شیونگ آن: چین کا ایک نیا شہر اور بہتر زندگی کا تصور

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

city

چین میں ایک نئے شہر کی تعمیر کا مقصد صرف بلند عمارتیں اور جدید شاہراہیں بنانا نہیں، بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں رہائش، روزگار، صحت، تعلیم اور قدرتی ماحول ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔ اسی تصور کے تحت چین کے نئے شہری منصوبے شیونگ آن میں گزشتہ نو برس کے دوران نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ کبھی کھیتوں اور اتھلی جھیلوں پر مشتمل اس علاقے میں اب ہزاروں عمارتیں، کاروباری ادارے، جنگلات اور شہری سہولتیں ایک نئی زندگی کی بنیاد بن رہی ہیں۔

اس وقت 90 سے زائد ممالک کے 180 سے زیادہ مہمان گلوبل گورننس فورم میں شرکت کے لیے یہاں موجود ہیں۔ 23 سے 25 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس فورم میں کثیرالجہتی تعاون، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ تاہم، اجلاسوں کے علاوہ شہر کا دورہ بھی شرکا کے لیے اہم ہوگا، جہاں وہ دیکھ سکیں گے کہ ایک منصوبہ بند شہر کس طرح عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔

اپریل 2017 میں قائم کیے گئے اس نئے علاقے کا بنیادی مقصد بیجنگ کے بعض غیر دارالحکومتی امور اور متعلقہ سرگرمیوں کو یہاں منتقل کرکے دارالحکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا تھا۔ اس منصوبے میں ابتدا ہی سے شہری سہولتوں اور ماحولیات کو اہمیت دی گئی۔ آج یہاں 5 ہزار 300 سے زیادہ عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں، مرکزی انتظام کے تحت کام کرنے والے سرکاری اداروں کی 400 سے زائد شاخیں اور 600 سے زیادہ ہائی ٹیک کمپنیاں اپنا کام شروع کر چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رہائش، آمدورفت، صحت اور تفریح کی سہولتیں بھی بتدریج وسعت اختیار کر رہی ہیں۔

کسی شہر کی کامیابی کا اندازہ صرف اس کی عمارتوں یا معاشی سرگرمیوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہاں رہنے والے افراد کو روزمرہ زندگی میں کتنی سہولت میسر ہے۔ اسی سوچ کے تحت یہاں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ بچوں کے لیے 75 عملی سرگرمی مراکز، نوجوانوں کے لیے 19 نائٹ اسکول اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے 80 مراکز کام کر رہے ہیں۔

رہائش کے شعبے میں بھی مختلف آمدنی اور ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ اس نظام میں کرائے پر رہنے اور مکان خریدنے، دونوں کے مواقع شامل ہیں۔ نئے آنے والے افراد کے لیے عارضی رہائش سے لے کر مستقل اپارٹمنٹ تک مختلف سطحوں پر انتظام کیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی مالی حیثیت اور ضروریات کے مطابق رہائش کا انتخاب کر سکیں۔ نئے رہائشی منصوبوں میں کم از کم 30 فیصد مکانات صرف کرائے پر دینے کے لیے مختص کرنا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیجنگ اور شیونگ آن کے درمیان انتظامی سہولتوں کو مربوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ دونوں مقامات کے درمیان 278 سرکاری خدمات کے طریقہ کار کو یکجا کیا گیا ہے، جبکہ 209 پیشہ ورانہ اسناد اور قابلیتوں کو باہمی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس سے کمپنیوں اور ان کے ملازمین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے دوران درپیش انتظامی مشکلات کم ہوئی ہیں۔

شیونگ آن کا آل اِن ون کارڈ بھی روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اب تک اس کے 8 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ کارڈ بیجنگ اور شیونگ آن میں صحت کی خدمات حاصل کرنے، ادویات خریدنے اور بس میں سفر سمیت چھ مختلف روزمرہ سہولتوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس شہر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے ساتھ قدرتی ماحول کی بحالی کو بھی اہمیت دی گئی۔ یہاں عمارتیں کھڑی کرنے سے پہلے درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 32 ہزار 200 ہیکٹر رقبے پر مشتمل نیا جنگل وجود میں آیا۔ اس منصوبے کو ’’ملینیم فاریسٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جنگلات کا رقبہ بڑھنے سے علاقے میں درختوں کی مجموعی کوریج 11 فیصد سے بڑھ کر 35.1 فیصد ہو گئی ہے۔

قدرتی ماحول کی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ بائی یانگ دیئن جھیلوں کا نظام ہے، جسے طویل عرصے سے علاقے کا قدرتی خزانہ سمجھا جاتا ہے۔ آلودگی پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر صفائی اور بحالی کا کام کیا گیا۔ 567 آلودہ مچھلی فارموں کی صفائی، 2 کروڑ 70 لاکھ مکعب میٹر سے زیادہ تہہ نشین مٹی کی نکاسی، تقریباً 212 کلومیٹر آبی راستوں کی بحالی اور 300 کلومیٹر سے زیادہ حفاظتی پشتوں کو ہٹانے کے اقدامات کیے گئے۔ اس سے جھیلوں کے 143 حصوں کے درمیان قدرتی رابطہ بتدریج بحال ہوا اور پانی کی روانی بہتر ہوئی۔

2021 سے جھیل کے پانی کا معیار مسلسل تیسرے درجے پر برقرار ہے، جو چین کے سطحی پانی کے معیار کے پانچ درجوں میں سے تیسرا بہترین درجہ ہے۔ یہ بہتری اس علاقے میں آبی ماحول کی بحالی کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

شہر اور اس کے اطراف میں 20 سے زیادہ پارک قائم کیے گئے ہیں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 4 ہزار 400 ہیکٹر ہے۔ منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو جنگل تک پہنچنے کے لیے تین کلومیٹر، سبز پٹی تک ایک کلومیٹر اور پارک تک صرف 300 میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ چھوٹے باغات اور سبز مقامات کو بھی شہری آبادی کے قریب لانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ماحولیاتی انتظام میں کچرے کی محفوظ تلفی بھی شامل ہے۔ گھریلو کچرے کی محفوظ پراسیسنگ، نئی عمارتوں میں ماحول دوست تعمیراتی طریقوں اور طبی کچرے کی محفوظ تلفی کے شعبوں میں 100 فیصد ہدف حاصل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ مختلف شعبوں میں 800 سے زیادہ ’’زیرو ویسٹ‘‘ مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جن میں دیہات، جھیلوں کے طاس اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

شیونگ آن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صرف بڑی صنعتوں تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ ان تکنیکی سہولتوں کے پیچھے مصنوعی ذہانت کی صنعت کو فروغ دینے کی وسیع تر کوشش جاری ہے۔ تحقیق، صنعتی ترقی اور عملی استعمال کو یکجا کرتے ہوئے ایسے پلیٹ فارم تیار کیے جا رہے ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی پر تحقیق، کاروباری سرگرمیوں اور تجرباتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

شیونگ آن کی تبدیلی ابھی جاری ہے، لیکن گزشتہ نو برس میں سامنے آنے والی پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک نئے شہر کی تعمیر صرف عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں۔ اس میں قدرتی ماحول کی حفاظت، عوامی سہولتوں کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور روزمرہ زندگی کو آسان بنانا بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ گلوبل گورننس فورم کے شرکا کے لیے یہاں ماحولیاتی تحفظ، تکنیکی اختراعات محض چند دلچسپ مثالیں نہیں ہوں گی، بلکہ ایک ایسے شہر کی جھلک بھی ہوں گی جو منصوبے سے نکل کر بتدریج ایک فعال شہری مرکز بن رہا ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button