چین پاکستان سفارتی تعلقات کے 75 برس

تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

China Pak 75 years

بین الاقوامی سیاست میں بعض تعلقات وقتی مفادات، بدلتے ہوئے حالات یا علاقائی ضروریات کے تابع ہوتے ہیں، تاہم دنیا میں دوستانہ تعلقات کی چند مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر اعتماد، خلوص اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار رہتی ہیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی بھی انہی منفرد تعلقات میں شمار ہوتی ہے جسے نہ صرف دونوں ممالک کی قیادت بلکہ عوام بھی بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان تعلقات کو اکثر “ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے” تعلقات قرار دیا جاتا ہے۔ اکیس مئی 2026ء کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے پچھتر برس مکمل ہو رہے ہیں، جو اس لازوال دوستی کے سفر کا ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔

چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کی ثابت قدمی سے حمایت کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران عالمی سیاست میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں، کئی علاقائی اور بین الاقوامی بحران سامنے آئے، مگر پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری اور مزید مضبوط ہوتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعلقات آج دونوں ممالک کے عوام کا ایک قیمتی اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔

پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1950ء میں عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں 21 مئی 1951ء کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے، جسے چین میں آج بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان نے چین کے عالمی سفارتی روابط کے فروغ، اقوام متحدہ میں اس کی نمائندگی اور مختلف عالمی فورمز پر اس کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ چین نے بھی ہمیشہ پاکستان کے بنیادی مفادات اور قومی خودمختاری سے متعلق امور پر کھل کر حمایت فراہم کی۔

دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ وقتی سیاسی تبدیلیوں یا حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوئے۔ پاکستان اور چین کی خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ہمیشہ بنیادی اصول کے طور پر موجود رہا ہے۔ پاکستان مسلسل ایک چین کے اصول کی حمایت کرتا آیا ہے جبکہ چین نے بھی پاکستان کے اہم قومی معاملات پر ہر سطح پر بھرپور تعاون کیا ہے۔

گزشتہ پچھتر برسوں میں سیاسی، سفارتی، دفاعی، اقتصادی، ثقافتی اور عوامی روابط سمیت ہر شعبے میں تعلقات مزید وسعت اختیار کرتے گئے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت کرتے ہیں بلکہ ترقی، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشترکہ مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ فوائد کے اصولوں کو ترجیح دی ہے۔

اگر پاک چین تعلقات کے اقتصادی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، کو ان تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ 2015ء میں چینی صدر شی جن پھنگ کے تاریخی دورۂ پاکستان کے دوران اس منصوبے کو عملی طور پر نئی رفتار ملی، جسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

سی پیک نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، توانائی، مواصلات اور صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سڑکوں، موٹرویز، بندرگاہوں اور توانائی کے منصوبوں نے نہ صرف پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ اس منصوبے نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور علاقائی رابطہ سازی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ چین اس وقت پاکستان میں سب سے بڑے سرمایہ کار ممالک میں شمار ہوتا ہے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، خلائی تحقیق اور جدید سائنسی شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خلائی تحقیق کے میدان میں پاکستان کی شمولیت اور چینی خلائی پروگراموں میں تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی جہت قرار دیا جا رہا ہے۔ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید شعبوں میں تعاون سے پاکستان میں تکنیکی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

ثقافتی اور عوامی روابط بھی پاک چین تعلقات کی ایک اہم بنیاد ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف ثقافتی تقریبات، فیسٹیولز، تعلیمی تبادلوں اور عوامی سطح کے روابط کے ذریعے ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات کو قریب سے سمجھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں تعاون کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور ہزاروں پاکستانی طلبہ اس وقت چین کی مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ چین پاکستانی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں جدید سائنسی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے وسیع مواقع دستیاب ہیں۔

چینی عوام پاکستان کو “پاتھیے” یعنی فولادی بھائی کے نام سے یاد کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی عوام کے دلوں میں بھی چین کے لیے بے پناہ محبت اور احترام پایا جاتا ہے۔ یہی عوامی قربت دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط بناتی ہے اور اسے نسل در نسل منتقل کر رہی ہے۔

موجودہ عالمی حالات میں، جب دنیا کو جغرافیائی کشیدگی، اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی تنازعات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، چین اور پاکستان کے تعلقات استحکام، اعتماد اور مشترکہ ترقی کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں بلکہ گلوبل ساؤتھ کے مفادات، علاقائی استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے بھی مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔

پچھتر برس قبل دوستی کا جو پودا لگایا گیا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تعلقات مزید مضبوط، وسیع اور ہمہ جہت ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی یہ آہنی دوستی آئندہ بھی ترقی و خوشحالی کے نئے سفر طے کرتی رہے گی اور خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button