موریطانین فورسز نے میلان کے علاقہ میں ایک فضائی حملے کے دوران اسلامک مغراب کے ایک سرکردہ رہنما کو ہلاک کر دیا ہے
نوا کچوٹ ( اے ایف پی/ آن لائن ) موریطانیہ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ موریطانین فورسز نے میلان کے علاقہ میں ایک فضائی حملے کے دوران القاعدہ سے منسلک گروپ اسلامک مغراب کے ایک سرکردہ رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2008ءسے ملک میں جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے کئے گئے حملوں کا ماسٹر مائنڈ موریطانین باشندہ طیب اولد سدی آلے جمعرات کے روز مغربی مالی کے جنگلاتی علاقے واگاڈو میں دشمن عناصر کےخلاف بمباری کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ خطرناک دہشت گرد فضائی حملے میں تباہ ہونے والی دو کاروں میں سے ایک میں سوار تھا اور اسکے ساتھ دیگر دہشت بھی تھے۔
ذرائع کے مطابق طیب اولدکی باضابطہ شناخت کر لی گئی ہے۔ اس نے موریطانیہ میں خودکش حملوں کے مشن کیلئے گاڑیاں حاصل کر رکھی تھیں اولدسدی آلے اس قسم کے آپریشنز کا اکثر انچارج رہا ہے۔
موریطانیہ انٹیلی جنس ادارے کے مطابق اولد سدی جس کی عمر نہیں بتائی گئی ہے القاعدہ اسلامک مغراب کا 2007ءکے بعد سے انتہائی مطلوب رہنما تھا، جب اس نے موریطانیہ میں اپنے سیل قائم کرنا شروع کئے اور خودکش حملوں کی منصوبے بندی کی۔
رواں سال فروری میں صدر محمد اولدعبدالعزیز اور نواکچوٹ میں فرانسیسی سفارتخانے کو خودکش حملے کا نشانہ بنانے کیلئے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں حاصل کرنے کے مبینہ آپریشنز کی اس نے نگرانی کی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ حقیقتاً خطرناک اور بے احتیاط شخص تھا اسکی موت القاعدہ اسلامک مغراب کیلئے بڑا دھچکا ہے اور یہ جرائم پیشہ گروہوں کےخلاف موریطانیہ کی بڑی کامیابی ہے۔
موریطانیہ فوج کا جمعرات کو کہنا تھا کہ اس نے مغربی مالی میں القاعدہ اسلامک مغراب کے ایک ٹھکانے کو تباہ کیا ہے جہاں سے ملک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
جون میں بھی موریطانیہ کی فوج نے دونوں ملکوں کی سرحد کے نزدیکی اس جنگل میں کارروائی کی تھی جہاں اس نے القاعدہ اسلامک مغراب کے بھاری ہتھیاروں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فوج کا کہنا تھا کہ کارروائی میں 15 ہلاکتیں ہوئی تھیں جس میں القاعدہ اسلامک مغراب کے جنگجو اور اسکے دو اہلکار بھی شامل تھے۔
دونوں ملکوں کی فوجیں اس علاقے کی کڑی نگرانی کر رہی ہیں۔ جہاں فوجی ذرائع کے مطابق القاعدہ اسلامک مغراب اپنا نیا ٹھکانہ قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔
مالی اور موریطانیہ نائیجر اور الجیریا کے ساتھ القاعدہ تنظیم کی سرگرمیوں سے شدید طور پر متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، جہاںیہ نیٹ ورک دہشت گرد حملوں، مغربی باشندوں کے اغواءاور سمگلنگ میں ملوث ہے۔
القاعدہ اسلامک مغراب نے اس وقت شمالی نائیجر میں ستمبر 2010ءسے فرانس کے چار باشندوں کو اغواءکر رکھا ہے۔