صرف آئی ایس آئی ہی معطون کیوں؟

تحریرروف عامر پپا بریار
سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق کی کمال مہربانی سوویت یونین کو خطہ افغان میں شکست دینے کے منصوبہ سازوں مسلم نوجوانوں کو عسکری تربیت دینے والی CIA کی شفقت پدرانہ اور انتہاپسندی کا بیج بونے والے یہود و ہنود اور ضیائی ڈکٹیٹرشپ کے جد امجد ضیاالحق کے ناعاقبت اندیش فیصلوں اور فتنہ گریوں کا عذاب 3 دہائیوں بعد بھی دہشت گردی خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی شکل میں ملک و قوم پرپوری ان بان تان سے مسلط ہے۔ ضیائی دور شب میں بوئی جانیوالی دہشتگردی کی فصل پک کر تیار ہوچکی ہے۔ انتہاپسندوں نے پورے ملک کو ہائی جیک کررکھا ہے۔ وہ جب چاہیں کہیں خواہش کریں اور جس وقت چاہیں خود کش اٹیک کی لنکا ڈھاسکتے ہیں بم دھماکوں میں حضرت آدم کی اولاد کو راکھ بنا نے میں انتہاپسند ید طولی رکھتے ہیں۔۔پاکستان میں وقفے وقفے سے ہونیوالی قتل و غارت معصوم انسانوں کو موت کے سفر پر روانہ کرتی رہتی ہے۔چند روز قبل کراچی میں بحریہ کی دو بسوں کو خود کش بمباروں نے نشانہ بنایا۔ ابھی بہنے والے خون کی لالی ختم نہ ہوئی تھی کہ دو روز کے وقفہ سے کراچی کے کارساز علاقے میں بحریہ کی ایک بس دہشت گردوں کی پکڑ میں اگئی جس میں سوار لیڈی ڈاکٹر اور لیفٹینٹ افیسر سمیت پانچ فوجی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میڈیا نے دونوں سانحات کو خود کش حملوں کا شاخسانہ کہا مگر پولیس افیسر راجہ عمر خطاب بم دھماکوں کی ورد زبانی کررہے ہیں۔ شہر قائد میں ہونیوالی دونوں تخریب کارانہ وارداتوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس مرتبہ بذدل میر جعفروں کے ابلیسی چیلوں نے عام پبلک کی بجائے نیوی کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ایک ہی شہر میں دو روزہ وقفے کے بعد پاک نیوی کی دوسری بس بم دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے حالانکہ48 گھنٹے پہلے نیوی کی بس ہٹ ہو چکی تھی۔ یہ وہ نقطہ انجماد ہے جہاں ذہن سوچنے لگتا ہے کہ نیوی سمیت کسی ایجنسی اور سرکاری ادارے نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔ علاوہ ازیں کراچی میں خونیں وارداتوں اور ٹارگٹ کلنگ کا دھندا عروج پکڑ رہا ہے۔شہر قائد میں پچھلے بدھ کو فائرنگ تشدد اور گھیراو جلاو میںPPP اور جسقم کے8 افراد لحد نشین ہوگئے۔ قاتل کون ہیں انکے مذموم ہتھکنڈوں کا سرپرست کون ہے ؟ ان سوالات کا فوری جواب تو ممکن نہیں لیکن ایک سچائی یہ ہے کہ استعماری طاقتیں اور انکے مقامی ایجنٹ قوم کو گروہی دینی اور فروعی گروہوں میں تقسیم کرنے کا دھندہ کررہے ہیں۔ کراچی میں ایک طرف خونی کھیل کھیلا جارہا ہے تو دوسری طرف قومی سلامتی اور دفاع وطن کے لئے برسرپیکار فور سز ریاست اندرونی اور بیرونی خطرات کو بروقت بھانپ کر اسکا توڑ ڈھونڈنے والی ایجنسیوں اور کے خلاف امریکہ اور مغرب میں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے۔ دکھ تو یہ ہے کہ دشمنان دین و پاکستان تو ISI پر الزامات کی بھرمار کرتے رہتے ہیں مگر اب اہم سیاسی جماعتیں بھی ISI کو رگیدنے کی ہر دوڑ میں اگے نکلنے کے لئے بیتاب و بے چین دکھائی دیتی ہیں۔اپوزیشن لیڈر نثار علی کہتے ہیں کہISI کی سیاست میں مداخلت کا باب بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ ISI کے خلاف ثبوت ان کیمرہ سیشن اجلاس میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی بجائے ایوان کو دیں گے۔ چوہدری نثار کی فلسفیانہ گفتگو سے ذہن کے صفحہ قرطاس پر چند سوال ابھرتے ہیں۔کیا وہ تاریخ کا بھرم رکھنے کے لئے جوابات دینے کی زحمت کریں گے۔ کیا جرنیلوں اور ایجنسیوں نے80 کی دہائی میں نثار علی کے جانثار قائد نواز شریف کو تلاش کرنے سیاسی تربیت اور انہیں پنجابی لیڈر کی حثیت سے project کرنے کا اعزاز نہیں رکھتے۔1990 میں بینظیر حکومت کو عدم اعتماد کے کلہاڑے سے شہید کرنے کی سازشوں کے پس چلمن ایجنسیاں پیش پیش نہ تھیں؟ مہران بنک سیکنڈل کیا تھا؟ کیا 1988 میں مرزا اسلم بیگ نےPPP کو شکست دینے کے لئے دینی اور اینٹی بھٹوز پارٹیوں کوIJI کے بینر تلے جمع ہونے کرنے کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا؟ کیا ارمی چیف بیگ نےIJI کے فرزانوں اور دیوانوں کو14کروڑ کی خطیر رقم تقسیم نہیں کی تھی جسکا بعد میں بیگ کا اعتراف بھی سامنے اگیا۔کنفیوشس کا قول ہے دیدہ و بینا وہ ہے جو اپنی گریبان میں جھانک سکے۔ چوہدری نثار پر قوم کی جان نثار ہو مگر اعتراف کے بعد۔ ن لیگ کی رگوں میں ضیاالحق اورISI کا خون اج تک دوڑ رہا ہے ۔استعماری طاقتیں ISI کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی ISI کو القاعدہ کے جنگجووں کی طرح خطرہ اور ٹیرسٹ تنظیم کا درجہ دے رہے ہیں۔ گوانتاناموبے کو امریکی وزارت خارجہ نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا کہ اگر کسی انتہاپسند کا تعلقISI سے جڑا ہواہو تو اسے خطرناک دہشت گرد سمجھ کر تفتیش کی جائے۔گارڈین کے مطابق پاک امریکہ تعقات بگڑ سکتے ہیں۔ ابھی تک اس رپورٹ کی صحت کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر اسکا متن چند فیصد بھی درست نکلے تو پاکستان اگ بگولہ بن سکتا ہے کہ امریکہ ISI کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ عطا کرتاہے۔ امریکہ جہاں پاکستان کو ڈو مور کی دھمکیاں دیتا ہے تو وہاں اسکے ترجمان واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ باہمی ریلیشن شپ کو مساویانہ انداز میں حل کروانے کی کوشش کی جائیگی اور برادرانہ تعلقات کے استحکام کو پائیدار بنانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔ جنرل مائیک مولن پچھلے ہفتے پاکستانی یاترا پر آئے۔ امریکی آرمی چیف مائیک مولن نے ISIاور القاعدہ کے حقانی نیٹ ورک کے مابین قائم تعلقات کو ہ
دف تنقید بنا دیا۔ ISI پر طویل عرصہ سے الزام عائد کرنے والے امریکی ماہرین اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ امریکہ کی ISI پر زہریلی تنقید سے صاف عیاں ہے کہ امریکہ آئی ایس آئی کو رول بیک کرنے کے چکر میں ہیں ۔ پاکستان امریکی جنگ میں فرنٹ لائنر کردار نبھا چکا ہے مگر امریکی ISI کی وجہ سے اسلام آباد کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جو انتہائی معاندانہ رویہ اور متعصب کھیل ہے ۔ امریکہ کے استعماری عزائم و ہتھکنڈوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ امریکی پاکستان کے گردکے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی تاک میں ہیں ۔ گارڈین اخبار نے جو رپورٹس شائع کی ہیں یا داخلی سطح پر ایجنسیوں کے کردار کے متعلق جن تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے پر غور کیا جائے تو معاملات خرابی کی دہائی دینے لگتے ہیں۔ ایجنسیوں کی آئینی اور سرکاری ڈیوٹی تو یہ ہوتی ہے کہ وہ مخالفین کی صفوں میں گھس کر خفیہ معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔CIAنے تمام براعظموں میں جتنی جنگیں لڑیں اس میں CIA کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آئی ایس آئی اور دیگر مغربی ایجنسیوں کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں مسرور ہونا چاہے کہ پاکستان کے پاس ISI کی شکل میں ایسی باکمال ایجنسی ہے جسکی کارکردگی مغرب کی کسی جاسوس ایجنسی سے کم تر نہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے ISIکے خلاف جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ ISI کی ساکھ خراب کرنے کی میڈیا وار ہے۔دنیا کی ہر مخبر ایجنسی وہ چاہے سی آئی اے ہو یا را وہ موساد ہو یا خاد ساروں کا ایجنڈا مطلوبہ گروپوں میں نقب لگا کر انکے اندر گھسنا اور پھرمطلوبہ اور سیکرٹ معلومات یا فائلیوں تک رسائی کرکے اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں۔ جب روئے ارض کی تمام جاسوس ایجنسیوں کا منشور ملتا جلتا ہے تو پھر پاکستان کو ہی کیوں معطون کیا جارہا ہے؟ چند روز پہلے پاکستان کا دورہ کرنے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران امریکی شکووں کی دوکان کھولنے اور کیانی کے سچے کھرے دلائل سے مطمئن ہوکر امریکہ سدھار جانیوالے مائیک مولن نے ایک انٹریو میں دوباہ ISI کے خلاف محاز کھول دیا۔ مولن نے کہا کہ معاملات پیچیدہ ہوچکے ہیں جنہیں بیک جنبش قلم درست کرنا ممکن نہیں۔ مائیک مولن نے دور ہ پاکستان میں آرمی چیف کیانی کے ساتھ امریکی تحفظات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ جنرل کیانی کے دلائل پر وہ سرشار اور مسرورہوگئے مگر اب امریکہ میں انہیں آئی ایس آئی فوبیا ہوگیا ہے۔مائیک مولن نے کہا کہISI حقانی نیٹ ورک کے ان قاتلوں اور تخریب کاروں کی مدد کررہا ہے جو امریکیوں کو قتل کرنے میں ملوث ہیں۔ مولن نے تسلیم کیا کہ طرفین کے مابین شکررنجیاں اس مقام پر پہنچ گئی ہیں جنہیں پلک جھپکتے ختم کرنا ناممکن ہے۔وہ اس سوال پر بھی سر خم تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے جس میں پوچھا گیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس اور ڈرون حملوں کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ مولن نے گیلانی کے دورہ افغانستان کو مثبت کہا اور ساتھ ہی یہ وضاحت کی کہ پاک افغان مزاکرات میں امریکہ کو کارنر نہیں کیا جارہا۔ امریکی آرمی چیف مائیک مولن نے تصدیق کی کہ کابل سے امریکی افواج کا انخلا اسی سال شروع ہوکر 2014 تک مکمل ہوجائیگا۔ مائیک مولن سمیت صہیونی میڈیا جان بوجھ کر آئی ایس آئی کی ساکھ خراب کرنے کی گائیڈ لائن پر چل رہے ہیں۔ آئی ایس آئی امریکہ اسرائیل اور ناٹو کی آنکھوں کا شہتیر بن چکی ہے۔ پاک فوج کے سرخیل کیانی، گیلانی کی سرکردگی میں حکومتی قیادت اور صدر مملکت کے مابین باہمی احترام اور قومی اعتماد کے خوش رنگ رشتے قائم ہیں۔ تینوں بڑوں کی کوآرڈینیشن قابل دید ہے جو ملک و قوم پاک فوج اور جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے۔ ریاست کے تینوں بڑ ے ISI پر بہتان تراشی کا سخت نوٹس لیں۔ جوابی وار کرنے سے گریز نہ کیا جائے۔ تینوں تمام مسائل اور بگڑے ہوئے معاملات کا گہرائی سے جائزہ لیں اور صورتحال کے سدباب کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ بحرف آخر آئی ایس آئی پر تھوپی جانیوالی شرانگیزیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ تینوں بڑوں کو آئی ایس آئی کے ضمن میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ حکومتی قیادت اگر ریاست کے سرکا تاج ہے اگر پاک فوج عقیدت و یگانگت کی روشنی میں قوم کے دلوں کا سرور ہے تو پھرISI کروڑ پاکستانیوں کی آنکھوں کا نور ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو (DX Times Archive) یہ اردو ٹوڈے کا ایک خصوصی آرکائیو سیکشن ہے، جہاں ڈی ایکس ٹائمز کی تاریخی خبروں اور… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button