چین میں بچوں کی پرورش کے لیے بدلتا ہوا ماحول

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

kids 1

بچے کی پیدائش کسی بھی خاندان کے لیے زندگی کا ایک نیا باب ہوتی ہے۔ خوشی کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ بہت سی ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ بچے کی صحت، نگہداشت، تعلیم اور روزمرہ ضروریات والدین کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔ جب یہ ذمہ داریاں بڑھتے ہوئے اخراجات، کام کی مصروفیات اور محدود وقت کے ساتھ جڑ جائیں تو بچوں کی پرورش خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ چین میں اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں بچوں کی پرورش خاندانوں کے لیے نسبتاً آسان اور کم بوجھ بن سکے۔

اس مقصد کے لیے بچوں کی نگہداشت، زچگی، طبی سہولت اور ابتدائی تعلیم کو ایک دوسرے سے جوڑنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ والدین کو اپنے گھروں یا کام کی جگہوں کے قریب بچوں کی نگہداشت کی مناسب سہولتیں ملیں اور ان خدمات کی قیمت بھی عام خاندانوں کی استطاعت کے مطابق ہو۔ کنڈرگارٹن اور نرسری مراکز کے درمیان خدمات کو مربوط کرنے کے ساتھ کمیونٹیز اور اداروں کو بھی بچوں کی نگہداشت کی سہولتیں قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر رہے ہیں جب چین میں آبادی کی عمر رسیدگی کے ساتھ شرح پیدائش میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد 32 کروڑ تک پہنچ گئی، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد ہے۔ ایسے حالات میں بچوں کی پیدائش اور پرورش کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا آبادی کی مستقبل کی ساخت کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

خاندانوں کی مشکلات صرف بچے کی پیدائش تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس کے بعد کئی برس تک جاری رہتی ہیں۔ اسی لیے مالی مدد کے ساتھ ایسی سہولتوں کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے جو والدین کا روزمرہ بوجھ کم کریں۔ چین میں تین سال سے کم عمر ہر بچے کے لیے سالانہ 3,600 یوان کی ٹیکس سے مستثنیٰ نگہداشت امداد کا ملک گیر پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ کنڈرگارٹن کے آخری سال کی نگہداشت اور تعلیم کی فیس میں بھی چھوٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

بچے کی بہتر پرورش کے لیے صحت کی سہولت بھی بنیادی ضرورت ہے۔ حمل کے ابتدائی مرحلے سے ہی طبی نگہداشت دستیاب ہو تو ممکنہ پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ چین میں ابتدائی حمل کی دیکھ بھال کے لیے 12,562 کلینکس قائم کیے گئے ہیں جو تقریباً تمام اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں حاملہ خواتین کو مشاورت اور ضروری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ حمل ضائع ہونے کے خطرے کی صورت میں بروقت جائزہ اور احتیاطی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بھی نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ 2025 میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ میں 13.4 جبکہ بچوں کی شرح اموات ایک ہزار میں 3.8 تک کم ہو گئی۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق خدمات میں مسلسل بہتری آئی ہے۔

بچوں کی صحت کی ضروریات کو صرف بڑے اسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی سطح پر بھی طبی سہولتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ رواں سال کے اختتام تک 2025 کے مقابلے میں مزید ایک ہزار بنیادی طبی اداروں میں بچوں کے علاج کی صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے بعد 95 فیصد سے زیادہ ٹاؤن شپ کلینکس اور کمیونٹی صحت مراکز میں بچوں کو متعلقہ طبی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہونے کی توقع ہے۔

زچگی اور بچوں کی صحت کے ساتھ طبی بیمہ بھی خاندانوں کے مالی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت تقریباً 26 کروڑ افراد زچگی سے متعلق طبی بیمہ کے دائرے میں شامل ہیں۔ بعض علاقوں میں لچکدار روزگار کرنے والے افراد کے لیے بھی اس سہولت کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ روزگار کی مختلف شکلوں سے وابستہ خاندانوں کو بھی زچگی کے دوران طبی اخراجات سے تحفظ مل سکے۔

چین کی پالیسی میں بچوں کی پیدائش، نگہداشت اور تعلیم کو الگ الگ مسائل کے بجائے ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مالی امداد، طبی بیمہ، بچوں کی نگہداشت اور ابتدائی تعلیم میں سہولتیں اسی وسیع نظام کا حصہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی ابتدائی تعلیم تک خاندانوں کو مختلف مراحل پر مدد حاصل رہے۔

اس کے ساتھ مجموعی صحت کے نظام کو بھی زیادہ قابل رسائی اور معیاری بنانے کی کوشش جاری ہے۔ چین میں طبی اور صحت کے اداروں کی تعداد 11 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور 90 فیصد سے زیادہ آبادی اپنے قریب ترین طبی مرکز تک تقریباً 15 منٹ میں پہنچ سکتی ہے۔ اب توجہ صرف سہولت کی موجودگی پر نہیں بلکہ علاج کے معیار اور خدمات کے درمیان بہتر رابطے پر مرکوز ہے۔

آبادی میں تبدیلی کے ساتھ طبی عملے کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے لیے طبی تعلیم میں داخلوں میں اضافہ، اعلیٰ معیار کے گریجویٹ اور ماسٹرز پروگراموں کی توسیع اور دیہی علاقوں کے لیے مخصوص تربیتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو دیہی علاقوں میں ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے خصوصی پروگرام بھی جاری ہیں۔

بحالی اور نگہداشت کے شعبوں میں بھی افرادی قوت بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 2030 تک ہر ایک لاکھ افراد کے لیے سات بحالی کے ڈاکٹروں اور 16 بحالی کے معالجین کی دستیابی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ طبی کارکنوں کی اجرت، مراعات اور پیشہ ورانہ ماحول بہتر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ انہیں اس شعبے میں طویل اور مستحکم پیشہ ورانہ زندگی اختیار کرنے کی ترغیب ملے۔

چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں 2026 سے 2030 تک بچوں کی پیدائش کے لیے سازگار معاشرہ تشکیل دینا ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اس میں پیدائش کی حوصلہ افزائی کے ساتھ بچوں کی پیدائش، نگہداشت اور تعلیم کے اخراجات کم کرنے پر توجہ دی گئی ہے، تاکہ نومولود بچوں کی تعداد کو مستحکم رکھنے اور آبادی کی طویل مدتی متوازن ترقی میں مدد مل سکے۔

بچے کی پرورش دراصل صرف ایک خاندان کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ جب طبی سہولت گھر کے قریب ہو، نگہداشت کا انتظام آسانی سے دستیاب ہو اور ابتدائی تعلیم کے اخراجات میں مدد ملے تو والدین کے لیے بچوں کی ذمہ داریاں نسبتاً آسان ہو جاتی ہیں۔ چین میں جاری اقدامات اسی سوچ کے تحت ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش ہیں جہاں بچوں کی پیدائش اور پرورش کو خاندانوں کے لیے زیادہ قابل برداشت اور معاشرے کے لیے زیادہ پائیدار بنایا جا سکے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button