چین کا پائیدار شہری ترقی کے لیے جامع منصوبہ

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

01

جدید شہروں کی تعمیر صرف نئی عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ موجودہ شہری ڈھانچے کو بہتر، محفوظ اور زیادہ قابلِ رہائش بنانا بھی ترقی کا اہم تقاضا ہے۔ چین میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران تیز رفتار شہری ترقی اور آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی نے معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم اب ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں توجہ بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات کے بجائے موجودہ شہری علاقوں کی تجدید، بہتری اور جدید خطوط پر استوار کرنے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں چین نے 2026 سے 2030 تک کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران شہری تجدید کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، جس سے نہ صرف شہری زندگی کے معیار میں بہتری متوقع ہے بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں نئی سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

چین میں شہری آبادی کا تناسب گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ 1970 کی دہائی کے اواخر میں جہاں شہری آبادی کا تناسب 20 فیصد سے بھی کم تھا، وہیں 2025 تک یہ شرح تقریباً 68 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس تیز رفتار شہری ترقی نے لاکھوں افراد کو بہتر روزگار، تعلیم اور رہائشی سہولیات فراہم کیں، تاہم اس کے نتیجے میں متعدد پرانے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر اور بہتری کی ضرورت بھی پیدا ہوئی۔

حالیہ منصوبے کے تحت سب سے زیادہ توجہ پرانے رہائشی علاقوں کی بحالی اور جدیدکاری پر دی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق بیس سال یا اس سے زیادہ پرانی رہائشی کالونیوں کا خصوصی معائنہ کیا جائے گا اور جہاں ممکن ہوا وہاں نئی لفٹیں نصب کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ پانی اور بجلی کی پرانی لائنوں کی تبدیلی، سڑکوں کی مرمت، پارکنگ کی بہتر سہولیات، سبزہ کاری، حفاظتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔

ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار پرانی شہری رہائشی کالونیوں اور چار ہزار کے لگ بھگ شہری دیہاتوں کی ازسرِ نو تعمیر اور بہتری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لاکھوں شہری خاندانوں کے لیے رہائشی ماحول کو زیادہ آرام دہ، محفوظ اور جدید بنانا ہے۔

بعض علاقوں میں اس منصوبے کے تحت نئے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔ کچھ شہروں میں پرانی رہائشی عمارتوں کی خریداری کے بعد انہیں کم لاگت والے کرایہ کے مکانات میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد اور مختلف شعبوں سے وابستہ کارکنوں کو معیاری رہائش فراہم کی جا سکے۔ اس طریقہ کار سے ایک جانب پرانے اور کم استعمال ہونے والے رہائشی یونٹس کو نئی زندگی مل رہی ہے جبکہ دوسری جانب رہائش کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو بھی پورا کیا جا رہا ہے۔

شہری تجدیدی منصوبے کا دوسرا اہم پہلو شہری زندگی کے معیار اور سلامتی میں بہتری ہے۔ منصوبے کے تحت خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی اور مرمت کی جائے گی جبکہ زلزلوں اور دیگر قدرتی خطرات کے مقابلے میں عمارتوں کی مضبوطی بڑھانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں تقریباً پانچ لاکھ خستہ حال شہری رہائشی یونٹس کی مرمت اور بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت تین لاکھ پینسٹھ ہزار کلومیٹر طویل زیر زمین پائپ لائن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کی جائے گی۔ اس سے پانی کی فراہمی میں تعطل، گیس کے اخراج، نکاسی آب کے مسائل اور شہری سیلاب جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جدید اور ذہین پائپ لائن نظام کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ شہری خدمات کی نگرانی اور انتظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

شہروں کو زیادہ قابلِ رہائش بنانے کے لیے سبزہ کاری اور عوامی تفریحی مقامات کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق تقریباً بیس ہزار ہیکٹر رقبے پر پارکس اور سبز مقامات کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو تفریح، ورزش اور سماجی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں پرانے صنعتی علاقوں کو ثقافتی اور تفریحی مراکز میں تبدیل کرنے کے تجربات بھی کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔ بعض مقامات پر تاریخی صنعتی عمارتوں اور فیکٹریوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں عوامی تفریح، ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحت کے مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی تاریخ اور ثقافتی ورثہ محفوظ ہوا ہے بلکہ نئے معاشی مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

منصوبے کا ایک اور اہم مقصد "پندرہ منٹ کمیونٹی لائف سرکل” کا قیام ہے۔ اس تصور کے تحت شہریوں کو ان کے گھروں سے مختصر فاصلے پر روزمرہ ضروریات کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں کریانہ اسٹورز، سہولت مراکز، بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت کی خدمات، کھیلوں کی سہولیات اور دیگر عوامی خدمات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ہیکٹر رقبے پر کھیلوں کی نئی سہولیات کی تعمیر یا موجودہ سہولیات کی بہتری بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ عمر رسیدہ افراد، بچوں اور خصوصی افراد کے لیے زیادہ دوستانہ اور آسان رسائی رکھنے والی کمیونٹیز کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ماہرینِ معیشت اور متعلقہ حلقوں کے مطابق شہری تجدید کا یہ منصوبہ صرف رہائشی معیار میں بہتری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ مختلف صنعتی شعبوں کے لیے بھی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ تعمیراتی سامان، اسٹیل، گھریلو اشیاء، بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ صنعتوں میں سرمایہ کاری اور طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

تخمینوں کے مطابق پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران شہری تجدید کی مجموعی مارکیٹ کا حجم تقریباً 20 ٹریلین یوآن تک پہنچ سکتا ہے۔ صرف پرانی رہائشی کالونیوں کی بحالی پر ہی 8 ٹریلین یوآن سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ زیر زمین پائپ لائن نیٹ ورک کی بہتری کے لیے تقریباً 4 ٹریلین یوآن خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔

وسیع تناظر میں ، چین کا یہ نیا شہری تجدیدی منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ترقی کا اگلا مرحلہ صرف نئی تعمیرات تک محدود نہیں بلکہ موجودہ شہری ڈھانچے کو زیادہ محفوظ، پائیدار، ماحول دوست اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ بہتر رہائش، جدید بنیادی ڈھانچہ، سبز عوامی مقامات اور زیادہ سہولتوں سے آراستہ کمیونٹیز نہ صرف شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کریں گی بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گی۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button