مسلم لیگ فنکشنل نے عیدالاضحی کے بعد رابطہ عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
کراچی، مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکریٹری امتیاز احمد شیخ نے عیدالاضحی کے بعد رابطہ عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نومبر میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ بھر میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جلسے کرے گی، فنکشنل لیگ کے جلسے پیپلز پارٹی کے حیدرآباد والے جلسے نہیں ہوں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر ڈویژنل اور ضلعی صدور وجنرل سیکریٹریز کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جام مدد علی، نصرت سحر عباسی، فقیر جادم منگریو، ماروی راشدی، رانا عبدالستار، اختر شیخ، اجمل شاہ موسوی، گلاب چانڈیو، ڈاکٹر خیر محمد ناریجو، ڈاکٹر محمد خان شر، خیر محمد جونیجو، نثار ابڑو، یاسر سائیں، کاشف خان نظامانی، ندیم مرزا، زبیر میمن، اکبر راشدی، پیر جان سرہندی اور دیگر بھی موجود تھے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیازشیخ نے کہا کہ صوبائی کونسل کے اجلاس میں پیر پگارا کے عوامی رابطہ دوروں کو حتمی شکل دی گئی ہے نومبر میں عوامی رابطہ دوروں کے سلسلے میں پیر پگارا پہلے مرحلے میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں جلسوں سے خطاب کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ فنکشنل کے جلسے پیپلز پارٹی کے سرکاری جلسوں کی طرح نہیں ہونگے ،مسلم لیگ فنکشنل کے جلسوں میں پٹواری نہیں بلکہ عوام شریک ہونگے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 سندھ اسمبلی سے منظور کرواکر سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے ،نیا بلدیاتی ایکٹ صوبے میں مزید صوبے بنانے کی ایک کوشش ہے ۔انہوں نے تاجر برادری کی جانب سے نومبر میں کی جانیوالی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت امن و امان کے قیام میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ،موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں کراچی میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اگر رینجرز بھی امن و امان قائم نہیں کرسکتی تو فوج کو بلواکر کراچی میں امن و امان قائم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس کے ذریعے مرحوم پیر پگارا پر25لاکھ روپے فوج سے لینے کا بے ہودہ الزام لگاکر پیر پگارا کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،پیرپگارا وہ شخصیت ہیں جن کے علاج کیلئے ایک روز میں کروڑوں روپے عقیدتمندوں کی جانب سے جمع کیئے جاتے ہیں ۔امتیاز شیخ نے کہا کہ انتخابات ہوں یا نہ ہوں مسلم لیگ فنکشنل نے آئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں ہیں ،اس سلسلے میں منشور بھی تیار کیا جارہا ہے جس کی تکمیل کے بعد اسے عوام میں پیش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ فنکشنل کی حکومت میں واپسی کا اگر کوئی خواب دیکھ رہا ہے تو وہ اسکی خوش فہمی ہے ،مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین استعفیٰ واپس نہیں لیں گے ،پیپلزپارٹی سے اب اسی وقت بات چیت ممکن ہوگی جب پیپلزپارٹی نئے بلدیاتی نظام کا قانون واپس لے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہر چیز کو سیاسی رنگ دے رہی ہے جو اچھی بات نہیں ہے نفیسہ شاہ پر حملہ بھی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا جس پر سیاست کی گئی ۔انہوں نے شیرازی برادری کے پیپلزپارٹی میں شمولیت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شیرازی برادری جس تیزی سے پیپلزپارٹی میں شامل ہوئی ہے اسی تیزی سے واپس مسلم لیگ فنکشنل میں آجائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ہماری درخواست پر ای پولنگ اسکیمیں بحال رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے۔ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے اقدامات سے منصفانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں گے۔ اجلاس میں سندھ کو تقسیم کرنے والے دہرے بلدیاتی نظام جس نے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھی اس پر پیر صاحب پگارا نے جو اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور سندھ کی عوام کے موقف کی بھرپور طریقے سے نمائندگی کی اس پر خراج تحسین پیش کیا گیا اور احتجاج کے دوران پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور قوم پرست جماعتوں کے ہونیو الے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور حکومت کی طرف سے خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور متاثرین سیلاب کی بحالی اور ان کی مالی امداد نہ کرنے پر حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کریں اور بحالی کیلئے اقدامات کری