتے ہیں جن کے لیے بڑے شہروں تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ مزید آگے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تشخیص اور دور دراز طبی مشاورت کو ضلع، قصبے اور گاؤں کی سطح تک وسیع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم دیہی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش صرف جدید ٹیکنالوجی تک محدود نہیں۔ طبی عملے کی تعداد اور صلاحیت بڑھانے پر بھی مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔ 2016 سے 2025 کے درمیان بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی اہلکاروں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران عام امراض کے ماہر ڈاکٹروں کو قصبوں کے مراکز صحت میں تعینات کرنے جیسے خصوصی پروگرام بھی جاری رہے۔

بڑے اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے دیہی علاقوں کا دورہ کرتے ہیں۔ وہ مقامی طبی عملے کو تربیت دینے کے ساتھ پیچیدہ مریضوں کے علاج میں دور سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح بڑے شہروں کے طبی تجربے کو دیہی مراکز تک منتقل کرنے کا عمل تیز ہوا ہے۔

خاندانی ڈاکٹر کا نظام بھی اسی تبدیلی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں 13 لاکھ 90 ہزار خاندانی ڈاکٹر موجود تھے جبکہ 18 کروڑ بزرگ افراد صحت کے نظام میں شامل ہوچکے تھے۔ اس سے صحت کے شعبے میں صرف بیماری کے علاج کے بجائے بیماری سے بچاؤ اور مجموعی صحت پر توجہ دینے کا رجحان مضبوط ہوا ہے۔

دیہی علاقوں میں بزرگ افراد کے لیے باقاعدہ طبی معائنوں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو سالانہ مفت جسمانی معائنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خاندانی ڈاکٹر گھر یا مقامی سطح پر بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی پیمائش جیسی بنیادی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

طبی سہولتوں کو دیہی علاقوں تک پہنچانے کا ایک اہم فائدہ ان مریضوں کو بھی حاصل ہوا ہے جو پیچیدہ اور سنگین بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسے مریضوں کے لیے بڑے شہروں تک سفر کرنا ناگزیر تھا، لیکن اب بڑے طبی مراکز کے ماہرین دور دراز علاقوں تک پہنچ کر تشخیص اور علاج میں براہ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔

چین اب 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور 2026 سے 2030 کے دوران بنیادی سطح کے طبی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طبی سہولتوں کا معیار صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی بروقت، معیاری اور قابل رسائی طبی خدمات حاصل ہوں۔

یوں گاؤں کے ایک چھوٹے مرکز صحت سے لے کر بڑے شہری اسپتال تک پھیلتا ہوا یہ نظام صرف علاج کی سہولتوں کو قریب نہیں لا رہا بلکہ چین کے صحت کے تصور کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔ جہاں کبھی ایک پیچیدہ بیماری بڑے شہر تک طویل سفر کا تقاضا کرتی تھی، وہاں اب فائیو جی، مصنوعی ذہانت، خاندانی ڈاکٹر اور ماہر طبی ٹیمیں علاج کو مریض کی دہلیز کے زیادہ قریب لا رہی ہیں۔ یہی تبدیلی ’’صحت مند چین‘‘ کے بڑے ہدف کی بنیاد بن رہی ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button