چین کی قومی نشاۃ الثانیہ کا سفر
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

تاریخ کے بعض واقعات وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے، عزم اور ثابت قدمی کی علامت بن جاتے ہیں۔ چین کی تاریخ میں لانگ مارچ بھی ایسا ہی ایک تاریخی سفر ہے، جس کا جذبہ آج بھی چینی عوام کو مشکلات کا مقابلہ کرنے، نئے اہداف حاصل کرنے اور چینی طرز کی جدیدکاری کو آگے بڑھانے کی تحریک دیتا ہے۔ اس سال لانگ مارچ کی فتح کو 90 برس ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 1934 سے اکتوبر 1936 تک جاری رہنے والا یہ تاریخی سفر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں ریڈ آرمی کے جوانوں نے طے کیا۔ انہوں نے مخالف افواج کے گھیراؤ کو توڑتے ہوئے دس سے زیادہ صوبوں کا سفر کیا، تند و تیز دریاؤں کو عبور کیا، برف پوش پہاڑوں اور دشوار گزار دلدلی میدانوں کا سامنا کیا اور بے شمار مشکلات کے باوجود اپنی منزل تک پہنچے۔ یہ محض ایک فوجی مہم نہیں تھی، بلکہ چینی انقلاب کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جس نے ناکامیوں سے کامیابی کی طرف سفر کو نئی سمت دی اور قومی آزادی و عوامی نجات کی جدوجہد کے لیے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھی۔
لانگ مارچ کی اصل طاقت صرف جسمانی استقامت نہیں تھی، بلکہ وہ نظریاتی یقین، بے خوفی، قربانی، خودمختاری، حقائق کی تلاش، نظم و ضبط، اتحاد اور عوام کے ساتھ مضبوط تعلق بھی تھا جس نے اس سفر کو ممکن بنایا۔ یہی خصوصیات لانگ مارچ کے جذبے کی بنیاد بنیں اور وقت کے ساتھ چینی قوم کی اجتماعی شناخت کا حصہ بن گئیں۔
اس تاریخی تجربے سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ بڑے اہداف کے حصول کے لیے مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ثابت قدمی، اجتماعی کوشش اور واضح مقصد ضروری ہوتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چین نے انقلاب، سوشلسٹ تعمیر اور اصلاحات کے مختلف مراحل طے کیے۔ اس دوران ملک کو متعدد خطرات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے ترقی کے سفر کو جاری رکھا۔
نئے دور میں چین نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان میں ایک نمایاں کامیابی مطلق غربت کا خاتمہ اور ایک ارب 40 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے ہمہ گیر خوش حالی پر مبنی معاشرے کی تعمیر ہے۔ یہ پیش رفت طویل المدتی منصوبہ بندی، مسلسل کوششوں اور عوامی شرکت کے ذریعے ممکن ہوئی۔ لانگ مارچ کا جذبہ آج بھی اسی عزم کو تقویت دیتا ہے کہ مشکل سے مشکل ہدف بھی اجتماعی جدوجہد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
چینی طرز کی جدیدکاری کا سفر بھی آسان نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی میں خودانحصاری، اصلاحات کا تسلسل، سماجی استحکام اور مشترکہ خوش حالی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ بیرونی سطح پر چین کو ترقی کی راہ میں رکاوٹوں، یک طرفہ پالیسیوں اور تحفظ پسندی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ اندرون ملک ترقی، اصلاحات اور استحکام سے متعلق گہرے مسائل حل کرنے کی ضرورت بھی برقرار ہے۔
ایسے حالات میں لانگ مارچ کا جذبہ اس عزم کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مشکلات کے سامنے ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور بدلتے حالات کے مطابق نئے راستے تلاش کرتے رہنا چاہیے۔ چین اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے، سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان مقاصد کے حصول میں محنت، جدت، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
چین اس وقت ایک جدید سوشلسٹ ملک کی ہمہ گیر تعمیر کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس سفر میں قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ بھی اہم ترجیح ہے۔ لانگ مارچ کی تاریخ یہ پیغام دیتی ہے کہ بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط عزم اور اتحاد ناگزیر ہیں۔ چین کی قیادت اسی جذبے کے ساتھ تیز رفتار معاشی ترقی اور طویل المدتی سماجی استحکام کی کامیابیوں کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس پورے سفر میں عوام کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ لانگ مارچ کی فتح نے ثابت کیا کہ عوام میں بے پناہ دانش اور طاقت موجود ہے۔ کمیونسٹ پارٹی عوام کی خدمت کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے اور عوام کو ترقیاتی عمل کا مرکز بنانے کے تصور پر زور دیتی ہے۔ قومی نشاۃ الثانیہ کا خواب بھی اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب عوام کی حمایت، صلاحیتوں اور اجتماعی کوششوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔
سی پی سی کی قیادت کو قومی نشاۃ الثانیہ کے مقصد کے حصول کی بنیادی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ نئے دور میں پارٹی قیادت کو مضبوط بنانے اور پارٹی کے اندر سخت نظم و ضبط اور خود احتسابی کے نظام کو آگے بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام متحد ہو کر ملک کی جدیدکاری اور ترقی کے مشترکہ اہداف کی جانب بڑھیں۔
2026 سے 2030 تک کے عرصے میں چین کا ہدف ہے کہ 2035 تک سوشلسٹ جدیدکاری کو بنیادی طور پر حقیقت بنانے کی سمت فیصلہ کن پیش رفت کی جائے۔ یہ ایک طویل اور محنت طلب سفر ہے، جس کے لیے مسلسل جدوجہد، مضبوط ارادے اور قومی سطح پر اتحاد درکار ہوگا۔
نوے برس بعد بھی لانگ مارچ کی یاد محض ماضی کی ایک داستان نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے حوصلے کا سرچشمہ ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ثابت قدمی، قربانی، اتحاد اور عوام سے مضبوط تعلق کے ذریعے دشوار راستوں کو بھی عبور کیا جا سکتا ہے۔ چین کی قومی نشاۃ الثانیہ اور جدیدکاری کا سفر اسی تاریخی جذبے سے تحریک حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔