کراچی، مالیاتی اسکینڈل سے متعلق نئی آئینی درخواست

کراچی (آن لائن) سندھ ہائی کورٹ میں انجمن اسلامی اصلاح برائے معاشرہ کے امیر حاجی گل احمد نے عدالتی احکامات کے مطابق مالیاتی اسکینڈل سے متعلق نئی آئینی درخواست کی سماعت جسٹس گلزار احمد اور جسٹس محمد علی مظہر کی دو رکنی بینج میں ہوئی ۔ درخواست گذار کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تمام فریقین و ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 14دسمبر2011ء کیلئے نوٹس جاری کرنے کے احکامات صادر فرما دئیے ۔ درخواست گذار نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کانٹینینٹل ایکسچینج کمپنی اور خانانی اینڈ کالیا کے2005 ؁ء سے کاروباری روابط تھے ۔ لہذا دونوں کمپنیوں کے 2005 سے 2008 تک اکاؤنٹ چیک کرنا ضروری ہے تاکہ حوالے اور منی لانڈرنگ سے متعلق تمام حقائق سامنے آسکیں۔ خانانی اینڈ کالیا کے چیئر مین نے آئینی درخواست نمبر 829/09میں جوابی حلف نامہ 18-09-09کو داخل کیا جس کے پیرا گراف نمبر12میں لکھا گیا کہ مجھ پر ، ہماری کمپنی کے کسی ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر پر کسی قسم کا کوئی کلیم نہیں ہے اور نہ ہی ہم اپنے کسی کلائنٹ کی رقم کے دیندار ہیں جبکہ2010میں کانٹینینٹل ایکسچینج سولوشن(امریکہ) نے بہت بڑی رقم کا کلیم کردیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں کمپنیوں کی ملی بھگت ہے۔ خانانی اینڈ کالیا و کانٹینینٹل ایکسچینج و دیگر کمپنیاں دبئی میں حوالے کی رقم امریکن کمپنیوں کو فراہم کرتی تھیں اور امریکہ سے رقم پاکستان بھیجی جاتی تھی جس سے بلیک منی کو وائٹ کیا جاتا تھا اور ملک کو ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا تھا ۔ نیز امریکہ سے پاکستان میں دہشتگردی کے لئے رقم ان کمپنیوں کی معرفت بھیجی جاتی تھی اور یہ کمپنیاں ملک میں اس کام کیلئے رقم فراہم کرتی تھیں جس کی مثال سانحہ 12مئی کی ہے ۔ اگر خانانی اینڈ کالیا کا 9اور 10مئی 2007کا اکاؤنٹ چیک کیا جائے تو تمام حقائق سامنے آجائیں گے کہ کنیٹینر کی مد میں اور شہر میں 12مئی 2007کے روز دہشت گردی کیلئے بہت بڑی رقم ادا کی گئی تھی۔اور ان کمپنیوں نے سید محمد اقبال کاظمی کا اغوا کروایا ۔میری آئینی درخواست نمبر 829/09اور 901/09میں خانانی اینڈ کالیا سے تقریباً 56ارب روپے ریکوری سے متعلق انکشافات کئے گئے تھے جبکہ اس کمپنی کا کل کیپٹل 1ارب روپے ہے ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ رقم بااثر سیاسی لوگوں کی تھی اور قومی اسمبلی و الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا پر وزیر داخلہ کے انکشافات کے بعد یہ رقم نہ تو قومی خزانے میں جمع کروائی گئی اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ دستیاب ہے لہذا اس رقم سے متعلق بھی تحقیقات انتہائی ضروری ہیں ۔چونکہ یہ کیس اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت بنتا ہے لیکن اسے دوسرے سیکشن میں بنا کر ملزمان کو رعایت دی گئی ہے اور ملزمان کا زیادہ تر وقت اسپتالوں میںVIPسہولیات کیساتھ گذارا گیا اور اب انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے تاکہ بااثر لوگوں کے نام ظاہر نہ کئے جائیں۔درخواست گذار نے معزز عدالت سے استدعا کی ہے کہ معزز عدالت مندرجہ بالا واقعے سے متعلق جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم مقرر کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔ یا اعلیٰ عدالتی جج کے ذریعے تحقیقات کروائے اور رپورٹ آنے کے بعدمنی لانڈرنگ و حوالے کے ذمہ داروں کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کرنے، دیگر جرائم میں قانون کے مطابق مقدمات قائم کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔نیزجب تک مندرجہ بالا آئینی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک اس سانحہ میں ملوث تمام افراد کا نام ECLمیں ڈالنے کے احکامات صادر فرمائے تاکہ مذکورہ ملزمان ملک سے فرار نہ ہوسکیں۔ درخواست میں وفاق پاکستان، FIA، وفاقی وزارت داخلہ، خانانی اینڈ کالیا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئر مین نادرا، کانٹینینٹل ایکسچینج سلوشن(امریکہ) و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں