چین میں اسمارٹ گھروں کا بڑھتا رجحان
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی سہولت، آرام اور تحفظ سے جڑا ایک اہم حصہ ہے۔ وقت کے ساتھ گھریلو ضروریات بھی بدل رہی ہیں اور ٹیکنالوجی نے گھر کے عام کاموں کو زیادہ آسان بنانے کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ آج صرف ایسا برقی سامان خریدنا کافی نہیں سمجھا جاتا جو ایک کام انجام دے، بلکہ صارفین ایسی سہولیات چاہتے ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک ہوں اور گھر کے مختلف کاموں کو زیادہ منظم انداز میں انجام دے سکیں۔ چین میں بھی گھریلو استعمال کی اشیا کی طلب اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
چین نے اس رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے اسمارٹ ہوم مصنوعات اور خدمات کی ترقی اور استعمال کو بڑھانے کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کا مقصد اسمارٹ گھریلو مصنوعات کے استعمال کے دائرے کو وسیع کرنا، بہتر معیار کی مصنوعات کی فراہمی بڑھانا اور مختلف عمر اور ضروریات رکھنے والے صارفین کے لیے گھر کو زیادہ آسان بنانا ہے۔ منصوبے میں پرانے گھروں کی تزئین و آرائش اور بزرگوں کے لیے گھریلو ماحول کو زیادہ موزوں بنانے کے ساتھ ساتھ اسمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
چین میں صارفین کی ترجیحات میں آنے والی تبدیلی اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلے گھریلو آلات کی خریداری کا بنیادی مقصد کسی پرانی یا خراب چیز کو تبدیل کرنا ہوتا تھا، تاہم اب توجہ زیادہ آرام دہ، محفوظ اور بہتر معیار زندگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صارفین ایسی مصنوعات چاہتے ہیں جو نہ صرف خودکار انداز میں کام کریں بلکہ صحت، تحفظ، سہولت اور گھریلو نظم و نسق میں بھی مدد فراہم کریں۔
اسی تبدیلی کے تحت اسمارٹ گھریلو آلات بھی انفرادی مصنوعات سے آگے بڑھ کر پورے گھر کے مربوط نظام کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ آواز کے ذریعے چلنے والے آلات، موبائل فون سے دور بیٹھ کر گھریلو مصنوعات کو کنٹرول کرنے کی سہولت اور مختلف آلات کے درمیان رابطہ اس تبدیلی کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اس سے خاندان کے افراد گھر سے دور ہونے کے باوجود بعض گھریلو امور میں مدد کر سکتے ہیں، جبکہ بزرگ افراد کے لیے بھی کئی کام آسان ہو جاتے ہیں۔
نئے منصوبے میں اسمارٹ ہوم مصنوعات کی تیاری اور تحقیق کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ گھریلو سامان فروخت کرنے والے مراکز اور بڑے تجارتی مقامات پر اسمارٹ ہوم تجرباتی مراکز اور ایسے نمونہ گھر قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جہاں صارفین پورے گھر کے مربوط اسمارٹ نظام کو عملی طور پر دیکھ سکیں۔ اس طرح صارفین کو مختلف مصنوعات الگ الگ خریدنے کے بجائے ان کے باہمی رابطے اور مجموعی استعمال کا تجربہ بھی حاصل ہوگا۔
اس شعبے میں معیار اور باہمی مطابقت کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اسمارٹ گھریلو مصنوعات کے معیار، درجہ بندی اور جانچ کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف آلات کے درمیان رابطے اور باہمی مطابقت کے لیے لازمی قومی معیار مرتب کرنے اور نافذ کرنے کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مختلف کمپنیوں کی مصنوعات ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انداز میں کام کر سکیں اور صارفین کو مربوط نظام قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
گھریلو سامان اور تزئین و آرائش سے وابستہ کاروباروں کو ری سائیکلنگ کمپنیوں کے ساتھ تعاون کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ نئی مصنوعات گھر پہنچانے کے ساتھ پرانے سامان کو واپس لینے کا انتظام بھی کیا جا سکے۔ مقامی سطح پر گھر کی تزئین و آرائش کے مراکز قائم کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے، جہاں مرمت، ذخیرہ، ری سائیکلنگ اور سامان کی تبدیلی جیسی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی میں بزرگ افراد کی ضروریات کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ گھر میں استعمال ہونے والے خدمت گزار روبوٹس، صحت کی نگرانی کرنے والے آلات اور اسمارٹ نگہداشت کی مصنوعات کو فروغ دینے کے ساتھ ایسے ڈیزائن کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جنہیں بزرگ افراد آسانی سے استعمال کر سکیں۔ ان میں آسان آپریشن، مقامی لہجوں کو سمجھنے کی صلاحیت اور حفاظتی خصوصیات شامل ہیں۔
گھریلو خدمت گزار روبوٹس اب عملی استعمال کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔ بعض روبوٹس گھریلو صفائی جیسے بنیادی کاموں کے علاوہ خاندان کے افراد کی صحبت اور پالتو جانوروں کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ بزرگوں کی نگہداشت کے لیے تیار کیے جانے والے روبوٹس میں صحبت فراہم کرنے، نقل و حرکت میں مدد دینے اور بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کی سطح جیسے صحت سے متعلق اعداد و شمار ریکارڈ کرنے کی صلاحیت بھی شامل کی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین میں بزرگوں کی نگہداشت کے لیے روبوٹس کی مارکیٹ 2026 میں 10 ارب یوآن سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اسمارٹ ہوم کا یہ پھیلتا ہوا تصور چین میں کھپت کے مجموعی رجحان میں تبدیلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مستقبل میں توجہ صرف ایک ایک اسمارٹ مصنوعات کی فروخت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے گھر کو ایک مربوط نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش مزید نمایاں ہوگی۔ گھریلو آلات، فرنیچر، صحت کی نگرانی، حفاظتی نظام اور روبوٹس ایک دوسرے سے منسلک ہو کر ایسا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں خاموشی سے سہولت فراہم کرے۔یوں اسمارٹ ہوم کا تصور محض نئی ٹیکنالوجی اپنانے کا معاملہ نہیں بلکہ گھریلو زندگی کو زیادہ آسان، محفوظ، آرام دہ اور ضرورت کے مطابق بنانے کی ایک وسیع تبدیلی بنتا جا رہا ہے۔