عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات، بدلتی دنیا کا اہم تقاضا
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، عالمی معیشت میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی معاملات میں پہلے سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی فیصلوں کے لیے قائم اداروں اور نظاموں میں ان تبدیلیوں کی عکاسی پوری طرح نہیں ہو رہی۔ موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم مساوات، قرضوں کا بڑھتا دباؤ اور ترقی کے غیر مساوی مواقع ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ تاہم، اس تعاون کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ریاستوں، کو فیصلوں میں مؤثر آواز اور اپنی ترجیحات پیش کرنے کا مناسب موقع حاصل ہو۔
چین میں 2026 کے گلوبل گورننس فورم کے انعقاد کے موقع پر عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ایک بار پھر اہم موضوع بن کر سامنے آئی ہے۔ چین کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو اسی تناظر میں موجودہ بین الاقوامی نظام کو بہتر بنانے، عالمی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانے اور تمام ممالک کے جائز مفادات کو مناسب اہمیت دینے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو آج کی دنیا کی حقیقی صورتِ حال سے مطابقت رکھتا ہو اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔
موجودہ عالمی نظام کو درپیش بنیادی مسائل میں سے ایک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان نمائندگی کا فرق ہے۔ گزشتہ برسوں میں ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی اقتصادی ترقی کے اہم محرکات بن کر سامنے آئی ہیں۔ ان کی پیداواری صلاحیت، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی معیشت میں شراکت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض اہم بین الاقوامی اداروں اور فیصلہ ساز فورمز میں ان کی نمائندگی اب بھی ان کے بڑھتے ہوئے کردار کے مطابق نہیں۔ جب عالمی معیشت اور آبادی کا مرکز تبدیل ہو رہا ہو تو فیصلہ سازی کے پرانے طریقوں پر نظرثانی کرنا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو محض ایسے فریق کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا جو دوسروں کے بنائے ہوئے قواعد کی پابندی کریں۔ انہیں عالمی ترجیحات طے کرنے، بین الاقوامی اصولوں کی تشکیل اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے پالیسی سازی میں زیادہ فعال کردار ملنا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بہتر بنانا کسی دوسرے فریق کی جانب سے احسان یا رعایت نہیں، بلکہ عالمی نظام کو زیادہ جامع، متوازن اور مؤثر بنانے کے لیے ایک ضروری تبدیلی ہے۔ ایسا نظام جس میں دنیا کے بڑے حصے کے ممالک کی آواز کمزور ہو، وہ پوری عالمی برادری کے لیے قابلِ قبول فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔
دنیا کے تمام ممالک ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے خطوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، مالیاتی عدم استحکام، قرضوں کے مسائل اور ترقیاتی تفاوت جیسے چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں اور باہمی تعاون درکار ہیں۔ اگر عالمی ادارے بڑی تعداد میں ممالک کے جائز خدشات اور ضروریات کو مناسب اہمیت نہ دیں تو اجتماعی اقدامات کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے نمائندگی میں بہتری عالمی تعاون کو کمزور کرنے کے بجائے اسے زیادہ مضبوط بنا سکتی ہے۔
تاہم، عالمی نظام میں اصلاحات کا مقصد صرف مختلف ممالک کو فیصلہ سازی میں جگہ دینا نہیں ہونا چاہیے۔ اس بات کا جائزہ بھی ضروری ہے کہ عالمی معاہدوں، پالیسیوں اور تعاون کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ عالمی سطح پر کیے گئے وعدے اس وقت حقیقی اہمیت اختیار کرتے ہیں جب ان کے اثرات زمینی سطح پر نظر آئیں، لوگوں کی فلاح و بہبود بہتر ہو اور ترقی کے مواقع زیادہ وسیع ہوں۔ بین الاقوامی تعاون کا مرکز عام انسان ہونا چاہیے، تاکہ اس کے فوائد صرف اداروں اور حکومتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ سکیں۔
چین کا گلوبل گورننس انیشی ایٹو پانچ بنیادی تصورات پر مبنی ہے۔ ان میں خودمختار مساوات کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پابندی، کثیرالجہتی کو فروغ دینا، عوام کو مرکزیت دینا اور عملی اقدامات پر توجہ شامل ہیں۔ ان اصولوں کے ذریعے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی نظام میں تمام ممالک کی خودمختاری اور مساوی حیثیت کا احترام کیا جائے، بین الاقوامی معاملات میں طے شدہ قوانین کی پابندی ہو، ممالک باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے مسائل حل کریں اور فیصلوں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
اس انیشی ایٹو کو تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ 60 سے زیادہ ممالک گلوبل گورننس کے دوستوں کے گروپ میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ حمایت عالمی نظام میں بہتری اور زیادہ جامع بین الاقوامی تعاون کے تصور میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے باوجود اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان اصولوں کو عالمی اداروں کے کام کرنے کے طریقوں، بین الاقوامی فیصلوں اور مشترکہ اقدامات میں کس طرح مؤثر طور پر شامل کیا جاتا ہے۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ موجودہ عالمی نظام کو ختم کرنے یا بین الاقوامی ترتیب کی جگہ کوئی نیا نظام لانے کے بجائے اس میں اصلاح اور بہتری کی بات کرتا ہے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی اداروں کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ دنیا کی ضروریات تبدیل ہو رہی ہیں، اس لیے بین الاقوامی اداروں کو بھی ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی صلاحیت اور طریقۂ کار بہتر بنانا ہوگا۔
اس تناظر میں اصلاحات کو "زیرو سم گیم” کے طور پر دیکھنا درست نہیں، جس میں ایک ملک یا گروہ کے زیادہ مؤثر کردار کو دوسرے کی حیثیت میں کمی سمجھا جائے۔ اسی طرح اس کا مقصد ایک نظام کی جگہ دوسرا نظام مسلط کرنا یا عالمی قواعد کو محض نئے سرے سے ترتیب دینا بھی نہیں۔ بنیادی ضرورت یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے موجودہ دنیا کی معاشی، سیاسی اور آبادیاتی حقیقتوں کی بہتر عکاسی کریں، جبکہ مشترکہ اصولوں، تعاون اور عالمی ذمہ داریوں کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ زیادہ منصفانہ نمائندگی اور مؤثر کثیرالجہتی ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔
آج کی دنیا کو بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں صرف یہ بحث کافی نہیں کہ عالمی نظام میں کیا تبدیلیاں ہونی چاہئیں، بلکہ اس بات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ ان تبدیلیوں کو عملی شکل کیسے دی جائے۔ اس کے لیے ممالک کے درمیان اعتماد، مسلسل مشاورت، مشترکہ ذمہ داری اور قابلِ پیمائش نتائج کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
بالآخر عالمی نظامِ حکمرانی کی کامیابی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ تمام ممالک کو مناسب نمائندگی دے، عوام کی ضروریات کو مرکزیت دے اور عالمی وعدوں کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرے۔ جب ترقی پذیر ممالک کو عالمی فیصلوں میں زیادہ مؤثر آواز ملے گی اور بین الاقوامی ادارے مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے بہتر انداز میں کام کریں گے تو عالمی تعاون کی بنیاد زیادہ مضبوط ہو سکے گی۔ ایک ایسا نظام جو انصاف، مساوات اور عملی پیش رفت کو اہمیت دے، نہ صرف موجودہ مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی زیادہ مستحکم اور پائیدار عالمی ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔