عالمی موسمیاتی گورننس کا چینی فارمولہ

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

IMG 2001

اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر فوری ردعمل کی ضرورت کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے اور عالمی معیشت کی بحالی کو کس طرح فروغ دیا جائے، یہ آج درپیش اہم ترین موضوع ہے۔

تاہم ، یہ امر قابل اطمینان ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے تواتر سے گرین ترقی کی حمایت میں اہم بیانات سامنے آئے ہیں اور کہا گیا ہے کہسائنسی اور تکنیکی اختراعات کو بروئے کار لاتے ہوئے توانائی کے وسائل، صنعتی ڈھانچے اورکھپت کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اپ گریڈنگ کوفروغ دینا چاہیے، گرین معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔ مادی ترقی اور فطرت کےتحفظ میں ہم آہنگی کے لیے نئے طریقوں کی جستجو کرنی چاہیے۔

اس ضمن میں چین جیسے بڑے ملک اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم فریق کی جانب سےہمیشہ یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ کہا گیا ہے کہ کثیر الجہتی اتفاق رائے کو برقرار رکھا جائے،تمام ممالک کی جانب سے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ عمل کی بدولت ہی وژن حقیقت بن سکتا ہے، تمام فریقوں کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے، حقیقت پسندانہ اہداف اور وژن وضع کرنا چاہیے، اور قومی حالات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

اپنی انہی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ نے ابھی حال ہی میںنیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی سمٹ سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے عالمیموسمیاتی گورننس کے حوالے سے  تین اہم تجاویز پیش کیں جن کا مختصراًاحاطہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے عالمی موسمیاتیگورننس کا چینی دانش پر مبنی ایک قابل عمل فارمولہ پیش کیا ہے۔

ان تجاویز کی روشنی میں اول، اعتماد کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ سبز اور کم کاربن والی تبدیلی وقت کا تقاضا ہے۔اگر کوئی ملک اس کے برعکس عمل کرتا ہےتو پھر بھی بین الاقوامی برادری کو صحیح سمت پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، اعتماد میں استحکام، اقدامات میں تسلسل اور شدت میں استقلال برتتے ہوئے قومی سطح پر متعین کردہشراکتوں کی تشکیل اور ان کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ عالمی موسمیاتی گورننس کے تعاون کو مزید مثبت توانائی فراہم کی جا سکے۔

دوسرا، ذمہ داریوں کو پورا کرنا لازم ہے ۔اس ضمن میں انصاف اور مساوات کو برقرار رکھنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کے ترقیاتی حق کو مکمل طور پر احترام کیا جانا چاہیے۔ عالمی سبز منتقلی سے شمال۔جنوب کے فرق کو کم کرنا چاہیے نہ کہ بڑھانا چاہیے۔ ممالک کو مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے اصول کا احترام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں قیادت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو مزید مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنی چاہیے۔

تیسرا، تعاون کو گہرا کرنا نہایت اہم ہے۔اس ضمن میں سبز ٹیکنالوجیز اور صنعتوں میں بین الاقوامی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جانا چاہیے، سبز پیداواری صلاحیت کی کمی کو پورا کیا جانا چاہیے اور معیاری سبز مصنوعات کی عالمی سطح پر آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ سبز ترقی کے فوائد دنیا کے ہر کونے تک پہنچ سکیں۔

شی جن پھنگ نے اس موقع پر چین کی نئی قومیسطح پر متعین کردہ شراکتوں کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ چین کاربن پیک لیول کے تناظر میں2035ء تک خالص گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 7 سے 10 فیصد کمی کرے گا،ہر ممکن بہتر کارکردگی کی کوشش کرے گا؛ مجموعی توانائی کی کھپت میں غیر فوسل ایندھن کے شیئر کو 30 فیصد سے زائد تک بڑھائے گا؛ ہوا اور شمسی توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت کو 2020 کے مقابلے میں چھ گنا سے زیادہ کرے گا، جسے 3600 گیگاواٹ تک لانے کی کوشش کرے گا؛ مجموعی جنگلاتی ذخیرے کی مقدار 24 ارب کیوبک میٹر سے زیادہ کرے گا؛ نیو انرجی گاڑیوں کی نئی فروخت کو مرکزی دھارے میں لائے گا؛ قومی کاربن اخراج ٹریڈنگ مارکیٹ کو بڑے اخراج والے شعبوں تک وسعت دے گا؛ اور بنیادی طور پر ایک موسمیاتی مطابقت پذیر معاشرہ قائم کرے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ اہداف پیرس معاہدے کی شرائط کے مطابق چین کی بھرپور کوششوں کےعکاس ہیں، ان اہداف کی تکمیل کے لیے چین کی جانب سے سخت محنت کے ساتھ ساتھ ایک معاون اور کھلے بین الاقوامی ماحول کی بھی ضرورت ہے، اور چین کے پاس اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا عزم اور اعتماد ہے۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ موسمیاتی ردعمل ایک فوری اور طویل مدتی کام ہے، انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے خوبصورت وژن کو حقیقت بنانے اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کریں۔

وسیع تناظر میں چینی صدر کا خطاب اس توقعاور امید کا اظہار ہے کہ تمام فریق اپنے اقدامات میں تیزی لائیں گے ، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور بنی نوع انسان کی مشترکہ کرہ ارض کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button