معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ملکی پیداوار کی لاگت کم سے کم ہو: سکھر ایوانِ صنعت و تجارت

سکھر: سکھر ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر جناب محمد دین، نائب صدر جناب محمد رفیق ڈوسانی، جناب سجاداللہ قریشی، جناب حاجی نورالدین آگرہ والے، جناب راشد سیٹھار ودیگر اراکینِ مجلسِ انتظامیہ نے حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں مزید1.77 روپے(ایک روپے ستتر پیسے) فی یونٹ بطور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز برائے ماہِ ستمبر 2011، وصولی کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔اُنہوں نے شنید اطلاعات کے مطابق حکومت کے زیرِ غور تجویز کہ بجلی پر دی جانی والی سبسڈی مکمل طور پر ختم کردی جائیگی، کو ملکی معیشت کےلئے انتہائی خوفناک قرار دیاکہ ایسی تجاویز پر عمل درآمد سے تمام طبقہ ہائے زندگی متاثر ہونگے بلکہ صنعتوں کی مکمل بندش بھی ہو سکتی ہے۔
اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو بہتر بنانے کیلئے مناسب اقدامات تو ایسے ہونے چاہیں کہ ملکی پیداوار کی لاگت کم سے کم ہو، تاکہ بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کیا جاسکے اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرکے اندرونِ ملک روزگار کی سہولیات بڑھائی جائیں ،جس کیلئے بجلی کی قیمتوں میں مناسب کمی اور جہاں ضرورت سمجھی جائے وہاں ٹیکس ہالیڈے دیا جائے، تاکہ پاکستان کے برآمدی اہداف پورے ہوں اور سال بہ سال ان میں بڑھوتری ہوسکے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ارد گرد موجود ممالک، خاص طور پر انڈیا اور بنگلا دیش، کی معاشی ترقی کی جانب نگاہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ ممالک میں برآمدات سے متعلق صنعتوں اور زراعت کے شعبوں کو خصوصی سبسڈیز دی جارہی ہیں، اسی بناءپر بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی کارکردگی، پاکستان سے مقابلتاً بہتر بتائی جاتی ہے ۔
حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ وسیع تناظر میں دور رس اور مثبت نتائج کے حامل اقدامات اُٹھائے اور بجلی کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ کے رجحان سے کنارہ کشی اختیار کرے ۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں