چین میں صاف ہوا کی جانب اہم پیش رفت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

صنعتی ترقی، بڑھتی توانائی کی ضرورت اور شہری آمدورفت میں اضافے کے ساتھ فضائی آلودگی پر قابو پانا دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ چین میں گزشتہ برسوں کے دوران آلودگی کم کرنے کے لیے توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں ہوا کے معیار میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ اب توجہ اس پیش رفت کو برقرار رکھنے اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود فضائی آلودگی کو مزید کم کرنے پر مرکوز ہے۔
2021 سے 2025 کے دوران چین میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح میں 20 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ اقتصادی ترقی اور فضائی معیار میں بہتری ایک دوسرے کی ضد نہیں، بشرطیکہ آلودگی میں کمی کو ترقی کے عمل کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
2026 کی پہلی ششماہی میں چین کے 339 بڑے شہروں میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 29.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.6 فیصد کم ہے۔ اچھے یا بہترین فضائی معیار والے دنوں کا تناسب بھی بڑھ کر 82.8 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 78.3 فیصد تھی۔ 2025 میں پورے سال کے دوران ایسے دنوں کا تناسب ریکارڈ 89.3 فیصد رہا اور پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 28 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک کم ہو گئی۔
اس بہتری کے پیچھے آلودگی پیدا ہونے کے بعد اس سے نمٹنے کے بجائے اخراج کے بنیادی ذرائع کو کم کرنے کی حکمت عملی کارفرما ہے۔ صاف توانائی کے فروغ، صنعتی عمل میں بہتری، توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے ذریعے آلودگی کے ذرائع پر ہی قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی میں شمسی توانائی نے نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے کوئلے کو پیچھے چھوڑ دیا اور ملک میں سب سے بڑی پیداواری صلاحیت رکھنے والا ذریعہ بن گئی۔ تاہم 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی تقریباً 49.7 فیصد بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا ہوئی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صاف توانائی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے، بجلی کی ترسیل کے مضبوط نظام اور زیادہ لچکدار گرڈ کی بھی ضرورت ہے۔
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صرف انفرادی شہروں میں اقدامات کافی نہیں، کیونکہ آلودگی کی کوئی انتظامی سرحد نہیں ہوتی۔ ایک علاقے سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات ہوا کے ذریعے دوسرے علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے مختلف علاقوں کے درمیان مشترکہ نگرانی، پیش گوئی اور قانون کے نفاذ کا نظام اہم بنتا جا رہا ہے۔
2021 سے 2025 کے دوران بعض بڑے علاقائی خطوں میں پی ایم 2.5 کی سطح میں قومی اوسط سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان علاقوں میں فضائی آلودگی کو مشترکہ مسئلہ سمجھتے ہوئے نگرانی، پیش گوئی اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے۔ اس طریقہ کار نے آلودگی سے نمٹنے کو الگ الگ مقامی کوششوں کے بجائے وسیع علاقائی حکمت عملی میں تبدیل کرنے میں مدد دی ہے۔
تاہم فضائی معیار میں بہتری ہر جگہ یکساں نہیں ہے۔ بعض علاقوں میں پی ایم 2.5 اور اوزون دونوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ کچھ مقامات پر اوزون کی سطح میں اضافہ ہوا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں صرف پی ایم 2.5 پر توجہ کافی نہیں ہوگی بلکہ اوزون سمیت دیگر آلودہ عناصر کے لیے بھی زیادہ مخصوص اقدامات درکار ہوں گے۔
چین نے فضائی آلودگی کے حوالے سے قومی معیارات کو بھی مزید سخت کیا ہے۔ مارچ میں متعارف کرائے گئے نئے قومی معیارات کے تحت 2030 تک سالانہ پی ایم 2.5 کی عبوری حد 35 سے کم کرکے 30 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کر دی گئی ہے، جبکہ اس کے بعد اسے مزید کم کرکے 25 مائیکروگرام تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتر فضائی معیار کے بعد اب معیار کو مزید بلند کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے ایک طرف فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں تو دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔ اس لیے ایسے اقدامات جو بیک وقت صاف ہوا اور کم کاربن معیشت کو فروغ دیں، زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
چین میں فضائی معیار کی بہتری اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ آلودگی کو کم کرنے کے لیے جامع پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں صاف ہوا کے حصول کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بڑھتی توانائی کی طلب، صنعتی پیداوار اور شہری آمدورفت کے ساتھ اس معیار کو برقرار رکھنا اگلا بڑا مرحلہ ہے۔ مستقبل میں صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی، سخت ماحولیاتی معیار اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا صاف اور صحت مند ماحول کے لیے بنیادی اہمیت رکھے گا۔