ذمہ دار بتائیں وزیر اعظم کے ایک حکم پر بجلی کہاں سے آگئی اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم سب کچھ کر سکتے ہیں: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ رینٹل پاور پر کمیشن قائم نہیں کرینگے ،اللہ تعالی نے صحت دی تو فیصلہ کریں گے، ہنگاموں کے بعد وزیر اعظم کے ایک حکم پر بجلی کہاں سے آئی اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم چاہیں تو سب کچھ ہو سکتا ہے،سپریم کورٹ میں رینٹل پاور کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں 32 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے جس کی ادائیگی بل بھرنے والوں کو کرنا پڑتی ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف صرف ایک دن مظاہرے ہوئے اور وزیر اعظم کے حکم پر بجلی آگئی ،ذمہ داروں کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ ایک دن میں بجلی کہاں سے آئی ،انہوں نے کہا کہ کار کے کمپنی کے وکیل یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ انہیں کابینہ کی منظوری سے قبل ایڈوانس ادائیگی کر دی گئی تھی ،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جن کمپنیوں نے مقررہ تاریخ پر کام شروع نہیں کیا انہیں بند کیوں نہیں کیا گیا ،اشتہارات میں مشینری کی عمر سے متعلق کوئی شرط عائد نہیں کی گئی جو پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر وزارت پانی و بجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ مشینری کے لئے صرف بجلی کی مطلوبہ پیداوار ہی شرط تھی جن منصوبوں نے طے شدہ پیداوار نہیں دی ان پر جرمانے عائد کئے جائیں ،70 ارب روپے کی ادائیگیاں ماتحت عدالتوں کے حکم امتناع سے رکی ہوئی ہیں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جرمانے وصول کرنا منصوبوں کا مقصد نہیں تھا عدالت بے قاعدگیوں کی نشاندہی کریگی کرپشن کی تحقیقات متعلقہ اداروں کا کام ہے ،خواجہ طارق رحیم نے موقف اختیار کیا کہ کسی ایک منصوبے میں بھی پیمرا قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ،،کار کے رینٹل پاور کمپنی کو دیئے گئے پروجیکٹ کے لئے ملکی اور عالمی میڈیا میں اشتہار دیا گیا ہے اور تمام رینٹل پراجیکٹس کے ٹھیکے کابینہ کی منظوری سے دے دیئے گئے ،خواجہ طارق نے اپنے دلائیل میں کہا کہ جس وقت منصوبہ شروع کیا گیا اس وقت اڑھائی ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی تھی اور آئی پی پیز سے بجلی کی مطلوبہ مقدار نہیں مل رہی تھی ،جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ آئی پی پیز کو پیسے دیکر پیداوار کو بڑھایا جا سکتا تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ رینٹل پاور میں بے ضابطگیوں میں ملوث کمپنیوں کے کیسز نیب کو بھجوائے جانے چاہیے تھے ،اداروں میں کام کرنے والوں کے تبادلوں کا تماشا لگا ہوا ہے ،مقدمہ کی سماعت آج پھر ہوگی۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں