متفرق
بغیر زمرے کے مراسلے یہاں لگائے جاتے ہیں۔
-

انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی حکمتِ عملی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا میں اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل نے ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ ترقی کے نئے ماڈلز اختیار کریں۔ چین بھی اسی پس منظر میں ایسی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں معیشت کی ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔ اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا خاکہ سامنے آیا ہے جو آئندہ برسوں میں ملک کی ترقی کی سمت متعین کرے گا۔ اس منصوبے میں ماحول دوست ترقی، کاربن اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ 2035 تک جدید سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے ہدف کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے طے کیے گئے 20 اہم اشاریوں میں سے پانچ براہِ راست سبز اور کم کاربن ترقی سے متعلق ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماحول دوست ترقی کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس …
مزیدپڑھیں -

چین کی پائیدار اور معیاری ترقی کی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کی جانب سے 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیے جانے کو ملکی پالیسی سازی میں ایک حقیقت پسندانہ مگر بلند حوصلہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین داخلی و خارجی چیلنجوں کے باوجود معیاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے عزم پر قائم ہے اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کے بارے میں پالیسی سازوں کو اعتماد حاصل ہے۔ 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف تقریباً 4.5 فیصد سے 5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ بہتر کارکردگی کے لیے کوشش جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس ہدف کو چین کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے مطابق ایک متوازن اور محتاط حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات اور مالی خطرات کی روک تھام کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ یہ ہدف چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے دوران اقتصادی ترقی کو ایک معقول سطح پر برقرار رکھنے کے مقصد سے ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ چین کے لیے ایک اہم مرحلہ تصور کیا …
مزیدپڑھیں -

چین کی آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین میں ہر سال منعقد ہونے والے ’’دو اجلاس‘‘ قومی پالیسی سازی کے اہم ترین مواقع میں شمار ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں نہ صرف گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ آئندہ برسوں کی سمت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس سال یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چین پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی سالانہ نشستیں بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہیں۔ ان اجلاسوں میں مرکزی حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر غور کیا جائے گا، 2026 کے بجٹ اور ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا اور نئے پانچ سالہ منصوبے کے مسودہ خاکے پر بحث کی جائے گی، جو 2030 تک پالیسی ترجیحات کی بنیاد فراہم کرے گا۔ اس سال قانون سازی کا ایجنڈا بھی خاصا جامع ہے۔ ماحولیات، قومیتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی سے متعلق تین اہم مسودہ قوانین زیر غور آئیں گے۔ مختلف ریاستی اداروں کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ محکموں کے ذمہ داران پریس کانفرنسوں کے ذریعے اقتصادی، سماجی اور …
مزیدپڑھیں -

چین کی ویزا فری پالیسی اور سیاحتی حکمتِ عملی کے ثمرات
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کی جانب سے ویزا فری داخلے کی پالیسیوں میں نمایاں توسیع کے دو سال بعد بھی ’’چائنا ٹریول‘‘ عالمیسیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔بالخصوص اسپرنگ فیسٹیول، جو چین کا سب سے اہمروایتی تہوار ہے، غیر ملکی مہمانوں کے لیے محضسیاحت نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب کے جذباتی اور تہوارانہ پہلو سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی سہولت بخش پالیسیوں اور منظم انتظامات نے عالمی مسافروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔ چینی نئے سال کی شام کے ابتدائی اوقات میں روس سے آنے والی تین پروازیں جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان کے شہر سانیا پہنچیں، جن کے ذریعے 570 سے زائد غیر ملکی سیاح اس معروف ساحلی مقام پر پہنچے۔ امیگریشن مراکز پر مؤثر انتظامات کے باعث مسافروں کی تیز رفتار کلیئرنس ممکن بنائی گئی، جس سے ویزا فری پالیسی کے عملی فوائد نمایاں ہوئے۔ جنوبی ہائی نان سے لے کر شمالی ترین صوبہ ہیلونگ جیانگ تک غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جو نہ صرف سیاحتی مقامات کی سیر بلکہ اسپرنگ فیسٹیول کی تقریبات میں شرکت کے لیے چین کا رخ کر رہے ہیں۔ شنگھائی میں خصوصی اسپرنگ فیسٹیول سٹی واک پروگرام ترتیب دیے گئے، جہاں غیر ملکی مہمان اسپرنگ کپلٹس لکھنے، روایتی لباس پہننے اور مقامی پکوان تیار کرنے جیسے تجربات …
مزیدپڑھیں چین کی انسان نما روبوٹکس میں نئی پیش رفت کا عالمی مظاہرہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین میں گھوڑے سے منسوب سال کی آمد کے ساتھ ہی اسپرنگ فیسٹیول گالا2026 ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ تاہم اس بار یہ تقریب محض ایک ثقافتی جشن نہیں بلکہ جدید ہارڈ ٹیکنالوجی کی بھرپور نمائش بھی ثابت ہوئی۔ قومی نشریات پر انسان نما روبوٹس کی منظم اور مربوط پرفارمنس نے واضح پیغام دیا کہ چین کی روبوٹکس صنعت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور عالمی برادری اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے۔ اس سال کے اسپرنگ فیسٹیول گالا میں چین کی معروف روبوٹکس کمپنیوں کے تیار کردہ انسان نما روبوٹس نے قومی ٹیلی وژن پر مارشل آرٹس کی بے عیب پیشکش کر کے ناظرین کو حیران کر دیا۔ یونٹری روبوٹکس، میجک ایٹم، گیلیکسی جنرل اور سونگ یان پاور کے روبوٹ گروپس نے مربوط انداز میں حرکات انجام دیں، جن میں توازن، رفتار اور ردعمل کی ہم آہنگی نمایاں تھی۔ اس مظاہرے کو چین میں انسان نما روبوٹکس کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس مظاہرے کو نمایاں کوریج دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ انسان نما روبوٹس اب اسپرنگ فیسٹیول گالا کا باقاعدہ حصہ بنتے جا …
مزیدپڑھیںچین کا اسپرنگ فیسٹیول گالا 2026
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ چین میں سترہ فروری سے جشن بہار اور نئے قمری سال کا آغاز ہو چکا ہے اور اس وقت ملک بھر میں جشن بہار کی خوشیاں انتہائی جوش و خروش سے منائی جا رہی ہیں۔ چین میں ہر سال کو کسی خاص جاندار سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ نیا شروع ہونے والا سال "گھوڑے” سے منسوب سال ہے۔ چین کی ثقافت میں گھوڑا ثابت قدمی اور جدوجہد کے جذبے کی علامت ہے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی جشن بہار کی خوشیوں کا آغاز شاندار سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا سے کیا گیا۔چین میں اسجشن بہار گالا نشریات کا آغاز 1983 میں کیا گیا تھا، جو چینی ثقافت اور مختلف فنون سے مزین وسیع پیمانے پر منعقد کیا جانے والا میلہ ہے۔ جشن بہار گالا نئے قمری سال کی آمد کے موقع پر چینی قومی ٹیلی ویژن کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ گزشتہ 43 سالوں میں ا سپرنگ فیسٹیول گالا میں لاتعداد خاندان حصہ لے چکے ہیں، جبکہ اسے گنیز بک آف ریکارڈز کے مطابق سب سے زیادہ دیکھے جانیوالے ٹی وی پروگرام کی سند بھی حاصل ہے۔ نئے سال کے موقع پر کنبے کے تمام لوگوں کی ایک دوسرے سے ملاقات، ڈمپلنگ بنانا، اسپرنگ فیسٹیول گالا دیکھنا، نئے سال …
مزیدپڑھیںچین میں اسپرنگ فیسٹیول شاپنگ کے بدلتے رجحانات
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ اسپرنگ فیسٹیول، جسے چینی نیا سال بھی کہا جاتا ہے، چین میں نہ صرف ثقافتی اور سماجی اہمیت رکھتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال اس موقع پر ہونے والی "نیان ہو” یعنی تہوار کی خریداری ملکی معیشت کی سمت، صارفین کے رجحانات اور منڈی کی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ رواں برس اسپرنگ فیسٹیول سے قبل خریداری کے رجحانات نے واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ چین کی صارف معیشت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں نوجوانوں کی ترجیحات، درآمدی اشیا کی بڑھتی مقبولیت اور حکومتی پالیسیوں کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ روایتی طور پر اسپرنگ فیسٹیول کی خریداری کا مرکز خشک میوہ جات، مٹھائیاں، مشروبات اور دیگر گھریلو اشیا ہوا کرتی تھیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس روایت میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ نوجوان صارفین کی بڑھتی قوتِ خرید اور ان کی انفرادی سوچ نے تہواری اشیا کی طلب کو نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ اب خریداری محض ذخیرہ اندوزی یا روایتی علامتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ذاتی پسند، جمالیاتی ذوق اور جذباتی وابستگی اس کے اہم عناصر بن چکے ہیں۔ رواں برس مقبول تہواری اشیا میں ڈیزائنر کھلونے، …
مزیدپڑھیںچین کی متحرک سفارت کاری
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ نئے سال 2026 کے آغاز پر عالمی منظرنامہ ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں جغرافیائی کشیدگیاں ہیں، کہیں معاشی بے یقینی اور کہیں عالمی نظم و نسق کے ڈھانچوں کو درپیش چیلنجز۔ ایسے ماحول میں کسی بڑی طاقت کی خارجہ پالیسی نہ صرف اس کے اپنے مفادات کی عکاس ہوتی ہے بلکہ عالمی امن، ترقی اور استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ 2026 کے ابتدائی ہفتوں میں چین کے صدر شی جن پھنگ کی متحرک دوطرفہ اور کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے، جو اس امر کی علامت ہیں کہ چین بدلتی دنیا میں ایک مشترکہ مستقبل اور باہمی تعاون کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم ہے۔ نئے سال کے موقع پر صدر شی جن پھنگ اور روسی صدر پوٹن کے درمیان خیرسگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر صدر شی نے 2025 کا جائزہ لیتے ہوئے چین اور روس کے درمیان نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی قریبی روابط کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔ 5 …
مزیدپڑھیں-

چائنا میڈیا گروپ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان کے اشتراک سے چین پاکستان اقتصادی شراکت داری کے وسیع امکانات پر سیمینار کا انعقاد
چائنا میڈیا گروپ نے پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے جدت طرازی کا فروغ، مشترکہ خوشحالی اور چین – پاکستان اقتصادی شراکت داری کے لیے ایک نیا وژن” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا،جس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ تھے. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، اور پاکستان چین کے تجربات سے استفادہ کر کے اپنی اقتصادی ترقی کے نئے افق حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کی اقتصادی کامیابیاں اور انسانی ترقی پر مرکوز حکمت عملی پاکستان کے لیے نہ صرف سبق آموز ہیں بلکہ اسے اپنے سرمایہ کاری اور ترقیاتی اقدامات میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔ قیصر احمد شیخ نے خصوصی اقتصادی زونز میں دی جانے والی مراعات، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بزنس سہولت کاری سینٹر، آسان کاروبار ایکٹ اور جامع ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات پر روشنی ڈالی اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری کو اقتصادی ترقی میں کلیدی عنصر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین–پاکستان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دے کر نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت …
مزیدپڑھیں -

چین میں خاندانی معاونت کی نئی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین میں آبادیاتی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں قانون سازی کے ایک اہم اقدام کے تحت چینی قانون ساز بچوں کی نگہداشت (چائلڈ کیئر) خدمات سے متعلق ایک مسودہ قانون کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مجوزہ قانون ہے، جس کا مقصد تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نگہداشت کی خدمات کو باقاعدہ قانونی فریم ورک میں لانا، بچوں کے حقوق کا تحفظ مضبوط بنانا اور زچگی و پرورشِ اطفال سے متعلق ریاستی پالیسیوں کو مؤثر بنانا ہے۔ حکام کے مطابق اس قانون کی تیاری کا مقصد پالیسی رہنمائی کو قانونی تحفظ میں ڈھالنا، موجودہ نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور بچوں کی نگہداشت سے متعلق خدمات کو منظم انداز میں فروغ دینا ہے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جو پیدائش اور پرورشِ اولاد کے لیے زیادہ معاون ثابت ہو اور آبادی کی معیاری ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ چین میں خاندانی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جہاں دو آمدنی والے گھرانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں کام اور بچوں کی نگہداشت میں توازن قائم رکھنا بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج …
مزیدپڑھیں




