چین کا صاف توانائی اور سبز معیشت کی جانب ایک اور اہم قدم
شاہد افراز خان ،بیجنگ

ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی اور کم کاربن معیشت کی جانب پیش رفت آج دنیا بھر کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چین بھی انہی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ملک نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایک نیا ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس کا مقصد 2030 سے قبل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا کر بعد ازاں اس میں مسلسل کمی لانا اور صاف توانائی پر مبنی ترقی کو مزید فروغ دینا ہے۔
ملک نے اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران کاربن پیک کے لیے ایک جامع ایکشن پلان جاری کیا، جس میں صاف توانائی کے استعمال میں اضافہ، صنعتی شعبے کی کم کاربن بنیادوں پر منتقلی اور سبز ترقی کو فروغ دینے کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
Geographic Reference
منصوبے کے مطابق 2030 تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے فی یونٹ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 2025 کی سطح کے مقابلے میں 17 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی توانائی کے استعمال میں غیر حیاتیاتی ایندھن کا حصہ بڑھا کر 25 فیصد تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2025 میں چین کی مجموعی توانائی کھپت میں غیر حیاتیاتی توانائی کا حصہ 21.7 فیصد تھا، جسے آئندہ پانچ برسوں میں 25 فیصد تک بڑھانا کاربن کے اخراج میں کمی کے قومی ہدف کے حصول کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایکشن پلان میں توانائی کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ بجلی کی اضافی طلب کو نئی نصب ہونے والی صاف توانائی کی پیداواری صلاحیت کے ذریعے پورا کیا جائے۔
عالمی توانائی منڈیوں اور نقل و حمل کے راستوں میں غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی اور چین بتدریج کوئلے پر انحصار کرنے والے توانائی نظام سے نکل کر غیر حیاتیاتی توانائی پر مبنی نظام کی جانب منتقل ہوگا، جبکہ تیل اور گیس پر طویل انحصار کے مرحلے سے بھی بڑی حد تک گریز ممکن ہوگا۔
منصوبے میں صنعتی شعبے کی سبز اور کم کاربن بنیادوں پر ترقی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت اسٹیل، الیکٹرولائٹک ایلومینیم، سیمنٹ، فلیٹ شیشہ، پیٹروکیمیکل اور کیمیائی صنعتوں میں توانائی کی بچت اور کاربن کے اخراج میں کمی کے منصوبوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی، گرین مینوفیکچرنگ اور سبز خدمات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ کم کاربن معیشت کی بنیاد مزید مستحکم ہو سکے۔
ایکشن پلان کے مطابق 2030 تک ملک بھر میں تقریباً 100 قومی سطح کے زیرو کاربن صنعتی پارکس اور 500 زیرو کاربن فیکٹریاں قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شاہراہوں اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں پر مشتمل متعدد زیرو کاربن ٹرانسپورٹ راہداریوں کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔تعمیرات کے شعبے میں کم اور زیرو کاربن حرارتی و ٹھنڈک کے نظام، گرین لائٹنگ منصوبوں، اعلیٰ کارکردگی والی ایل ای ڈی روشنی کے وسیع استعمال اور عمارتوں میں شمسی توانائی کے فوٹو وولٹائیک نظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ماحول دوست ذرائع کو فروغ دینے کے لیے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک ملک میں مجموعی گاڑیوں میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ تقریباً 30 فیصد تک پہنچانے جبکہ تجارتی نقل و حمل میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا تناسب 25 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
وسیع تناظر میں ،چین کا نیا کاربن پیک ایکشن پلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ صاف توانائی، جدید صنعت، ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور زیرو کاربن صنعتی ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ پائیدار ترقی، توانائی کے تحفظ اور چینی طرز جدیدیت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔