جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کا امتزاج

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

05

دنیا بھر میں جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیوں میں توسیع، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ایک عالمی چیلنج بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں مختلف ممالک جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ چین بھی اس میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے جہاں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی، ڈرونز اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کو قومی پارکوں اور قدرتی محفوظ علاقوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کو زیادہ مؤثر بنایا جا رہا ہے بلکہ ماحولیاتی نگرانی اور عوامی آگاہی میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

مئی کا مہینہ شیزانگ کے ہرنوں کی افزائش نسل کے لیے ہجرت کا اہم موسم سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران ہزاروں مادہ ہرن مخصوص راستوں سے گزرتی ہیں تاکہ محفوظ علاقوں میں بچوں کو جنم دے سکیں۔ ماضی میں ان جانوروں کی نگرانی کے لیے محققین کو دشوار گزار علاقوں میں مسلسل گشت کرنا پڑتا تھا، مگر اب جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے یہ کام کہیں زیادہ آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے وابستہ تحقیقی حلقوں کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے ہرنوں کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے نگرانی کے لیے شاہراہوں اور سبزہ زاروں میں براہِ راست موجود رہنا ضروری ہوتا تھا، لیکن اب جدید ذہین نگرانی پلیٹ فارم کی مدد سے کمپیوٹر اسکرین پر بیٹھ کر حقیقی وقت میں ہجرت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اس جدید نظام میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے جنگلی جانوروں کی درست شناخت کی جاتی ہے، جس سے شاہراہوں پر گاڑیوں اور جانوروں کے درمیان تصادم کے خطرات کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں اہم نقل مکانی راستوں پر متعدد ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو پورے علاقے کی مکمل نگرانی فراہم کر رہے ہیں۔

تحفظ مراکز سے وابستہ عملے کے مطابق پہلے ہجرت کے موسم میں چوبیس گھنٹے نگرانی، ٹریفک کنٹرول اور معلومات جمع کرنے جیسے تمام کام دستی طور پر انجام دیے جاتے تھے، لیکن اب جدید پلیٹ فارم نے ان میں سے بڑی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جس سے جنگلی حیات کے تحفظ کو زیادہ سائنسی اور مؤثر بنایا گیا ہے۔

یہ علاقہ چین کے پہلے قومی پارکوں میں شامل ہے، جو 2021 میں قائم کیے گئے تھے۔ ان قومی پارکوں میں جائنٹ پانڈا نیشنل پارک،نارتھ ایسٹ چائنا ٹائیگر اینڈ لیپرڈ نیشنل پارک، ہائی نان کے بارانی جنگلات کا قومی پارک اور ووئیشان قومی پارک بھی شامل ہیں۔ یہ تمام پارکس مجموعی طور پر تقریباً دو لاکھ تیس ہزار مربع کلومیٹر محفوظ رقبے پر محیط ہیں اور ملک کی تقریباً 30 فیصد اہم زمینی جنگلی حیات کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔

جنوب مغربی چین میں قائم جائنٹ پانڈا قومی پارک میں جدید انفرا ریڈ کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو وائرلیس نیٹ ورک کے ذریعے جنگلی جانوروں کی تصاویر اور ویڈیوز حقیقی وقت میں منتقل کرتے ہیں۔

اس نظام سے جانوروں کے قدرتی ماحول میں انسانی مداخلت کم ہوئی ہے جبکہ نگرانی کا عمل مزید مؤثر بن گیا ہے۔

اس قومی پارک میں “پانڈا چہرہ شناختی ٹیکنالوجی” بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے ہر پانڈا کی شناخت اور نگرانی ممکن بنائی گئی ہے۔ اسی طرح پانڈوں کے لیے “ڈی این اے شناختی کارڈز” بھی تیار کیے گئے ہیں تاکہ ان کی افزائش، صحت اور نقل و حرکت پر بہتر انداز میں نظر رکھی جا سکے۔

دوسری جانب جنوبی چین کے بارانی جنگلات پر مشتمل قومی پارک میں تحقیقاتی اداروں کے تعاون سے نہایت نایاب ہائنان گبن بندر کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں۔ اس کے تحت نہ صرف ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنایا جا رہا ہے بلکہ بارانی جنگلات میں موجود دیگر اہم انواع کے تحفظ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

مشرقی چین کے بعض قومی پارکوں میں اسمارٹ مینجمنٹ پلیٹ فارم متعارف کرائے گئے ہیں، جو سیاحوں کی نقل و حرکت، ماحولیاتی صورتحال اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق اس جدید نظام سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مدد مل رہی ہے بلکہ سیاحتی انتظامات بھی بہتر ہوئے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عوامی آگاہی اور فطرت سے متعلق تعلیم کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ بعض مقامات پر جدید الیکٹرانک نمائشوں کے ذریعے عوام کو جنگلی حیات اور قومی پارکوں کی اہمیت سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

شمال مشرقی چین کے ایک قدرتی سائنس مرکز میں “زمین، فضا اور خلاء پر مشتمل مربوط نگرانی نظام” کی نمائش کی گئی ہے، جس میں انفرا ریڈ کیمرے، سیٹلائٹس اور ڈرونز کے ذریعے جنگلی حیات کی حقیقی وقت کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں۔ وہاں آنے والے افراد اکثر شیروں کو آرام کرتے یا اپنے بچوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں گھومتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق اگرچہ سیاح براہِ راست جنگلی جانوروں کو نہیں دیکھ سکتے، لیکن جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت اور قومی پارکوں کی کامیابیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی مطالعاتی دوروں کے لیے ان مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔

چین کے قومی پارکس قدرتی ماحولیاتی نظام کے اہم ترین حصوں پر مشتمل ہیں، جہاں منفرد قدرتی مناظر، نایاب جنگلی حیات اور غیر معمولی حیاتیاتی تنوع پایا جاتا ہے۔ چین حالیہ برسوں میں ان پارکوں کی اعلیٰ معیار کی تعمیر، نگرانی اور تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

یکم جنوری 2026 سے قومی پارکوں سے متعلق ایک نیا قانون بھی نافذ العمل ہو چکا ہے، جس میں “ماحولیاتی تہذیب کے فروغ” کو بنیادی قانونی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون میں قدرتی ماحول کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے ترقی اور تحفظ کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

رواں برس حکومتی ورک رپورٹ میں بھی محفوظ قدرتی علاقوں کو مزید مربوط اور مؤثر بنانے اور قومی پارکوں کی ترقی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق مستقبل میں قدرتی محفوظ علاقوں کے لیے مزید جامع منصوبے، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

ماحولیاتی حلقوں کے مطابق چین میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی تحفظ کا یہ امتزاج دنیا کے لیے ایک اہم مثال بنتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں جنگلی حیات کے تحفظ کو زیادہ مؤثر بنایا ہے وہیں اس نے عوامی شعور، سائنسی تحقیق اور پائیدار ترقی کے نئے امکانات بھی روشن کیے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ اقدامات عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں مزید اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button