چین میں جدید طبی علاج کی عالمی رسائی میں اضافہ

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

cardiac

دنیا بھر میں پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں چین میں طب، سیل تھراپی، کینسر کے علاج اور دماغ و اعصاب سے متعلق جدید طریقۂ علاج میں ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف ملکی مریضوں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔

چین میں حالیہ برسوں کے دوران جدید طبی سہولتوں سے استفادہ کرنے والے غیر ملکی مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ چین کے قومی صحت کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بڑے اسپتالوں میں بین الاقوامی مریضوں کے تقریباً 12 لاکھ 80 ہزار دورے ریکارڈ کیے گئے، جو تین سال پہلے کے مقابلے میں 73.6 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں یورپ اور امریکا سے آنے والے مریضوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوئی۔

اگرچہ غیر ملکی مریض اب بھی چین کے اسپتالوں میں آنے والے مجموعی مریضوں کا ایک محدود حصہ ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں طبی ادارے ان کی تعداد میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ جدید ادویات، سیل تھراپی، کینسر کے علاج اور دیگر جدید طبی طریقوں میں چین کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے۔

خاص طور پر اعصابی بیماریوں کے علاج میں نئی ٹیکنالوجی اہم امکانات پیدا کر رہی ہے۔ چین میں تیار کیا گیا ایک ریڑھ کی ہڈی کا نیورل انٹرفیس ایسے مریضوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث ٹانگوں کی حرکت سے محرومی کا سامنا ہو۔ یہ نظام دماغ سے آنے والے کمزور حرکتی سگنلز کو تقویت دے کر ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ حصے کو نظرانداز کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں چلنے کے لیے ضروری عضلات دوبارہ فعال کیے جا سکتے ہیں۔

ایسے علاج کے بعد مریضوں کو طویل اور انفرادی بحالی کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ابھی حال ہی میں  ایک کم عمر غیر ملکی مریضہ نے چین میں اس نوعیت کا علاج حاصل کرنے کے بعد تین ماہ کی مخصوص بحالی کے نتیجے میں معاونت کے ساتھ چلنے کے قابل ہونے میں پیش رفت کی۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ دماغ، اعصاب اور مصنوعی ذہانت سے منسلک طبی ٹیکنالوجی اب تحقیق گاہوں سے نکل کر عملی علاج کی طرف بڑھ رہی ہے۔

چین میں سیل اور جین تھراپی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2025 میں ملک میں 76 اختراعی ادویات اور 76 جدید طبی آلات کی مارکیٹنگ کی منظوری دی گئی، جو دونوں شعبوں میں ریکارڈ تعداد ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں 4,751 اختراعی ادویات تیاری اور تحقیق کے مختلف مراحل میں تھیں، جو دنیا بھر میں زیرِ ترقی اختراعی ادویات کا تقریباً 33.7 فیصد ہیں۔

سیل تھراپی میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جون میں دنیا کی پہلی ایسی کار۔ٹی سیل تھراپی کی منظوری دی گئی جو ٹھوس رسولیوں کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس طریقۂ علاج میں مریض کے اپنے مدافعتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی کرکے انہیں سرطان کے خلیوں کو نشانہ بنانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس طرح کا علاج ایسے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر سکتا ہے جن کے لیے روایتی طریقۂ علاج مؤثر ثابت نہ ہو۔

چین کی طبی ترقی میں بڑی تعداد میں مریضوں کے علاج سے حاصل ہونے والا تجربہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹرانسپلانٹ، سیل تھراپی اور دیگر پیچیدہ علاج کے وسیع استعمال نے طبی اداروں کو مختلف بیماریوں اور مریضوں کی حالتوں سے متعلق بڑے پیمانے پر عملی تجربہ فراہم کیا ہے۔ اس تجربے سے نئی ٹیکنالوجی کو طبی استعمال میں لانے، طریقۂ علاج کو بہتر بنانے اور علاج کے معیار کو زیادہ منظم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

طبی ماہرین کی بین الاقوامی آمدورفت بھی اس تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ مختلف ممالک کے طبی ماہرین چینی اسپتالوں کا دورہ کرکے جدید علاج، ٹرانسپلانٹ اور سیل تھراپی کے طریقوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس طرح طبی علم کے تبادلے کے ساتھ مختلف ممالک کے نظام صحت کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

چین میں جدید طبی تحقیق کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بعض ٹیکنالوجیز کو تجرباتی مرحلے سے باقاعدہ طبی استعمال کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ برین کمپیوٹر انٹرفیس، اعصابی بحالی، سیل تھراپی اور جینیاتی علاج جیسے شعبوں میں تحقیق کو عملی طبی ضرورتوں سے جوڑنے کی کوشش جاری ہے۔

تاہم جدید علاج کی ترقی صرف ٹیکنالوجی ایجاد کرنے تک محدود نہیں۔ پیچیدہ طبی طریقوں کو محفوظ، مؤثر اور زیادہ سے زیادہ مریضوں کے لیے قابل رسائی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے معیاری طبی طریقہ کار، تربیت یافتہ عملہ، بحالی کی سہولتیں اور طویل مدتی طبی نگرانی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بین الاقوامی طبی تعاون اس پورے عمل کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ مختلف ممالک کے مریضوں اور طبی ماہرین کے درمیان تجربات کے تبادلے سے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال، طبی تحقیق اور علاج کے طریقوں میں بہتری کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جدید علاج کسی ایک ملک تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ وسیع سطح پر انسانوں کے لیے فائدہ مند بن سکتا ہے۔

چین میں جدید طبی شعبوں کی تیز رفتار ترقی اور بین الاقوامی مریضوں کی بڑھتی آمد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طبی تحقیق اور علاج عالمی سطح پر ایک دوسرے سے زیادہ قریب آ رہے ہیں۔ نیورل انٹرفیس، سیل تھراپی، جینیاتی علاج اور جدید ادویات جیسے شعبوں میں پیش رفت مستقبل کے طبی نظام کو نئی شکل دے سکتی ہے۔ اصل مقصد یہی ہے کہ سائنسی ترقی کو محفوظ اور مؤثر علاج میں تبدیل کرکے زیادہ سے زیادہ مریضوں تک پہنچایا جائے اور طبی کامیابیوں کی حدود قومی سرحدوں تک محدود نہ رہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button