بچوں میں قانون پسندی اور ذمہ دار رویوں کی تربیت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

بچوں اور نوجوانوں کی تربیت صرف کتابی تعلیم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ انہیں اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور رویوں کی حدود سمجھانا بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر بلوغت کے دور میں دوستوں کا دباؤ، دوسروں سے پذیرائی حاصل کرنے کی خواہش، عزتِ نفس اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش بعض اوقات ایسے رویوں کو جنم دے سکتی ہے جو بعد میں مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ چین میں اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو قانون سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ درست رویوں اور تنازعات سے پُرامن انداز میں نمٹنے کی تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
اس مقصد کے تحت اسکولوں میں قانونی تعلیم کو روزمرہ زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طلبہ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ احترام، دوستی، دوسروں کی قبولیت اور اپنے لیے اہمیت حاصل کرنے کی خواہش فطری جذبات ہیں، لیکن انہیں قانون اور سماجی اصولوں کی حدود میں رہ کر پورا کرنا چاہیے۔ بچوں کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے، آزادانہ سوچنے، پرسکون انداز میں فیصلہ کرنے اور دوستوں کے دباؤ میں آکر غلط کام سے انکار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
نوجوانوں میں بعض اوقات دوسروں کے سامنے اپنی عزت برقرار رکھنے کی غیر معمولی فکر، توجہ حاصل کرنے کی خواہش یا دوستوں کے ساتھ اندھی وفاداری ایسے فیصلوں کا سبب بن سکتی ہے جن کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔ اسی لیے قانونی تعلیم میں صرف قوانین یاد کرانے کے بجائے ان رویوں کی بروقت نشاندہی اور اصلاح پر زور دیا جا رہا ہے۔ طلبہ کو یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تنازع کو مزید بڑھا دیتا ہے، اس لیے اختلافات کو بات چیت، تحمل اور عقلی طریقے سے حل کرنا چاہیے۔
چین میں اس مقصد کے لیے اسکولوں اور قانونی اداروں کے درمیان رابطہ بھی مضبوط کیا گیا ہے۔ 2022 میں ملک بھر میں ایک باقاعدہ نظام نافذ کیا گیا جس کے تحت پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں کم از کم ایک قانونی نائب پرنسپل مقرر کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ ذمہ داری عدالتوں، استغاثہ، پولیس یا عدالتی انتظامی اداروں سے وابستہ قانونی ماہرین کو دی جاتی ہے۔ 2024 کے اختتام تک ملک بھر میں تقریباً 40 ہزار جج اس کردار میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
قانونی شعبے سے وابستہ افراد کی شمولیت سے بچوں کو حقیقی واقعات اور عملی مثالوں کے ذریعے قانون سمجھانے میں مدد ملتی ہے۔ نابالغوں سے متعلق مقدمات کا تجربہ رکھنے والے قانونی ماہرین طلبہ کو ان خطرات کے بارے میں زیادہ مؤثر انداز میں آگاہ کر سکتے ہیں جو غلط فیصلوں، تشدد، آن لائن سرگرمیوں یا دوستوں کے دباؤ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ماہرین اسکولوں کو ممکنہ تنازعات اور خطرات کی ابتدائی شناخت اور ان سے نمٹنے کے لیے مشورہ بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
حالیہ اقدامات میں قانونی تعلیم کو مزید ہدفی اور عملی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ بچوں کو قانون اور رویوں کی حدود سے آگاہ کرنے، صحت مند دوستیوں کو فروغ دینے، منفی جذبات پر قابو پانے، تنازعات حل کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور انٹرنیٹ کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس طریقے سے قانونی تعلیم کو صرف جرم کے بعد کارروائی کے بجائے مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے احتیاطی تربیت کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کوششوں کے ساتھ نابالغوں سے متعلق جرائم کے بعض اہم اشاریوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2025 میں استغاثہ کے اداروں نے 91,573 نابالغ مشتبہ افراد کے مقدمات کو جائزے اور کارروائی کے لیے قبول کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.8 فیصد کم تھے۔ اسی سال ملک بھر کی عدالتوں نے نابالغوں سے متعلق تقریباً 38 ہزار فوجداری مقدمات نمٹائے، جن میں تقریباً 53 ہزار نابالغ شامل تھے۔
بچوں کے لیے خصوصی عدالتی نظام بھی مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ 2024 کے اختتام تک ملک بھر میں 2,700 سے زیادہ نابالغوں سے متعلق عدالتیں قائم تھیں اور 9,100 سے زیادہ جج بچوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کر رہے تھے۔ اس خصوصی نظام کا مقصد نابالغوں کے مقدمات میں ان کی عمر، ذہنی کیفیت اور مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ مناسب قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے۔
تاہم بچوں کے تحفظ کا دائرہ عدالتوں تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ خاندان، اسکول، معاشرہ، انٹرنیٹ پلیٹ فارم، حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی ابتدائی مرحلے میں ہو سکے۔ اس سوچ کے تحت کسی مسئلے کے سنگین ہونے اور عدالت تک پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے اس کی ابتدا ہی میں روک تھام اور اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔
خاندانی تعلیم سے متعلق قانون میں بھی خاندان، اسکول اور معاشرے کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ حالیہ اقدامات میں والدین کی رہنمائی، بچوں کی تربیت اور مختلف حفاظتی نظاموں کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد بچوں کو صرف قانونی نتائج سے آگاہ کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسے فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے جو ان کی اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
بچوں کی قانونی تربیت دراصل مستقبل کے ذمہ دار شہری تیار کرنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو جذبات پر قابو پانے، دوسروں کی حدود کا احترام کرنے، دوستوں کے دباؤ سے آزادانہ فیصلہ کرنے اور اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت کم عمری ہی میں حاصل ہو جائے تو بہت سے مسائل سنگین صورت اختیار کرنے سے پہلے روکے جا سکتے ہیں۔ چین میں قانونی تعلیم کو اسی وسیع تر مقصد کے تحت اسکول، خاندان اور معاشرے کے مشترکہ کردار سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔