عالمی مالیاتی نظام میں نئی تبدیلیاں اور چین کا ابھرتا کردار

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

02

دنیا اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے معاشی، تکنیکی اور جغرافیائی حالات سے گزر رہی ہے جہاں عالمی مالیاتی نظام کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجارتی تنازعات، سپلائی چین میں تبدیلیاں، جغرافیائی کشیدگی، مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی معیشت کے مستقبل سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایسے ماحول میں مختلف ممالک کے ماہرین، کاروباری شخصیات اور مالیاتی ادارے ایک ایسے متوازن نظام کی تلاش میں ہیں جو نہ صرف عالمی ترقی کو برقرار رکھ سکے بلکہ معاشی استحکام اور شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

اسی تناظر میں چین کے شہر چھنگ دو میں گلوبل فنانس فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے ماہرینِ معیشت، مالیاتی اداروں کے نمائندوں اور کاروباری حلقوں نے شرکت کی۔ فورم کا موضوع “چیلنجز سے بھرپور دنیا میں عالمی مالیاتی حکمرانی: نئے چیلنجز، نئے مواقع اور نئی پیش رفت” رکھا گیا، جس میں عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل، مصنوعی ذہانت، سبز معیشت، عالمی تعاون اور کثیرالجہتی مالیاتی ڈھانچے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فورم میں متعدد خصوصی اجلاس، تحقیقی رپورٹس، مشاورتی نشستیں اور بین الاقوامی حکمتِ عملی سے متعلق سیشنز منعقد ہوئے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت صرف رفتار نہیں بلکہ استحکام، تحفظ اور لچک جیسے عوامل کی بھی متقاضی ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی تجارتی پالیسیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی تنازعات اور سپلائی چین کی ازسرِ نو تشکیل کے باعث بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

فورم میں اس امر پر بھی اتفاق پایا گیا کہ ایک شفاف، متوازن اور قابلِ پیش گوئی کثیرالجہتی تجارتی نظام ہی عالمی معیشت کو پائیدار استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یکطرفہ معاشی پالیسیوں کے بجائے مشترکہ ترقی اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت اس فورم کا ایک اہم موضوع رہی۔ ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف صنعتی ڈھانچے کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ مالیاتی منڈیوں، سرمایہ کاری، ادائیگی کے نظام اور عالمی کاروباری ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں عالمی پیداوار اور معاشی ترقی کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ خطرات اور چیلنجز کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

فورم میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف جدید ماڈلز یا تحقیق تک محدود نہیں بلکہ اس کی اصل کامیابی صنعتی اور عملی استعمال سے وابستہ ہے۔ چین نے اپنے “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کو مرکزی حیثیت دی ہے اور مختلف شعبوں میں ان کے عملی استعمال کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب چین میں صنعت، تجارت، خدمات اور مالیاتی شعبوں کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ اے آئی سے چلنے والا تکنیکی انقلاب عالمی پیداوار، صنعت اور سرمایہ کاری کے انداز کو بدل رہا ہے۔ اس سے مالیاتی منڈیوں میں نئی توانائی پیدا ہو رہی ہے، تاہم اس کے ساتھ اثاثوں کی قیمتوں، مالیاتی خطرات اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملیوں سے متعلق نئے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ادائیگی کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مستقبل کے عالمی مالیاتی نظام کا ایک اہم عنصر قرار دیا گیا، جبکہ اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط ضوابط اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

فورم میں عالمی مالیاتی نظام کی موجودہ ساخت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صرف ایک کرنسی پر مبنی نظام عالمی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ کئی ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام جغرافیائی تنازعات اور تیزی سے ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

اس تناظر میں ایک بہتر کثیر کرنسی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ عالمی مالیاتی حکمرانی میں توازن پیدا کیا جا سکے اور مالیاتی وسائل کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق دنیا اب کرنسیوں کے درمیان ایک نئے مقابلے کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت اور مالیاتی ٹیکنالوجی مستقبل کے عالمی مالیاتی نظام کی سمت متعین کریں گی۔

فورم میں چینی کرنسی رین من بی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی گفتگو کی گئی۔ ماہرین نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام میں تنوع لانے اور معاشی استحکام پیدا کرنے کے لیے رین من بی کی بین الاقوامی حیثیت میں اضافہ اہم ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ مضبوط رین من بی نہ صرف چین کی معیشت کے مسلسل ابھار کی عکاسی کرے گا بلکہ گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک کی خواہشات اور بدلتے ہوئے عالمی معاشی رجحانات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

فورم میں مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ عالمی حالات میں تعاون، جدت، شفافیت اور کثیرالجہتی نظام ہی عالمی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سبز معیشت اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام مستقبل کی معیشت کے اہم ستون بن چکے ہیں، جبکہ عالمی استحکام کے لیے بین الاقوامی اعتماد اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر دنیا بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مالیاتی اور اقتصادی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف عالمی ترقی کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ متوازن، مستحکم اور جامع عالمی معاشی نظام کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button