چین
اس حصے میں چین کے بارے میں مراسلے شایع کیے جاتے ہیں۔
-

انصاف کی حقیقی روح
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ انصاف کی حقیقی روح اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب عدالتی نظام عوام تک خود پہنچے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں جغرافیائی مشکلات، دشوار گزار راستے اور محدود سہولیات انصاف تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہوں۔ چین کے بعض دور دراز پہاڑی اور قومیتی اقلیتی علاقوں میں گزشتہ برسوں کے دوران عدالتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک منفرد ماڈل اختیار کیا گیا، جس نے نہ صرف قانونی خدمات کو آسان بنایا بلکہ عوام اور عدلیہ کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کیا۔ یہ ماڈل آج دیہی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنوب مغربی چین کے صوبہ یون نان کے نو جیانگ لیسو خوداختیار پریفیکچر میں ایک جج دینگ شینگ نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک روایتی عدالتوں کی بجائے دیہاتوں، کھیتوں اور دور افتادہ بستیوں میں جا کر مقدمات کی سماعت کی۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا تھا، جہاں بلند پہاڑ، گہری وادیاں اور دشوار گزار راستے عدالتوں تک رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیتے تھے۔ متعلقہ عدالتی عہدے دار ، جو اس وقت …
مزیدپڑھیں -

مصنوعی ذہانت سے ابھرتے نئے روزگار
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ روزگار کی نوعیت اور مستقبل کے پیشوں کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی صنعت کے فروغ کے ساتھ ایسے نئے پیشے سامنے آ رہے ہیں جن کا چند برس قبل تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں مہارتوں کی نئی طلب پیدا ہو رہی ہے۔ آج چین کے روبوٹکس جدت مراکز میں انسان نما روبوٹس کو کافی تیار کرنے، کھانے پیش کرنے اور سامان منتقل کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس عمل میں نوجوان تربیت کار ورچوئل ریئلٹی آلات اور خصوصی کنٹرولرز کی مدد سے روبوٹس کی حرکات کو بہتر بناتے ہیں۔ اس نئی ذمہ داری کو باقاعدہ طور پر "انسان نما روبوٹ ٹرینر” کا نام دیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی صنعت سے جنم لینے والے نئے پیشوں میں شامل ہے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق مصنوعی ذہانت جہاں روایتی صنعتوں میں تبدیلی لا رہی ہے، وہیں نئی صنعتوں کی ترقی کو بھی تیز کر رہی ہے۔ …
مزیدپڑھیں -

ماحول دوست جدیدیت کا ایک کامیاب نمونہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ default دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، توانائی کے بحران اور قدرتی وسائل کے تیزی سے استعمال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پائیدار ترقی کا تصور عالمی سطح پر ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔ چین نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے جس جامع حکمت عملی کو اپنایا ہے، وہ آج دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ صاف فضاء، شفاف پانی، سرسبز جنگلات، قابل تجدید توانائی اور کم کاربن طرز زندگی کے فروغ کے ذریعے چین نہ صرف اپنے ماحول کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ ایک ایسے جدید ترقیاتی ماڈل کی تشکیل بھی کر رہا ہے جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف قدرتی وسائل کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ قوم کی پائیدار ترقی اور انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم فریضہ ہے۔ شی جن پھنگ کے ماحولیاتی تہذیب سے متعلق نظریات کی رہنمائی میں چین نے سبز ترقی کو قومی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی …
مزیدپڑھیں -

قدیم تہذیب سے جدید دور تک چین کا ثقافتی تسلسل
تحریر: شاہد افراز خان دنیا کی قدیم تہذیبوں میں چند ہی ایسی تہذیبیں ہیں جو ہزاروں برس گزرنے کے باوجود نہ صرف اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہوں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل نئے سانچے میں بھی ڈھالتی رہی ہوں۔ چینی تہذیب انہی منفرد تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ پانچ ہزار سال سے زائد قدیم تاریخ کی حامل یہ تہذیب آج بھی اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے جدیدیت، اختراع اور ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ جولائی 2024 میں بیجنگ سنٹرل ایکسس کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال عالمی سطح پر زیر بحث آیا کہ آخر وہ کون سی خصوصیات ہیں جنہوں نے چینی تہذیب کو صدیوں تک زندہ، متحرک اور اثر انگیز رکھا ہے۔ بیجنگ سنٹرل ایکسس دراصل دارالحکومت بیجنگ کے قلب سے گزرنے والی تقریباً 7.8 کلومیٹر طویل تاریخی لکیر ہے جو شمال میں بیل اور ڈرم ٹاورز سے شروع ہو کر جنوب میں یونگ ڈنگ گیٹ تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس محور کے ساتھ چین کے متعدد تاریخی اور ثقافتی شاہکار واقع ہیں جن میں پیلس میوزیم، جِنگ شان پارک اور ٹیمپل آف ہیون سمیت …
مزیدپڑھیں -

غذائی تحفظ، دیہی خوشحالی اور جدید زراعت کی جانب ایک بڑا قدم
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ default دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں، غذائی تحفظ کے خدشات اور زرعی وسائل پر بڑھتے دباؤ نے زراعت کو اکیسویں صدی کے اہم ترین شعبوں میں شامل کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے زرعی اور دیہی ترقی کا ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد صرف خوراک کی پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سبز ترقی، دیہی خوشحالی اور پائیدار معاشی نمو کے ذریعے زراعت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے تحت جاری کیے گئے اس پروگرام کو چین کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم جزو قرار دیا جا رہا ہے، جو دیہی علاقوں کی ہمہ جہت ترقی اور غذائی تحفظ کے استحکام کے لیے ایک واضح لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ چین کی اسٹیٹ کونسل نے حال ہی میں زرعی اور دیہی جدیدیت کو تیز رفتار بنانے کے لیے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران متعدد اہداف، ترجیحات اور عملی اقدامات کا تعین کیا گیا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد چینی طرز جدیدیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے زراعت اور دیہی معیشت …
مزیدپڑھیں -

محفوظ، آرام دہ اور مستقبل میں نقل و حمل کی نئی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام نقل و حمل کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ جہاں سڑکوں پر خودکار گاڑیوں کی آزمائش جاری ہے، وہیں چین نے ریل کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ تیز رفتار ریل کے میدان میں چین نہ صرف دنیا کا رہنما بن چکا ہے بلکہ اس نے ذہین اور خودکار ریل نظام کی ترقی میں بھی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ جدید ٹرین کنٹرول ٹیکنالوجی، خودکار آپریشن اور انتہائی محفوظ نظام کی بدولت چین کی تیز رفتار ریل آج جدید نقل و حمل کی ایک کامیاب علامت بن چکی ہے۔ 30 دسمبر 2019 کو بیجنگ۔ژانگ جیا کھو تیز رفتار ریلوے لائن باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوئی، جو 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی دنیا کی پہلی ذہین تیز رفتار ریلوے قرار دی گئی۔ اس ریلوے لائن میں ڈرائیور کی نگرانی کے ساتھ خودکار ڈرائیونگ نظام استعمال کیا گیا، جس نے ریلوے ٹیکنالوجی میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ دوسری جانب چین میں سڑکوں پر ذہین ڈرائیونگ اور خودکار گاڑیوں کی ترقی بھی تیزی سے جاری ہے۔ ملک میں ذہین ڈرائیونگ سے لیس مسافر گاڑیوں کی شرح 68 …
مزیدپڑھیں -

سرسبز پہاڑ، صاف پانی اور ترقی کا نیا تصور
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا بھر میں ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن آج حکمرانی کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی ممالک صنعتی ترقی اور اقتصادی نمو کے حصول میں قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک ایسا ترقیاتی ماڈل اختیار کیا ہے جس میں اقتصادی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا گیا ہے۔ یہی سوچ آج چین کی سبز ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی بنیاد بن چکی ہے۔ اگست 2005 میں چین کے صوبہ زے جیانگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں یُو چھون میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جس نے بعد ازاں چین کی ماحولیاتی پالیسی کی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس وقت شی جن پھنگ صوبہ زے جیانگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی صوبائی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے ایک دورے کے دوران انہوں نے مقامی حکام سے ملاقات کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ گاؤں نے اپنی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جانے والی کان کنی اور سیمنٹ …
مزیدپڑھیں -

چین میں مصنوعی ذہانت کا صنعتی شعبوں میں عملی اطلاق
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ مصنوعی ذہانت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں ٹیکنالوجی، معیشت اور صنعت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ تاہم ایک بڑا سوال یہ رہا ہے کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز اور بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ صلاحیت کو حقیقی صنعتی اور کاروباری ضروریات سے کس طرح جوڑا جائے۔ اسی تناظر میں چین کے محققین نے ایک ایسا نیا اوپن سورس فریم ورک اور حقیقی کاروباری منظرناموں پر مبنی مقابلہ جاتی پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے جو مصنوعی ذہانت کو تجرباتی مرحلے سے نکال کر عملی صنعتی استعمال کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کو چین کی ڈیجیٹل معیشت، صنعتی جدیدیت اور مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق سے وابستہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ اس نئے نظام کا مقصد اے آئی کی صلاحیتوں اور صنعتی میدان میں اس کے عملی استعمال کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہے۔ محققین کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی صنعت اس وقت ایک بنیادی تضاد کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک جانب لارج لینگویج ماڈلز اور …
مزیدپڑھیں -

چین میں صحت عامہ کا نیا دور
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کا دارومدار ایک مضبوط اور مؤثر صحت عامہ کے نظام پر ہوتا ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں طبی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے، جدید ٹیکنالوجی کو علاج معالجے کا حصہ بنانے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان طبی سہولیات کے فرق کو کم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ اب بنیادی طبی مراکز، ڈیجیٹل صحت کے نظام اور طبی انشورنس میں اصلاحات کے ذریعے ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا مقصد ہر شہری کو معیاری، آسان اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں ہونے والے مجموعی طبی معائنوں اور علاج معالجے میں سے 52.6 فیصد بنیادی سطح کے طبی اداروں میں انجام دیے گئے، جو مسلسل پانچویں سال اضافہ ریکارڈ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پیش رفت کے لیے حکومت نے دیہی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں خدمات انجام دینے کے لیے ہزاروں ڈاکٹروں کی تربیت کا انتظام کیا، جنہیں مفت تعلیم اور رہائشی اخراجات کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ انہیں معاہدے کے تحت ان علاقوں میں خدمات انجام دینے کا پابند …
مزیدپڑھیں -

چین کا عوامی فلاح، سماجی انصاف اور مشترکہ ترقی کا نیا روڈ میپ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک اپنی قومی حکمت عملیوں کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں۔ جدید دور میں انسانی حقوق کا تصور صرف سیاسی اور شہری آزادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں تعلیم، صحت، روزگار، سماجی تحفظ، ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایک نیا قومی انسانی حقوق ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس کا مقصد عوام کو ترقی کے ثمرات سے مزید مؤثر اور منصفانہ انداز میں مستفید کرنا اور انسانی حقوق کے تحفظ کو قومی ترقی کے عمل کا بنیادی جزو بنانا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ 2026 عالمی انسانی حقوق گورننس فورم کے موقع پر جاری کیے گئے اس قومی ایکشن پلان میں عوام کو ریاستی پالیسیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق عوامی مفادات کے تحفظ، انسانی وقار کے احترام اور سماجی انصاف کے فروغ کو آئندہ پانچ برسوں کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے فروغ کو قانون …
مزیدپڑھیں

