چیف جسٹس آف پاکستان سے درد مندانہ اپیل

وفاقی دارالحکومت کے علاقہ عرفان آباد (تراٹری ) میں قائم دو سی این جی اسٹیشن کی وجہ سے گھروں میں گیس نہ آنے پر اہلیان علاقہ بالخصوص لائن ایف کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان گیس سٹیشنوں کی سپلائی چند گھنٹے بند کر کے گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کی سرکاری پالیسی پر عملدرآمد کرایا جائے۔ علاقہ کے ساٹھ فیصد سے زائد معززین نے سوئی نادرن گیس کے جی ایم سے کیپٹن محمد یوسف ‘ سید انجم حسین شاہ اورچوہدری محمد امین کی سرپرستی میں ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں گیس موجود ہونے کے باوجود ہمارے چولہے صبح ساڑھے پانچ بجے سے رات بارہ بجے تک ٹھنڈے رہتے ہیں ۔ بچے اور ملازمین بغیر ناشتے کے سکول اور دفاتر جاتے ہیں ۔ رات کا کھانا سلنڈروں پر پکانے پر مجبور ہیں جبکہ ہماری ڈومیسٹک لائن پر قائم شدہ دونوں سی این جی سٹیشن (عرفان سی ایج اور جیلانی سی این جی ) پر صبح منہ اندھیرے سے رات گئے تک گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور وہ دھڑا دھڑ گیس بھر رہے ہیں ۔ طاقتور مشینوں سے گیس کھینچ رہے ہیں جس سے تقریباً پانچ سو گھر (تین سے چار ہزار نفوس پر مشتمل آبادی) گیس کوترس رہی ہے ۔ جی ایم سوئی نادرن گیس کا کہنا ہے کہ ہم مجبور ہیں 104سی این سٹیشن نے Stayلے رکھا ہے ہم ان کی گیس بند نہیں کر سکتے ۔معززین علاقہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار احمد چوہدری سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ ان جن سی این جی اسٹیشنوں کو عدالت نے Stayدے کر ہزاروں گھریلو صارفین کو گیس سے محروم کر دیا ہے اس Stayکو فوراً ختم کر کے عوام الناس پر رحم کھایا جائے ۔ جس طرح ملک میں دوسرے سی این سٹیشن کو تین دن گیس کی سپلائی کی بحال رکھنے اور تین سے چار دن بند رکھنے کا عمل جاری ہے اسلام آباد کے سی این اسٹیشنز پر بھی لاگو کیا جائے تاکہ سب کے ساتھ مساویانہ سلوک کا ادراک ہو سکے ۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں